
میرے والد صاحب چھ سال سے فالج کے مریض ہیں، دماغی طورپر بالکل معذور ہیں،ان کو کوئی ہوش نہیں رہتاحتی کہ پیشاب بھی چارپائی بھی کرتے ہیں اوران کو اتنا بھی پتہ نہیں ہوتا کہ میں کہاں پر ہوں ،ان کو کھانے پینے کا کوئی شعور نہیں ہوتا،اسی طرح نہ خود سُن سکتے ہیں، نہ بول سکتے ہیں، نہ خود کھاسکتے ہیں،نہ پی سکتے ہیں، نہ چل سکتے ہیں،بالکل پیدائشی بچے کی طرح حالت ہے،ڈاکٹروں نے کہا ہےجب تک یہ حیات ہیں ایسے ہی رہیں گےالا یہ کہ اللہ تعالی ان پر اپنا فضل وکرم فرمائے۔
اب پوچھنا یہ ہےکہ میرے والد صاحب صاحب نصاب ہیں،اوران کی آمدنی بھی آتی ہے،اس حالت میں ان پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟
دوسرامسئلہ یہ ہے کہ موجودہ حالت میں ان کی جائیداد کیاان کے وارثوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے؟
1:واضح رہے کہ زکوٰۃ ایک عبادت ہے،جس کے وجوب وادائیگی کے لیے بالغ ہونے کے ساتھ ساتھ عاقل ہونا بھی شرط ہے، غیرعاقل مجنون شخص کے مال پرزکوٰۃ واجب نہیں ہوتی،لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا بیان اگر حقائق پر مبنی ہو،تو اس کے والد کے اموال میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی،البتہ اگر والد صاحب کی دماغی حالت درست ہو جائے اور سال بھر یا سال کے اکثر حصہ ہوش وحواس قائم رہے،تو اس صورت میں ان کے مال پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
2:والد صاحب جب تک بقید حیات ہیں،ان کی جائیدادان کے متوقع وارثوں میں تقسیم کرنے کا اختیار شرعاًکسی کو نہیں،والد صاحب کی وفات کے وقت جو اولاد زندہ ہو،اس کی مکمل تفصیل لکھ کروراثت کی تقسیم کا طریقہ معلوم کرلیا جائے۔
الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے:
"وأما المجنون: فهو من زال عقله بحيث يمنع جريان الأفعال والأقوال على نهجه إلا نادرا."
(من تثبت عليه الولاية، وأما المجنون، ج: 45، ص: 160، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية الكويت)
فتاوی شامی میں ہے:
"قوله والمجنون) قال في التلويح: الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب، بأن لا تظهر آثاره وتتعطل أفعاله."
(کتاب الطلاق، مطلب في تعريف السكران وحكمه، ج:3، ص:243، ط:ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضاً:
"(وشرط افتراضها عقل وبلوغ
قوله عقل وبلوغ) فلا تجب على مجنون وصبي لأنها عبادة محضة وليسا مخاطبين بها، وإيجاب النفقات والغرامات لكونها من حقوق العباد والعشر، وصدقة الفطر لأن فيهما معنى المؤنة. ولا خلاف أنه في المجنون الأصلي يعتبر ابتداء الحول من وقت إفاقته كوقت بلوغه. أما العارضي، فإن استوعب كل الحول فكذلك في ظاهر الرواية وهو قول محمد ورواية عن الثاني وهو الأصح وإن لم يستوعبه لغا وعن الثاني: أنه يعتبر في وجوبها إفاقة أكثر الحول نهر ولم يذكر المعتوه هنا. والظاهر أن فيه هذا التفصيل وأنه لا تجب عليه في حال العته، لما علمت من أن حكمه كالصبي العاقل فلا تلزمه لأنها عبادة محضة كما علمت إلا إذا لم يستوعب الحول لأن الجنون يلغو معه فالعته بالأولى."
(کتاب الزکوٰۃ، ج:2، ص: 258، ط: دارالفکر بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"(ومنها العقل والبلوغ) فليس الزكاة على صبي ومجنون إذا وجد منه الجنون في السنة كلها هكذا في الجوهرة النيرة فلو أفاق في جزء من السنة بعد ملك النصاب في أولها وآخرها قل ذلك أو كثر يلزمه الزكاة كذا في العيني شرح الهداية وهو ظاهر الرواية هكذا في الكافي.
قال صدر الإسلام أبو اليسر: وهو الأصح كذا في شرح النقاية للشيخ أبي المكارم هذا في الجنون العارضي بأن جن بعد البلوغ أما في الأصلي بأن بلغ مجنونا فعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - يعتبر ابتداء الحول من وقت الإفاقة كذا في الكافي. وكذا الصبي إذا بلغ يعتبر ابتداء الحول من وقت بلوغه هكذا في التبيين."
(کتاب الزکوٰۃ، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج:1، ص: 172، ط:دارالفکر بیروت)
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے:
"وذهب الحنفية إلى أنه لا زكاة في مال. المجنون؛ لأنه غير مخاطب بالعبادة، والزكاة من أعظم العبادات، فلا تجب عليه كالصلاة والحج ولقوله صلى الله عليه وسلم: رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يحتلم، وعن المجنون حتى يعقل."
(جنون، أثر الجنون في الزكاة، ج:16، ص:105، ط:دارالسلاسل - الكويت)
فتاوی شامی میں ہے :
"وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه."
(کتاب الفرائض،ج:6،ص:758، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100271
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن