بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مہر میں مقرر سونے کے کیرٹ کے متعلق اختلاف کاحکم


سوال

ایک شخص کی شادی ہوئی، اور حق مہر میں تین تولہ سونا مقرر کیا گیا،  اس وقت اس  بات کی تعیین نہیں کی گئی کہ  کتنے کیرٹ کا سونا دیا  جائے گا، اس  کی وجہ یہ تھی عموماً 24 کیرٹ کا ہی دیا جاتا ہے، کچھ عرصہ بعد ( جب  رخصتی ہوگئی تھی ، دو سال ساتھ رہنے کے بعد) طلاق ہوگئی، اب مہر کی ادا ئیگی کا مطالبہ ہوا تو لڑکی نے 24 کیرٹ کے سوناکا مطالبہ کیا، جب کہ مرد 18 کیرٹ کا سونا  دے رہا ہے، لڑکی کا کہنا ہے کہ ہمارے خاندان میں 24 کیرٹ  کا سونا ہی دیا جا تا ہے۔

سوال یہ ہے کہ حق مہر میں کتنے کیرٹ کا سونا دیا جائے ، شرعاً  دونوں میں سے  کس کے قول پر فیصلہ کیا جائے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب  مذکورہ شخص نے  نکاح کے وقت مہر میں تین تولہ سونا مقرر کیا تھا، لیکن سونے کے کیرٹ کی تعیین نہیں کی گئی بلکہ  سونے کا  مطلق ذکر کیا تھا، تو اب  طلاق کے ذریعہ جدا ئی کی صورت میں شوہر پر شرعاً 24 کیرٹ کے سونے کی ادائیگی ہی لازم ہے۔

العناية شرح الهداية  میں ہے:

"والمطلق ينصرف إلى ‌الفرد ‌الكامل."

(کتاب الصید ، فصل فی الرمی، ج: 10، ص:131، ط: دار الفکر)

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

«‌لأن ‌المطلق ينصرف إلى المعتاد والمتعارف فيما لم يشترط،»

(الکتاب الثانی الإجارۃ، المادۃ:  572، ج: 1، ص: 658، ط: دار الجیل)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707101854

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں