
ایک خاتون ہے، اس نے گھر میں مدرسہ کھولا ہے، کئی طالبات تعلیم حاصل کرتی ہے، یہ معلّمہ طالبات سے مدرسہ (گھر) کے اخراجات کے لیے کوئی فیس وغیرہ نہیں لیتی، البتہ طالبات کو پڑھانے کے لیے معلّمات مقرر کی گئی ہیں، ان کی ماہانہ تنخواہ کے لیے ہر طالبہ سے کچھ نہ کچھ رقم لی جاتی ہے اور یہ خاتون (معلّمہ) جس نے گھر میں مدرسہ کھولا ہے، اس نے اپنے لیے کوئی تنخواہ مقرر نہیں کی ہے، اب سوال یہ ہے کہ طالبات سے لی گئی فیس سے معلّمات کی تنخواہ ادا کرنے کے بعد کچھ رقم بچ جاتی ہے تو اس معلّمہ کے لیے بطور استانی ہونے کی حیثیت سے رقم لینا جائز ہے؟
صورت ِ مسئولہ میں اگر مذکورہ خاتون اپنے گھر میں قائم مدرسہ کی طالبات سے فیس لیتے ہوئے یہ صراحت کرتی ہے یا یہ معروف ہے کہ فیس کی رقم گھر اور دیگر انتظامی اخراجات کی مد میں وصول نہیں جارہی بلکہ صرف معلّمات کو تنخواہ دینے کے لیے فیس لی جارہی تو ایسی صورت میں مذکورہ خاتون اگر خود بھی معلّمہ ہے تو اپنی بھی تنخواہ مقرر کرکے طے شدہ تنخواہ وصول کرسکتی ہے۔
اور اگر مدرسہ کی فیس مطلقاًمقرر ہو، اس میں کسی خاص مد کی صراحت نہ ہو تو ایسی صورت میں چوں مذکورہ ادارہ اس خاتون کا اپنا ہے، اس لیے اگر وہ فیس سے حاصل شدہ رقم کو جملہ انتظامی اخراجات وغیرہ میں خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ضروریات میں بھی خرچ کرلے تو مضائقہ نہیں ہے۔
مبسوط للسرخسی میں ہے:
"اعلم أن الإجارة عقد على المنفعة بعوض هو مال والعقد على المنافع شرعا نوعان أحدهما: بغير عوض كالعارية والوصية بالخدمة والآخر: بعوض وهو الإجارة وجواز هذا العقد عرف بالكتاب والسنة)."
(المبسو ط للسرخسي، کتاب الإجارات، 15/ 74، ط: دار المعرفة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - إستحسنوا الإستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الإمتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى."
(کتاب الإجارات، باب الإجارة الفاسدة، مطلب الإستئجار علي الطاعات، 6/ 55، ط:سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144706101772
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن