
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک لڑکی کا نکاح ہوا اور نکاح کے وقت 3 کنال زمین بطورِ مہر طے کی گئی تھی۔ دورانِ شادی لڑکے کی والدہ کی طرف سے مشترکہ کھاتے میں سے لڑکی کو سونا دیا گیا تھا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ یہ سونا مہر میں شامل ہے یا نہیں، اور ان 14 سالوں میں مذکورہ سونا یا زیورات کی واپسی کا کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا گیا۔ پھر جس والدہ نے وہ سونا پہنایا تھا، وہ بھی فوت ہو گئیں تو ان کی فوتگی کے بعد بھی سونا واپس کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں ہوا، اور شادی کے 14 سال بعد اب شوہر (مرحوم فہیم) بھی فوت ہو گیا ہے۔ اب شوہر کی وفات کے بعد مرحوم کے ورثاء بیوہ سے اس سونے کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، لہٰذا وضاحت فرمائیں کہ کیا یہ سونا بیوہ کی ملکیت ہے یا نہیں، اور ورثاء کا واپسی کا مطالبہ کرنا کیسا ہے؟
اسی مہر (3 کنال زمین) کے حوالے سے دوسرا معاملہ یہ ہے کہ کسی ضرورت کی بنا پر اپنی جائیداد میں سے سارے بھائیوں اور بہنوں نے مل کر 6 کنال زمین فروخت کی تھی، جس میں سے 4.75 مرلہ زمین مرحوم فہیم (جو کہ ان کا بھائی ہے) نے اپنی بیوی کے نام سے مہر کی زمین میں سے فروخت کی تھی (کیوں کہ 3 کنال مہر کی زمین اسی مشترکہ کھاتے میں تھی)۔ چوں کہ اب فہیم فوت ہو چکا ہے اور اس کی بیوہ اپنے پورے مہر یعنی 3 کنال کا مطالبہ کر رہی ہے، اور جب مہر میں سے اس 4.75 مرلہ زمین کی بات آئی تو باقی بھائیوں نے کہا کہ اس زمین کی رقم ہم نے اپنے مرحوم بھائی (فہیم) کو دے دی تھی، تو سوال یہ ہے کہ وہ رقم کس کا حق تھا؟ مرحوم کا یا مرحوم کی بیوہ کا؟ اور اگر اس موجودہ وقت میں مرحوم کی بیوہ اب اس 4.75 مرلہ زمین کا مطالبہ کرتی ہے تو کیا باقی ورثاء مرحوم کی وراثت میں سے اسے یہ زمین ادا کرنے کے پابند ہیں یا نہیں؟ یاد رہے کہ زمین فروخت ہونے اور رقم کی ادائیگی کے بعد بیوہ کا شوہر (مرحوم) تقریبا پانچ سال حیات رہا تھا، مسئلے کی شرعی وضاحت فرمائیں؟
صورتِ مسئولہ میں نکاح کے وقت جو مہر (3 کنال زمین) طے پایا تھا، وہ شوہر کے ذمہ دین (قرض) تھا، اور شادی کے موقع پر ساس (لڑکے کی والدہ) کی طرف سے دیا جانے والا سونا شرعی طور پر "عاریت" (صرف پہننے کے لیے) نہیں، بلکہ عورت کی ملکیت مانا جائے گا، کیوں کہ ہمارے معاشرے میں شادی پر دلہن کو دیا جانے والا زیور عام طور پر تحفہ اور ملکیت کے طور پر ہی دیا جاتا ہے جب تک کہ کسی اور چیز کی صراحت نہ کی گئی ہو۔ چوں کہ 14 سال تک نہ تو والدہ نے اپنی زندگی میں اور نہ ہی ان کے انتقال کے بعد کسی نے اس سونے کی واپسی کا مطالبہ کیا، اس لیے یہ سونا بیوہ کی مستقل ملکیت بن چکا ہے۔ شوہر کے ورثاء کے لیے اب اس سونے کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً بالکل جائز نہیں ہے، اور وہ سونا بیوہ کا ذاتی مال ہے۔
جہاں تک مہر کی زمین (3 کنال) میں سے 4.75 مرلہ زمین فروخت کرنے کا تعلق ہے، تو چوں کہ وہ زمین مہر مقرر ہونے کی وجہ سے بیوہ کی ملکیت تھی، اس لیے اس کو بیچ کر حاصل ہونے والی رقم بھی خالصتاً بیوہ ہی کا حق تھی۔ اگر بھائیوں نے وہ رقم بیوہ کے بجائے اپنے بھائی (مرحوم شوہر) کو دے دی تھی، تو انہوں نے بیوہ کا حق اس کے اصل حق دار تک نہیں پہنچایا۔ شوہر اگرچہ اپنی زندگی میں 5 سال حیات رہا، لیکن جب تک بیوہ خود اپنی مرضی اور خوشی سے اپنے مہر کی اس رقم سے دستبردار نہ ہوئی ہو یا شوہر کو معاف نہ کیا ہو، وہ رقم شوہر کے ذمے قرض ہی رہے گی۔
چوں کہ اب شوہر انتقال کر چکا ہے، اس لیے بیوہ کا پورا مہر (3 کنال زمین یا اس کی موجودہ مالیت) شوہر کے ترکے (وراثت) میں سے تقسیمِ وراثت سے پہلے ادا کرنا لازم ہے۔ باقی ورثاء (بھائیوں وغیرہ) پر واجب ہے کہ وہ مرحوم فہیم کے کل ترکے میں سے بیوہ کو اس کا پورا مہر ادا کریں۔ اگر وراثت میں زمین موجود ہے تو بیوہ اس 4.75 مرلہ سمیت پوری 3 کنال زمین کا مطالبہ کرنے کا پورا حق رکھتی ہے، اور ورثاء مرحوم کے مال میں سے اسے یہ ادا کرنے کے پابند ہیں،بیوہ کو اس کا شرعی مہر دینے کے بعد جو ترکہ بچے گا، وہ تمام ورثاء (بشمول بیوہ کے آٹھویں حصے کے) میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
قرآن مجید میں ہے :
"وَءَاتُواْ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحۡلَةٗۚ فَإِن طِبۡنَ لَكُمۡ عَن شَيۡءٖ مِّنۡهُ نَفۡسٗا فَكُلُوهُ هَنِيٓـٔٗا مَّرِيٓـٔٗا [النساء: 4]"
ترجمہ:”اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دے دیا کرو، پھر اگر وہ اپنی خوشی سے اس (مہر) میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو اس کو مزے دار خوش گوار سمجھ کر کھاؤ (پیؤ)“(از بیان القرآن)
بدائع الصنائع میں ہے :
"وإذا طالبت المرأة بالمهر يجب على الزوج تسليمه أولا؛ لأن حق الزوج في المرأة متعين، وحق المرأة في المهر لم يتعين بالعقد، وإنما يتعين بالقبض فوجب على الزوج التسليم عند المطالبة ليتعين كما في البيع أن المشتري يسلم الثمن أولا، ثم يسلم البائع المبيع إلا أن الثمن في باب البيع إذا كان دينا يقدم تسليمه على تسليم المبيع ليتعين"
(کتاب النکاح،فصل أن يكون النكاح صحيحا،ج:2،ص:288، ط: دار الكتب العلمية)
الاشباہ والنظائر میں ہے:
" ولذا قالوا: المعروف كالمشروط، فعلى المفتى به صارت عادته كالمشروط صريحا.وهنا مسألتان لم أرهما الآن، يمكن تخريجهما على أن المعروف كالمشروط، وفي البزازية المشروط عرفا كالمشروط شرعا،ومما تفرع على أن المعروف كالمشروط لو جهز الأب بنته جهازا، ودفعه لها ثم ادعى أنها عارية، ولا بينة ففيه اختلاف؛ والفتوى أنه إن كان العرف مستمرا أن الأب يدفع ذلك الجهاز ملكا لا عارية لم يقبل قوله،"
(ج:1، ص:85،ط:دار الكتب العلمية)
موسوعہ القواعد الفقہیہ میں ہے:
"المعروف بالعرف كالمشروط بالنّصّ ،وفي لفظ: المعروف عرفًا كالمشروط شرطًا . أو المعروف بين النّاس.وفي لفظ: المعلوم بالعرف كالمعلوم بالنّصّ - أو بالشّرط ،وفي لفظ: المعروف كالمشروط . أو المعروف بالعادة،هذه القواعد تندرج تحت قاعدة (العادة محكّمة)"
(حرف المیم، القاعدة الثالثة والستون بعد الأربع مائة، ج:10، ص:749،ط:مؤسسة الرسالة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100869
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن