بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مگرمچھ، کچھوا، میہ، شیشی میہ یعنی کٹل فش، کیکڑا اور لابسٹرکی بیع کا حکم


سوال

مگرمچھ، کچھوا، میہ، شیشی میہ (کٹل فش)، کیکڑا اور لابسٹر  وغیرہ کے کاروبار کا کیا حکم ہے؟ چائنیز کو بیچنا اور وہ عموما اس کو کھاتے ہیں۔ تو کیا یہ رقم حلال ہوگی؟ 

جواب

سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی کھانا حلال ہے۔ مذکورہ چیزیں (مگرمچھ، کچھوا، میہ، شیشی میہ (کٹل فِش)، کیکڑا اور لابسٹر) چونکہ مچھلی کے قبیل سے نہیں ہیں، اس لیے ان کا کھانا اور کھانے کے لیے  بیچنا جائز نہیں ہے، اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال نہیں ہوگی، کیوں کہ مسلمان کے لیے شریعتِ مطہرہ میں جو چیز حرام ہے، اس حرام چیز کا خریدنا، فروخت کرنا یا کسی کو فراہم کرنا بھی حرام ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"أما الذي يعيش في البحر فجميع ما في البحر من الحيوان يحرم أكله إلا السمك خاصة فإنه يحل أكله إلا ما طفا منه".

(کتاب الذبائح، الباب الثاني في بيان ما يؤكل من الحيوان وما لا يؤكل، ج:5، ص:289، ط:دار الفکر)

البحر الرائق میں ہے:

"(لا الأبقع - الذي يأكل الجيف - والضبع والضب والزنبور ‌والسلحفاة والحشرات والحمر الأهلية والبغل) يعني: هذه الأشياء لا تؤكل...

وأما الضب والزنبور ‌والسلحفاة والحشرات فلأنها من الخبائث وقد قال تعالى {ويحرم عليهم الخبائث} [الأعراف: 157]."

(كتاب الذبائح، ج:8، ص:195، ط:دار الکتاب الإسلامي)

الحيوان للجاحظ میں ہے:

"وليس أيضا ‌كلّ ‌عائم ‌سمكة، وإن كان مناسبا للسمك في كثير من معانيه. ألا ترى أنّ في الماء كلب الماء، وعنز الماء، وخنزير الماء؛ وفيه الرّقّ والسّلحفاة، وفيه الضّفدع وفيه السرطان، والبينيب، والتّمساح والدّخس والدّلفين واللّخم والبنبك، وغير ذلك من الأصناف. والكوسج والد اللّخم، وليس للكوسج أب يعرف. وعامّة ذا يعيش في الماء، ويبيت خارجا من الماء، ويبيض في الشطّ ويبيض بيضا له صفرة، وقيض وغرقئ، وهو مع ذلك ممّا يكون في الماء مع السمك".

(مقدمة، قبيل تقسيم الحيوان، ج:1، ص:27، ط: دار الکتب العلمية)

إعلاء السنن میں ہے: 

"فكل ما كان من جنس السمك لغةً وعرفاً فهو حلال بلاخلاف، كالسقنقور والروبيان ونحوهما."

(کتاب الذبائح، ج:17، ص:188، ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(كما لا يجوز) بيع هوام الأرض كالخنافس والقنافذ والعقارب والوزغ والضب (و) لا هوام (البحر كالسرطان) وكل ما فيه سوى سمك.

(قوله سوى سمك) عبارة البحر عن البدائع إلا السمك وما جاز الانتفاع بجلده أو عظمه اهـ".

(کتاب البیوع، ج:5، ص:227، ط:سعید)

المحیط البرہانی میں ہے:

"ولا يجوز بيع هوام الأرض كالحية والعقرب والوزغ، وما أشبه ذلك؛ لأن لانتفاع بهذه الأشياء حرام ومحليته يعتمد جواز الانتفاع بها، ولا يجوز بيع ما يكون في البحر كالصفد والسرطان وغيره إلا السمك، وما يجوز الانتفاع بجلده أو عظمه، والحاصل: أن ‌جواز ‌البيع ‌يدور ‌مع ‌حل ‌الانتفاع، وسيأتي بيان ذلك بعد هذا إن شاء الله تعالى."

(کتاب البیع، الفصل السادس: فيما يجوز وما لا يجوز بيعه، ج:6، ص:347، ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707102482

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں