
پانچ سال پہلے میں نےاپنے شوہر کے خلاف عدالت میں خلع کی درخواست درج کروائی، عدالت نے تین بار مجھ سے یہ سوال کیا کہ آپ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں ، تو میں نے ہر بار انکار کیا ،اور میرے شوہر سے بھی یہی سوال ہو ا ، تو انہوں نے کہا میں اپنی بیوی کو نہیں چھوڑنا چاہتا ۔
بہرحال جج نےیوں ہی خلع کا فیصلہ کر لیا ، اور ہم دونوں میں سے کسی سے بھی دستخط نہ لیے ،تاہم فیصلہ سے قبل شوہر نے عدالت میں تحریری جواب داخل کرتے ہوئے صاف الفاظ میں درج ذیل بات لکھی تھی :
That with regard to the prayer clause the defendant pray to this Hon'able court to dissolve the marriage by way of Khula as the plaintiff is ready to fogro her dower amount in lieu of decree of Khula.The defendant has No Objection if the Court dissolve the marriage by way of Khula.
ترجمہ: جہاں تک استدعا کا تعلق ہے ،مدعا علیہ (شوہر ) اس معزز عدالت سے التجا کرتا ہے کہ اس شادی کو خلع کے ذریعے ختم کیا کر دیا جائے ، کیو ں کہ مدعیہ (بیوی ) خلع کی ڈگری کے بدلے اپنا حق مہر چھوڑنے کے لیے تیا ر ہے ۔ اگر عدالت خلع کے ذریعے شادی ختم کرتی ہے تو مدعاعلیہ (شوہر) کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔
یہ الفاظ سوال کے ساتھ جمع کردہ دستاویزات میں موجود ہیں ،اور میرے شوہر نے اس پر دستخط بھی کیاہے ، تو کیا شریعت کے مطابق میری خلع واقع ہوچکی ہے ،اور میرا شوہر سے تعلق ختم ہو چکا ہے ؟
صورت مسئولہ میں سائلہ کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق سائلہ کے شوہر نے مہر کے عوض خلع دینے پر چوں کہ رضامندی ظاہر کردی تھی (جیسا کہ درج ذیل عبارت سے معلوم ہوتاہے ):
That with regard to the prayer clause the defendant pray to this Hon'able court to dissolve the marriage by way of Khula as the plaintiff is ready to fogro her dower amount in lieu of decree of Khula.The defendant has No Objection if the Court dissolve the marriage by way of Khula.
ترجمہ: جہاں تک استدعا کا تعلق ہے ،مدعا علیہ (شوہر ) اس معزز عدالت سے التجا کرتا ہے کہ اس شادی کو خلع کے ذریعے ختم کیا کر دیا جائے ، کیو ں کہ مدعیہ (بیوی ) خلع کی ڈگری کے بدلے اپنا حق مہر چھوڑنے کے لیے تیا ر ہے ۔ اگر عدالت خلع کے ذریعے شادی ختم کرتی ہے تو مدعاعلیہ (شوہر) کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔
جس کے بعد عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کی تھی ، لہٰذا مذکورہ عدالتی فیصلہ سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہو گئی ہے ، نکاح ختم ہوگیا ہے ، سائلہ عدت طلاق ( مکمل تین ماہواریاں ) گزار کر کسی اور سے نکا ح کرنے میں آزاد ہے ، البتہ سائلہ اور اس کا سابق شوہر اگر دودبارہ رشتہ ازدواج سے منسلک ہونا چاہتے ہوں ، تو باہمی رضامندی سے نیا مہر مقرر کرکے گواہان کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں ، تجدید نکاح کے بعد شوہر کے پاس آئندہ صرف دو طلاقیں دینے کا اختیا ر ہوگا ۔
فتح القديرمیں ہے:
"وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به،فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال، هذا حكم الخلع عند جماهير الأئمة من السلف والخلف"
(کتاب الطلاق : باب الخلع ،ج:4،ص: 211،-ط :الحلبي)
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے :
"ولو خالعها على مهر.... تقع تطليقة بائنة "
(باب الخلع :الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به،ج:1،ص:490،ط:دارالفکر)
وفیه ایضاََ:
"إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدةوبعد انقضائها"
( کتاب الطلاق :فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:1،ص:473،ط:دارالفکر)
المبسوط للسرخسي میں ہے :
"ولو تزوجها قبل التزوج، أو قبل إصابة الزوج الثاني، كانت عنده بما بقي من التطليقات"
(كتاب الطلاق:باب من الطلاق،ج:6،ص: 95،مطبعة السعادة - مصر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101506
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن