بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

میگ وینچرز پاکستان (MAG VENTURES PAKISTAN) نامی کمپنی میں سرمایہ کاری (انویسمنٹ) کرنے کا حکم


سوال

میں اس کمپنی میں پیسہ لگانا چاہتا ہوں اور کمپنی کی شرائط اور ضوابطہ کو تحریر کر رہا ہوں اس کی روشنی میں مجھے بتائیے کہ کیا یا اس میں کام کرنا حلال ہے یا نہیں ہے؟

 میگ وینچرز پاکستان کا ایک ممتاز اور قابلِ اعتماد کاروباری ادارہ ہے، جو کئی ترقیاتی شعبہ جات میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ ان شعبہ جات میں سب سے اہم اور کامیاب منصوبہ حلال گوشت کی ایکسپورٹ ہے، جو اسلامی اصولوں کے مطابق تیار کر کے خلیجی ممالک میں برآمد کیا جاتا ہے۔ میگ وینچرز نہ صرف ایک منافع بخش ادارہ ہے، بلکہ اس کا مشن اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانا بھی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک منفرد پارٹنرشپ ماڈل متعارف کروایا گیا ہے، جس کے ذریعے ہر کوئی اس کاروبار کا حصہ بن کر حلال منافع حاصل کر سکتا ہے۔ یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟ آپ میگ وینچرز کے ساتھ پارٹنر بن کر کمپنی کو زیادہ مویشی خریدنے میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ یہ مویشی شرعی اصولوں کے مطابق ذبح کیے جاتے ہیں، اور ان کا گوشت بیرونِ ملک ایکسپورٹ کر کے حاصل ہونے والا منافع آپ کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔ میگ وینچرز ایسا کیوں کر رہا ہے؟ موجودہ معاشی حالات میں حلال اور پائیدار آمدن کے ذرائع تلاش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ میگ وینچرز چاہتا ہے کہ عام پاکستانی بھی ترقی کے سفر میں شامل ہوں اور اپنے لیے معاشی بہتری کی راہیں ہموار کریں۔ اسی سوچ کے تحت مختلف سرمایہ کاری پلانز بنائے گئے ہیں۔ پارٹنرشپ پلانز کی تفصیل: 1 لاکھ روپے: ماہانہ 5% – 6% (5,000 – 6,000 روپے) منافع 2 لاکھ روپے: ماہانہ 5% – 6% (10,000 – 12,000 روپے) منافع 5 لاکھ روپے: ماہانہ 6% – 7% (30,000 – 35,000 روپے) منافع 10 لاکھ روپے: ماہانہ 6% – 8% (60,000 – 80,000 روپے) منافع 30 لاکھ روپے: ماہانہ 7% – 9% (2,10,000 – 2,70,000 روپے) منافع 50 لاکھ روپے: ماہانہ 8% – 10% (4,00,000 – 5,00,000 روپے) منافع 1 کروڑ روپے: ماہانہ 8% – 12% (8,00,000 – 12,00,000 روپے)

منافع پلان کی معیاد اور واپسی کی گارنٹی: ہر پلان کی معیاد تین سال ہے، جس کے اختتام پر آپ کو آپ کی مکمل سرمایہ کاری 100 فیصد واپس کر دی جاتی ہے۔

تحفظ، گارنٹی اور اختیاری سہولتیں: معاہدے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ای-اسٹمپ اور سیکیورٹی چیک دیا جاتا ہے۔ گارنٹی کے طور پر پراپرٹی یا گاڑی کی ملکیت کی سہولت بھی دستیاب ہے (اس صورت میں منافع 3% – 5% ہو گا)۔ سرمایہ کاری کا عمل مویشیوں کی ڈراپ شپنگ کے ذریعے ہوتا ہے۔ سرمایہ کار کو تمام قانونی دستاویزات مہیا کی جاتی ہیں۔

اضافی فوائد: مکمل شفافیت اور قانونی تحفّظ حلال اور پائیدار منافع سرمایہ کاری کے بعد ہر مہینے بروقت منافع کی ادائیگی واٹس ایپ، کال یا ملاقات کے ذریعے مکمل رہنمائی محترم/محترمہ، اگر آپ بھی ایک بااعتماد ادارے کے ساتھ مل کر اپنی آمدن کو حلال اور پائیدار بنیادوں پر بڑھانا چاہتے ہیں تو آج ہی ہم سے رابطہ کریں۔ **میگ وینچرز – آپ کا پارٹنر ایک روشن مستقبل کے لیے۔

جواب

واضح رہے کہ  شرکت کے معاملے میں اگر انویسٹمنٹ (سرمائے) کا متعین  فیصد بطور نفع طے کیا جائے تو یہ صورت شرعاً جائز نہیں ہے، کیوں کہ شرکت کے معاملے میں نفع کی تقسیم انویسٹ کی گئی رقم کی فیصد کے تناسب سے طے کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع کے فیصد کے اعتبار سے طے کرنا ضروری ہے، مثلاً  یوں طے کیا جائے کہ حاصل شدہ نفع  دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا، یا کسی ایک فریق کے لیے ساٹھ فیصد اور دوسرے کے لیے چالیس فیصد یا شرکاء زیادہ ہونے کی صورت میں کسی کے لیے نفع کا (مثلاً) دس فیصد اور کسی کے لیے بیس فیصد وغیرہ طے کرنا لازم ہے، ایک صورت یہ بھی ہے کہ شرکاء کے سرمایہ (انویسٹمنٹ) کے تناسب سے نفع تقسیم کیا جائے، یعنی جس شریک کا سرمایہ کل سرمایہ کے اعتبار سے جتنا فیصد بنتا ہو اتنا ہی فیصد اس کا نفع طے کیا جائے،  اگر کوئی ایک شریک باقی شرکاء کے مقابلے میں زیادہ محنت کرتاہے یا کاروبار کو زیادہ وقت دیتاہے یا صرف ایک ہی شریک کام کرتا ہے تو باہمی رضامندی سے اس کے لیے نفع کا تناسب اس کے سرمائے کے تناسب سے زیادہ مقرر کرنا بھی درست ہوگا۔  لیکن کاروبار میں سرمایہ کاری کر کے  نفع کو متعین کردینا مثلاً یہ کہناکہ ہر  مہینے یا اتنی مدت بعد نفع کے طور پر اتنی رقم دی جائے گی، یا انویسمنٹ کا اتنا فیصد دیا جائے گا  یہ طریقہ شرعاً جائز نہیں ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سوال میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق "میگ وینچرز" (MAG VENTURES) نامی کمپنی  چوں کہ سرمایہ کاری کرنے والے لوگوں کو ان کے سرمائے کے فیصد کے اعتبار سے نفع دینے کا معاہدہ کرتی ہے جو کہ شرعًا ناجائز ہے اور اس طریقے سے حاصل ہونے والا منافع سود کے حکم میں ہوتا ہے، اس لیے مذکورہ کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں ہے۔

نیز انٹرنیٹ پر اس کمپنی کے متعلق مزید یہ معلومات بھی موجود ہیں کہ یہ کمپنی حکومتِ پاکستان کے کسی ادارے (مثلا  سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (SECP) یا کسی دوسری قانونی اتھارٹی) کے ساتھ باقاعدہ رجسٹرڈ نہیں ہے، بلکہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (SECP) نے حال ہی میں "میگ وینچرز"   (MAG Ventures) کے خلاف شدید وارننگ جاری کی ہے اور اس کمپنی کو غیر مجاز سرمایہ کاری اسکیم قرار دے کر لوگوں کو اس کمپنی میں سرمایہ کاری سے منع کیا ہے، لہٰذا چوں کہ عام طور سے ایسی کمپنیاں لوگوں سے پیسے لے کر کسی کاروبار میں لگانے کے بجائے آگے سودی قرض کے طور پر دے دیتی ہیں اور اس سے حاصل شدہ نفع لوگوں میں تقسیم کرتی ہیں، اور یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ ایسی کمپنیاں لوگوں سے سرمائے کے نام پر رقوم لے کر کچھ عرصہ تو منافع کے نام پر انہیں ان ہی کے پیسوں سے رقم دیتی رہتی ہیں، پھر اچانک لوگوں کا سارا پیسہ لے کر غائب ہوجاتی ہیں، اس لیے اس طرح کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  میں ہے:

"(ومنها): أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة.

(ومنها): أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح." 

(كتاب الشركة، فصل فى بيان شرائط انواع الشركة،6/ 56، ط:دارالكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو شرطا العمل عليهما جميعًا صحت الشركة، وإن قل رأس مال أحدهما وكثر رأس مال الآخر واشترطا الربح بينهما على السواء أو على التفاضل فإن الربح بينهما على الشرط، والوضيعة أبدًا على قدر رءوس أموالهما، كذا في السراج الوهاج. وإن عمل أحدهما ولم يعمل الآخر بعذر أو بغير عذر صار كعملهما معًا، كذا في المضمرات. ولو شرطا كل الربح لأحدهما فإنه لايجوز، هكذا في النهر الفائق.

اشتركا فجاء أحدهما بألف والآخر بألفين على أن الربح والوضيعة نصفان فالعقد جائز و الشرط في حق الوضيعة باطل، فإن عملا وربحا فالربح على ما شرطا، وإن خسرا فالخسران على قدر رأس مالهما، كذا في محيط السرخسي."

(كتاب الشركة، الفصل الثاني في شرط الربح،2/ 320، ط:مكتبة رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101882

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں