
مدرسے کے مدرس ، خادم، مہتمم یا سفیر کو اگر کوئی شخص کچھ دے کر کہے کہ: یہ آپ کے ذاتی ہیں اور یہ مدرسے کے ہیں، تو کیا ان چیزوں کو اپنے لیے لینا جائز ہے یا نہیں؟ حالاں کہ ہم نے سنا ہےکہ کسی صحابی کو اسی طرح ذاتی طور پر کچھ دیا گیا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: آپ اپنی ماں کے گھر میں بیٹھتے تو کیا یہ آپ کو ملتا؟، لہذا اس کی راہ نمائی فرمادیں
واضح رہے کہ مدارس کے سفراء اسلامی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ عاملین میں داخل نہیں ہیں؛ کیوں کہ یہ اسلامی حکومت کی طرف سے زکاۃ وصول کرنے پر مامور نہیں ہیں، البتہ بعض وجوہ سے مناسبت پائی جاتی ہے،اس لیے ان کے لیے بھی احتیاط پر عمل کرنا بہتر ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص مدرسہ کی طرف سے چندہ کی وصولی پر مامور ہو اور مدرسہ کی طرف سے سفیر بن کر کہیں گیا ہو اور اور مدرسہ نے اس کو شخصی طور پر ہدایا اور صدقات وصول کرنے سے منع کیا ہو تو ایسی صورت میں اس شخص کے لیے شخصی ہدایا قبول کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے، اگر وصول کرلے تو بھی اس کو مدرسہ کے فنڈ میں جمع کرادے۔
البتہ اگر سفیر کو کوئی ایسا شخص ہدیہ دے جس کے ساتھ اس کے پہلے سے تعلّقات یا رشتہ داری وغیرہ ہو یا جو پہلے بھی ان کو تحفہ تحائف دیا کرتا تھا اور وہ صراحت کے ساتھ مدرسہ کے لیے الگ دے اور سفیر کو الگ سے دے جس کی وہ رسید بھی نہ لے تو سفیر کے لیے اس رقم کا استعمال جائز ہوگا،اگر ان کے علاوہ کوئی تحفہ دے تو اسے مدرسے کے فنڈ میں ہی جمع کرادینا چاہیے۔
باقی اگر کوئی شخص مدرسہ کا ملازم تو ہو لیکن مدرسہ کی طرف سے چندہ کی وصولی پر مامور نہ ہو اور مدرسه كي طرف سے سفير بن كر كہيں گيا ہوا نہ ہو تو ایسی صورت میں اگر کوئی شخص اس کو اس کی ذات کے لیے کوئی ہدیہ وغیرہ دیتا ہے تو اس کو لینا اور استعمال کرنا درست ہے۔
کفایت المفتی میں ہے:
" مدرسہ کے مدرس اور مبلغ جو صرف تدریس اور تبلیغ کے کام پر مامور ہوں یعنی فراہمی چندہ ان کا فرض منصبی نہ ہو مدرسہ سے رخصت حاصل کرکے کسی جگہ جاکر وعظ کریں اور ان کو شخصی طور پر کوئی چیز یا نقد ہدیہ ملے تو وہ ان کی اپنی ہے ، ہاں سفراء جو فراہمی چندہ کے کام پر مامور ہوں اور مدرسہ نے انکو شخصی طور پر ہدیہ لینے سے روک دیا ہو ان پر لازم ہے کہ یا تو وہ شخصی ہدایا قبول نہ کریں یا قبول کریں تو مدرسہ کے فنڈ میں ڈال دیں۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ، دہلی ۔"
( کتاب الهبة والعارية،8/ 172، ط: دارالاشاعت)
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن أبي حميد الساعدي: استعمل النبي صلى الله عليه وسلم رجلا من الأزد يقال له ابن اللتبية الأتبية على الصدقة فلما قدم قال: هذا لكم وهذا أهدي لي فخطب النبي صلى الله عليه وسلم فحمد الله وأثنى عليه وقال: " أما بعد فإني أستعمل رجالا منكم على أمور مما ولاني الله فيأتي أحدكم فيقول: هذا لكم وهذا هدية أهديت لي فهلا جلس في بيت أبيه أو بيت أمه فينظر أيهدى له أم لا؟ والذي نفسي بيده لا يأخذ أحد منه شيئا إلا جاء به يوم القيامة يحمله على رقبته إن كان بعيرا له رغاء أو بقرا له خوار أو شاة تيعر " ثم رفع يديه حتى رأينا عفرتي إبطيه ثم قال: «اللهم هل بلغت اللهم هل بلغت» . . قال الخطابي: وفي قوله: «هلا جلس في بيت أمه أو أبيه فينظر أيهدى إليه أم لا؟» دليل على أن كل أمر يتذرع به إلى محظور فهو محظور وكل دخل في العقود ينظر هل يكون حكمه عند الانفراد كحكمه عند الاقتران أم لا؟ هكذا في شرح السنة."
(كتاب الزکاۃ، الفصل الاول ،1/ 156، ط: سعید )
حاشية ابن عابدين"میں ہے:
"قال في جامع الفصولين القاضي لا يقبل الهدية من رجل لو لم يكن قاضيا لا يهدي إليه ويكون ذلك بمنزلة الشرط ثم قال أقول: يخالفه ما ذكر في الأقضية إلخ، قلت: والظاهر عدم المخالفة؛ لأن القاضي منصوص على أنه لا يقبل الهدية على التفصيل الآتي فما في الأقضية مفروض في غيره فيحتمل أن يكون المفتي مثله في ذلك، ويحتمل أن لا يكون والله سبحانه أعلم بحقيقة الحال، ولا شك أن عدم القبول هو المقبول ورأيت في حاشية شرح المنهج للعلامة محمد الداودي الشافعي ما نصه قال ع ش: ومن العمال مشايخ الأسواق والبلدان، ومباشرو الأوقاف وكل من يتعاطى أمرا يتعلق بالمسلمين انتهى."
(كتاب القضا، 5 / 373، ط:سعيد)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144707100097
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن