بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1448ھ 16 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسے میں طلبہ کے لیے آنے والے جانور کو فروخت کر کے اس کی رقم مدرسے کی دیگر ضروریات میں استعمال کرنے کا حکم


سوال

جو جانور مدرسے میں بچوں کو کھانے کے لیے دیے جاتے ہیں،کیا ان کو فروخت کرکے مدرسے میں بجلی کا سامان خرید سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مدرسے کے منتظمین چندہ دینے والوں کی طرف سے وکیل اور امین ہوتے ہیں،ان پر لازم ہے کہ وہ رقم یا سامان اسی مصرف میں استعمال کریں جس کے لیے دینے والے نے دیا ہے،صورت مسئولہ میں جب جانور دینے والے جانور طلبہ کو کھلانے کے لیے دیتے ہیں تو وہ ذبح کرکے طلبہ کو کھلانا ضروری ہے،دینے والوں کی صراحۃً یا دلالۃًاجازت کے بغیر جانور کو فروخت کرکے اس کی رقم کسی اور مصرف(مثلاً بجلی کے سامان )میں لگانا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل."

(كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 269، ط: سعيد)

کفایت المفتی میں ہے:

"صدقہ کے جانور کو فروخت کر کے اس کی رقم مدرسہ پر لگانے کا حکم

(سوال) 

مدرسہ اسلامیہ اور یتیم خانوں میں اکثر مسلمان لوگ بکرا یا بھیڑ بطورِ صدقہ طلبہ کے لئے دیتے ہیں۔ بعض وقت مدرسہ میں اس قدر گوشت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بجائے اس جانور کے ذبح کرنے کے مہتمم مدرسہ یہ چاہے کہ اس کو میں کسی قصاب سے فروخت کر دوں اور اس کی قیمت طلبہ کی روزانہ کی خوراکی میں صرف کروں یہ اس مہتمم کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ اور صدقہ کا جانور جو مدرسہ میں آئے اس کا فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

(جواب)

اگر دینے والوں کی طرف سے صراحۃً یا دلالۃً اس کی اجازت ہو تو جواز میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن اگر ان کی طرف سے اس امر کی اجازت نہ ہو تو مہتمم مدرسہ جانور کو فروخت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ دینے والے کا وکیل ہے اور وکیل کو تصرف کا اختیار اسی صورت سے ہوتا ہے، جس طرح مؤکل معین کر دے۔ اور ممکن ہے کہ دینے والے نے جو جانور بھیجا ہے وہ نذر کا ہو یا کسی اور وجہ سے اس کا مقصود تقرب بالاراقہ ہو۔ محض گوشت تقسیم کرنا منظور نہ ہو۔ ورنہ ممکن تھا کہ بجائے جانور بھیجنے کے وہ گوشت خرید کر بھیج دیتا اور ایسی حالت میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مہتمم کا یہ تصرف خلافِ اولیٰ الی الخیر ہے۔ کیونکہ تقرب بالاراقہ اور چیز ہے اور طلبہ کو ان کی حاجت کے اوقات میں کھلا دینا اور چیز ہے۔ الحاصل جب تک جانور دینے والوں کی صراحۃً یا دلالۃً اجازت نہ ہو مہتمم کو ایسا کرنا جائز نہیں۔"

(کتاب الوقف،ج: 7، ص: 239، ط: دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802101428

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں