بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مغرب کے وقت میں امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف اور قول راجح کی ترجیح


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:

مغرب اور عشاء کی نماز کے مابین کتنا فاصلہ ہے؟
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک گھنٹہ اور پندرہ منٹ، یعنی 75 منٹ کا فاصلہ ہے، اور یہ فاصلہ ہر موسم میں یہی متعین ہے، گویا تاقیام قیامت یہی مسئلہ ہے اور بس۔اسی طرح قریبی رائے فتاویٰ فریدیہ اور فتاویٰ حقانیہ کے بعض فتاویٰ کی عبارات سے بھی مترشح ہے کہ 75 منٹ کا فاصلہ پایا جاتا ہے، اگرچہ احتیاط کی بات بھی لکھی گئی ہے کہ احتیاطاً اس سے زیادہ مقدار پر نماز کھڑی کی جائے۔
فتاویٰ حقانیہ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ مقدار کی کوئی تحدید نہیں، البتہ مغرب کی اذان کے بعد سوا گھنٹہ (75 منٹ) بعد عشاء کی اذان دینی چاہیے اور فتاویٰ حقانیہ کی یہ بات مطلق ہے کہ بس اذان دینی چاہیے، چاہے جو بھی موسم ہو۔
جبکہ اکثر علماءِ محققین اور ملک کے نامور مفتیانِ کرام کی تحقیق یہ ہے کہ یہ مذکورہ بالا مقدار موسموں کی تبدیلی کی وجہ سے متغیر ہو جاتی ہے، موسم گرما، سرما اور درمیانی موسموں میں یہ مقدار یکساں نہیں رہتی۔عموماً موسم گرما میں یہ مقدار زیادہ ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ ایک گھنٹہ 35 منٹ، بلکہ 38 یا 39 منٹ یعنی 95 منٹ تک بھی پہنچ جاتی ہے، اور کم و بیش بھی ہو جاتی ہے۔کم سے کم مقدار عمومی طور پر موسم سرما میں ایک گھنٹہ پندرہ منٹ تک، اور کم و بیش ہو جاتی ہے۔بہرحال، یہی 75 منٹ کی مقدار متعین و محدود ہر موسم میں نہیں ہے۔

اور اس رائے پر اکثر فتاویٰ جات، مثلاً فتاویٰ دارالعلوم دیوبند وغیرہ دال ہیں اور کراچی کے بڑے دارا الافتاء اور بیرونِ ملک کے علماء اور ماہرین فلکیات کی بھی یہی تحقیق ہے کہ جو 15 درجہ یا 18 درجہ کا قول ہے، اکثر نے 18 درجہ پر فتویٰ دیا ہے، اور اہلِ تحقیق و ماہرینِ فلکیات نے بھی اسی 18 درجہ کی تحقیق کو درست پایا ہے۔

اسی طرح موجودہ علماء و مفتیانِ کرام اور ماہرینِ فلکیات کے تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر جو آج کل رائج نقشہ جات ہیں، ان میں بھی عشاء کا وقت تاخیر سے داخل ہونے کا ذکر موجود ہے۔ان نقشہ جات میں بھی ایسا نہیں کہ ہر ماہ میں یہی 75 متعین منٹس درج ہوں، بلکہ موسم اور ایّام کی تبدیلی کے لحاظ سے الگ الگ اوقات درج ہیں۔اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ مفتی بہ قول شفقِ ابیض ہے جو کہ امام صاحب کا قول ہے، صاحبین کا قول ( شفق احمر ) مفتی بہ نہیں ہے۔

نیز امام صاحب کا قول، اور 18 درجہ کا قول لینے میں احتیاط بھی ہے اور استحباب بھی، بہ نسبت صاحبین کے قول کے۔
مذکورہ بالا تفصیل کی بنیاد پر فتویٰ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر معلوم ہوتا ہے اور عشاء کو اگر ہم ابتدائی ثلث (ایک تہائی) وقت تک، جو کہ وقتِ مستحب ہے، مؤخر نہیں کر سکتے، تو کم از کم امام اعظم رحمہ اللہ کے قول کے مطابق مؤخر نہ کیا جائے۔

البتہ علامہ حصکفی رحمہ اللہ نے الدر المختار میں، علامہ شامی رحمہ اللہ نے رد المحتار میں، اور اسی طرح شرح وقایہ میں مفتی بہ قول صاحبین کا لکھا ہے۔

اب اس بارے میں ہم بھی متردد ہیں کہ کس قول کو لیا جائے؟ ہم کس پر عمل کریں؟

شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اس مسئلہ میں ہماری راہنمائی فرما کر ایک ایسا مستحکم جواب و فتویٰ صادر فرمایا جائے جس پر سب یکساں عمل پیرا ہوں، اور اسی قول کو لے کر ہمیشہ عمل کیا جا سکے۔

یہ بھی واضح فرمائیں کہ:کیا 75 منٹ کی تحدید ہر موسم میں ہے؟یا گرمیوں میں فاصلہ اس سے زیادہ ہو جاتا ہے؟اور مفتی بہ قول کی بھی نشاندہی فرما دیجیے گا۔

مذکورہ چند مختصر معروضات اس لیے پیش کی گئی ہیں تاکہ ان تمام باتوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ہماری راہنمائی فرمائی جائے، تاکہ عوام کے لیے یہ مسئلہ واضح ہو جائے اور عبادات میں کسی قسم کا خلل نہ آئے۔

جواب

مغرب کا وقت شفق کے غروب ہونے تک رہتا ہے، اور شفق کا غروب مختلف علاقوں، موسموں اور مہینوں کے لحاظ سے مختلف وقت پر ہوتا ہے،  سردیوں میں وقت کم اور گرمیوں میں کچھ زیادہ ہوجاتا ہے ، اس لیے مغرب کے وقت کی تحدید ہر موسم میں 75 منٹ کے ساتھ نہیں کی جاسکتی۔

 شفق کی تفسیر میں دو قول ہیں: اول یہ کہ اس سے مراد شفق احمر ہے، یہ صاحبین کا قول ہے، دوم یہ کہ اس سے مراد شفق ابیض ہے، یہ امام صاحب کا قول ہے۔بحر، بدائع، فتح القدیر، التصحیح والترجیح علی مختصر القدوری اور شرح مختصر الطحاوی میں بوجوہ امام صاحب کے قول کو ترجیح دی گئی ہے، نیز اسی میں احتیاط بھی ہے، اس لیے امام صاحب کے قول پر عمل کرنا چاہیے، اور چوں کہ سفیدی کا سمجھنا عام لوگوں کے لیے دشوار ہے،  اس لیے نمازوں کے اوقات کے سلسلے میں جو جنتری محقق علماءِ کرام سے تصدیق شدہ ہے، اس سے استفادہ کیا جائے ،یعنی معتبر دائمی نقشہ اور گھڑی کے مطابق اوقات نماز کا خیال رکھا جائے، نیز ہماری ویب سائٹ پر بھی اکثر ممالک کے نمازوں کے اوقات معلوم کرنے کی سہولت موجود ہے، اس میں اپنا مطلوبہ شہر منتخب کرکے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے طے شدہ معیار کے مطابق نمازوں کے اوقات معلوم کرسکتے ہیں۔

شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے:

"مسألة: [آخر وقت المغرب]

قال أبو جعفر: (وآخر وقتها في قول أبي حنيفة: البياض الذي بعد الحمرة، وفي قول أبي يوسف ومحمد: الحمرة)

قال أبو بكر أحمد: يدل على قول أبي حنيفة قول الله تعالى: {أقم الصلاة لدلوك الشمس إلى غسق الليل}.

وقيل في {الدلوك}: إنه الزوال، وقيل: الغروب، ويجوز أن يكون الاسم لهما، ويدخلا جميعًا في المراد.

وقيل: في {غسق الليل}. إنه اجتماع الظلمة، فجعل الله تعالى وقت المغرب إلى اجتماع الظلمة، ومعلوم أن بقاء البياض يمنع اجتماعها، بل تكون متفرقة، فاقتضى ظاهر ذلك أن يكون وقت المغرب إلى غيبوبة البياض."

(کتاب الصلاۃ، باب المواقیت، ج:1، ص:501، ط:دار البشائر الإسلامية)

وفیه أیضاً:

"فصل: [مفهوم الشفق]

وأما الكلام في الشفق، فإن ما ذكرناه من الآية، وهو قوله تعالى: {أقم الصلاة لدلوك الشمس إلى غسق الليل}: يدل على أن الشفق: البياض، وقد بينا وجه الدلالة منه.

ويد عليه من جهة السنة: حديث بشير بن أبى مسعود عن أبيه "أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى العشاء اليوم الأول حين اسود الأفق.وربما أخرها حتى يجتمع الناس".

فدل هذا على أن أول وقتها بعد غيبوبة البياض؛ لأن بقاء البياض يمنع اسوداد الأفق؛ لأنه حينئذ يكون بعضه أبيض وبعضه أسود.

وفي حديث النعمان بن بشير رضي الله عنه: "أنا أعلم الناس بوقت هذه الصلاة، كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصليها لسقوط القمر الليلة الثالثة"، ومعلوم أن البياض لا يبقى إلى هذا الوقت.

(کتاب الصلاۃ، باب المواقیت، فصل: [مفهوم الشفق]، ج:1، ص:506، ط:دار البشائر الإسلامية)

فتح القدیر میں ہے:

"ومن المشايخ من اختار الفتوى على رواية أسد بن عمرو عن أبي حنيفة رحمه الله كقولهما ولا تساعده رواية ولا دراية.....

غير أن النظر عند الترجيح أفاد ترجيح أنه البياض هنا، وأقرب الأمر أنه إذا تردد في أنه الحمرة أو البياض لا ينقضي بالشك، ولأن الاحتياط في إبقاء الوقت إلى البياض لأنه لا وقت مهمل بينهما فبخروج وقت المغرب يدخل وقت العشاء اتفاقا، ولا صحة لصلاة قبل الوقت، فالاحتياط في التأخير".

 

(کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:223، ط:شركة مكتبة ومطبعة مصفى)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولأبي حنيفة النص والاستدلال.

(أما) النص فقوله تعالى: {أقم الصلاة لدلوك الشمس إلى غسق الليل} [الإسراء: 78] ، جعل الغسق غاية لوقت المغرب، ولا غسق ما بقي النور المعترض.

وروي عن عمرو بن العاص رضي الله عنه أنه قال: آخر ‌وقت ‌المغرب ما لم يسقط نور الشفق وبياضه، والمعترض نوره وفي حديث أبي هريرة رضي الله عنه وإن آخر ‌وقت ‌المغرب حين يسود الأفق، وإنما يسود بإخفائها بالظلام.

(وأما) الاستدلال فمن وجهين: لغوي، وفقهي، أما اللغوي فهو أن الشفق اسم لما رق، يقال: ثوب شفيق أي رقيق، إما من رقة النسج وإما لحدوث رقة فيه من طول اللبس، ومنه الشفقة وهي رقة القلب من الخوف أو المحبة، ورقة نور الشمس باقية ما بقي البياض.

وقيل الشفق اسم لرديء الشيء وباقيه، والبياض باقي آثار الشمس وأما الفقهي فهو أن صلاتين تؤديان في أثر الشمس وهما المغرب مع الفجر، وصلاتين تؤديان في وضح النهار وهما الظهر والعصر، فيجب أن يؤدي صلاتين في غسق الليل بحيث لم يبق أثر من آثار الشمس وهما العشاء والوتر، وبعد غيبوبة البياض لا يبقى أثر للشمس، ولا حجة لهم في الحديث؛ لأن البياض يغيب قبل مضي ثلث الليل غالبا

(کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:124، ط:دار الکتب العلمیة)

التصحیح والترجیح علی مختصر القدوری(للعلامۃ قاسم بن قطلوبغا) میں ہے:

"وإذا تعارضت الآثار لا يخرج الوقت بالشّكّ كما قاله في "الهداية" وغيرها، فثبت أن قول الإمام هو الأصح، كما اختاره النسفي رحمه الله."

(کتاب الصلاۃ، ص:157، ط:دار الكتب العلمية)

البحر الرائق میں ہے:

:ويجيء ما تقدم يعني إذا تعارضت الأخبار لم ينقض الوقت بالشك ورجحه أيضا تلميذه قاسم في تصحيح القدوري وقال في آخره فثبت أن قول الإمام هو الأصح. اهـ.

وبهذا ظهر أنه لا يفتى ويعمل إلا بقول الإمام الأعظم ولا يعدل عنه إلى قولهما أو قول أحدهما أو غيرهما إلا لضرورة من ضعف دليل أو تعامل بخلافه كالمزارعة وإن صرح المشايخ بأن الفتوى على قولهما كما في هذه المسألة".

(کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:258، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144702101604

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں