بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر اگر رسم و رواج کی بنیاد پر استطاعت سے زیادہ لکھوایا گیا ہو تو اس کی ادائیگی کا حکم


سوال

 میری بیوی بہت چرب زبان ہے، میرے والدین اور میرے بھائیوں کے ساتھ انتہائی بے ادبی کے ساتھ پیش آتی ہے ۔میں صبح کاروبار کے لیے نکلتا ہوں اور رات کو بہت لیٹ آتا ہوں، بس ہمارا کاروبار ایسا ہے کہ اس وقت سے پہلے نہیں آسکتا اور ہم سب یعنی والدین اور سب بھائی ایک ساتھ ایک گھر میں رہتے ہیں، کھانا پینا ایک جگہ کرتے ہیں، تو بسا اوقات کام میں سستی یا کام نہ کرنے کی وجہ سے میری والدہ یا میرا والد صاحب یا میرا کوئی بھائی اگر اس کو یاد دہانی کرائے تو وہ فورا ایسی باتیں شروع کر دیتی ہے جس کی وجہ مخاطب کو سخت تکلیف ہوتی ہے، ایک دن یہی باتیں چل رہی تھی یا کچھ اس بھی زیادہ تو میرے ایک چھوٹے بھائی نے جو میری بیوی سے عمر میں بڑا ہے میری بیوی کو ایک دو تھپڑ لگائے، جس پر انہوں نے والدین کو فون کیا تو ان کے والدین، دو چچا اور  ماموں آگئے اور گھر بہت شور شرابہ کیا اور میری بیوی کو ساتھ لے گئے ۔اس کے بعد،  میں، میرے گھروالے اور اسی طرح میرے کئی اور رشتہ داروں نے ان سے کہا کہ  وہ اپنی بیٹی کو شوہر کے گھر پر آنے کی اجازت دیں،  لیکن ان کے والد کہتے ہیں کہ جو 15 تولہ سونا مہر نکاح فارم میں لکھا گیا ہے اس میں سے پانچ تولہ ابھی ادا کیا جائے تب بیٹی کو بھیج دیں گے، ورنہ نہیں،لیکن شوہر ایک تولہ سونا بنوانے کی بھی استطاعت نہیں رکھتا، ہم نے جو 15 تولہ سونا لکھوایا ہے وہ صرف رواج کی بنیاد پر لکھا گیا ہے، ہمارے ہاں رواج یہی ہے۔اب ایسی صورت میں ہم کیا کریں۔راہ نمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ عورت پر اپنے شوہر کے بھائیوں کی خدمت شرعاً لازم نہیں۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں شوہر کے بھائی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی بھابھی کو گھر کے کام نہ کرنے کی وجہ سے مارے، یہ عمل ناجائز ہے ،اس پر لڑکی اور اس کے گھر والوں کی ناراضگی بجا ہے ۔

 جہاں تک مہر کا تعلق ہے، تو نکاح کے وقت جو مہر مقرر کیا گیا ہو، اس کی مکمل ادائیگی شوہر پر واجب ہے، چاہے وہ رسم و رواج کے دباؤ میں آکر اپنی استطاعت سے زیادہ ہی کیوں طے کیا گیا ہو ، البتہ اگر بیوی خوش دلی سے مہر کا کچھ حصہ یا مکمل مہر معاف کرنا چاہے تو اسے شرعاً اختیار حاصل ہے۔ تاہم لڑکی کے والد کو یہ حق حاصل نہیں کہ اگر خود  بیٹی شوہر کے گھر  جانا چاہتی ہو تو وہ مہر کی ادائیگی کی بنیاد پر بیٹی کو شوہر کے گھر جانے سے روکیں ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي البحر عن الخانية:يشترط أن لا يكون في الدار أحدمن أحماء الزوج يؤذيهاونقل المصنف عن الملتقط كفايته مع الأحماء لا مع الضرائر فلكل من زوجتيه مطالبته ببيت من دار على حدة.

(قوله ونقل المصنف عن الملتقط إلخ)...والحاصل أن المشهور وهو المتبادر من إطلاق المتون أنه يكفيها بيت له غلق من دار سواء كان في الدار ضرتها أو أحماؤها."

(کتاب الطلاق، باب النفقة، 600/3، ط:سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(ثم الأصل) في التسمية أنها إن صحت وتقررت يجب المسمى".

(کتاب النکاح، الباب السابع في المھر، الفصل الأول في بيان مقدار المهر وما يصلح مهرا وما لا يصلح، ج:1، ص:303، ط:دار الفکر)

وفیه أیضاً:

"للمرأة أن تهب مالها لزوجها من صداق دخل بها زوجها أو لم يدخل وليس لأحد من أوليائها أب ولا غيره الاعتراض عليها، كذا في شرح الطحاوي."

(کتاب النکاح، الباب السابع في المھر، الفصل العاشر في هبة المهر، ج:1، ص:316، ط:دار الفکر)

شامی میں ہے:

"(ولها منعه من الوطء) ودواعيه شرح مجمع (والسفر بها ولو بعد وطء وخلوة رضيتهما) لأن كل وطأة معقود عليها، فتسليم البعض لا يوجب تسليم الباقي (لأخذ ما بين تعجيله) من المهر كله أو بعضه (أو) أخذ (قدر ما يعجل لمثلها عرفا) به يفتى، لأن المعروف كالمشروط (إن لم يؤجل) أو يعجل (كله) فكما شرطا،،،،،، وعن الثاني لها منعه إن أجله كله وبه يفتى استحسانا ولوالجية."

(کتاب النکاح، باب المھر،مطلب في منع الزوجة نفسها لقبض المهر، 143/3، ط:سعید)

حضرت  مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ  ’’بہشتی زیور‘‘ میں خواتین کو خطاب کرکے تحریر فرماتے ہیں:

’’جب  تک  ساس خسر  زندہ  رہیں ان کی خدمت کو، ان کی تابع داری کو فرض جانو، اور اسی میں اپنی عزت سمجھو، اور ساس نندوں سے الگ ہوکر رہنے کی ہرگز فکر نہ کرو، ساس نندوں سے بگاڑ ہوجانے کی یہی جڑ ہے، خود سوچو کہ ماں باپ نے اسے پالا پوسا اور بڑھاپے میں اس آسرے پر اس کی شادی بیاہ کیا کہ ہم کو آرام ملے اور جب بہو آئی، ڈولے سے اترتے ہی یہ فکر کرنے لگی کہ میاں آج ہی ماں باپ کو چھوڑدیں ۔۔۔ جو کام ساس نندیں کرتی ہیں تو اس کے کرنے سے عار نہ کرو، تم خود بے کہے ان سے لے لو اور کردو، اس سے ان کے دلوں میں تمہاری محبت پیدا ہوجائے گی۔‘‘

(بہشتی زیور، حصہ پنجم،ص:285، ط: اسلامک بک سروس)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101357

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں