بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کیلئے جمع شدہ رقم سے ذاتی طور پر ادا کی گئی رقم کی منہا کرنے کی شرعی حیثیت


سوال

 ایک صاحب نے بندہ کے پاس رمضان میں مدرسہ کی چار ہزار کی رسید کٹوائی اور کہا کہ بعد میں رقم دیتا ہوں اس وقت بندہ نے اپنی جیب سے مدرسہ میں رقم جمع کردی، ابھی تک انہوں نے رقم نہیں دی اور اب ان سے رقم ملنے کی امید بھی نہیں ہے

تو دریافت یہ کرنا ہے کہ اگر بندہ کے پاس کوئی رقم مدرسہ کیلئے آتی ہے، اس کی رسید نہ بنا کر اسے اپنی رقم میں منہا کرلینا یہ سمجھتے ہوئے کی اتنی رقم مدرسہ میں جمع ہوچکی ہے، درست ہے یا اس کی کوئی صورت ہے؟

جواب

صورت مسئولہ  میں اگر سائل کے پاس کوئی رقم مدرسہ کیلئے آتی ہے تو اس کے لیے  اس کی رسید نہ بنا کر اسے اپنی رقم  کے عوض لینا جائز نہیں ہے،تاہم رسید کٹوانے والے پرلازم ہے کہ وہ اپنےوعدہ کے مطابق مذکورہ چارہزار رقم بطورقرض سائل کو اداکرے اوراگر وہ رقم ادا نہیں کرےگاتوادانہ کرنے کی صورت میں  گناہ گار ہوگا،اورایسی صورت میں سائل کو چاہیے کہ مدرسہ کے متولی یا انتظامیہ کو اس معاملے سے آگاہ کرے،انتظامیہ کے علم میں لانے کے بعد وہ رسید منسوخ کروائے اور اپنی دی ہوئی رقم واپس لے لے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا (الإسراء:34

ترجمہ:" اور عہد ( مشروع) کو پورا کیا کرو، بے شک ( ایسے ) عہد کی باز پرس ہونے والی ہے۔"

صحیح البخاری میں ہے:

"حدثنا سليمان أبو الربيع، قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر، قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان."

(باب علامة المنافق، ج:1، ص:16، رقم الحدیث:33، ط: دارطوق النجاة) 

سنن الترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه."

(ابواب الجنائز، باب ما جاء عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه، رقم الحدیث:1078، ج:2، ص:380، ط:دارالغرب الاسلامی)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کی جان اپنے قرض کی وجہ سے معلق رہتی ہے (یعنی جنت کے دخول سے روک دی جاتی ہے) یہاں تک کہ اس کے قرض کی ادائیگی کردی جائے۔ 

صحیح البخاری میں ہے:

"عن سلمة بن الأكوع رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بجنازة ليصلي عليها، فقال: «هل عليه من دين؟»، قالوا: لا، فصلى عليه، ثم أتي بجنازة أخرى، فقال: «هل عليه من دين؟»، قالوا: نعم، قال: «صلوا على صاحبكم»، قال: أبو قتادة علي دينه يا رسول الله، فصلى عليه."

(کتاب الکفالة، باب من تكفل عن ميت دينا، فليس له أن يرجع، رقم الحدیث:2295، ج:3، ص:96، ط:دارطوق النجاۃ)

ترجمہ: حضرتِ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: کہ کیا اس پر کوئی قرض ہے؟ لوگوں نے عرض کی نہیں تو اُس کی نماز جنازہ پڑھی،  پھر دوسرا جنازہ لایا گیا تو فرمایا: کیا اس پر قرض ہے؟ لوگ عرض گزار ہوئے: ہاں۔ فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو، حضرت ابو قتادہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! اس کا قرض مجھ پر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس کی نماز جنازہ پڑھی۔

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"وإذا ‌أنفق الوديعة، ثم رد مثلها في مكانها، فقد اختلف الفقهاء في تضمينه:فقال الحنفية: إن ردها بعينها لم يضمن، وإن رد مثلها ضمن."

(إتلاف الوديعة، ج:43، ص:58، ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية الكويت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100206

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں