بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کی مملوکہ پرنٹر کی فروختگی پر حاصل ہونے والے نفع کا حکم


سوال

 میں نے مدرسہ کے لیے مدرسے ہی کے پیسوں سے ایک پرنٹر خریدا تھا۔ بعد میں ضرورت نہ رہنے پر میں نے اسے فروخت کرنے کا ارادہ کیا۔ اس وقت میں نے مہتمم صاحب (جو کہ میرے سگے بھائی ہیں) سے یہ بات طے کی تھی کہ: پرنٹر کی اصل قیمت کے اوپر جتنے نفع پر میں اسے بیچوں گا، وہ نفع میرا ہوگا۔ مہتمم صاحب نے مجھے اس کی اجازت دے دی تھی۔ اب میں نے وہ پرنٹر 6000 روپے نفع پر بیچ دیا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ 6000 روپیہ کا نفع میں اپنے پاس رکھ سکتا ہوں یا یہ مدرسے کا حق ہے؟ جب کہ سرمایہ مدرسے کا تھا اور مہتمم صاحب نے مجھے پہلے ہی اجازت دے دی تھی،  شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ مذکورہ پرنٹر مدرسہ کے پیسوں سے خریدا گیا تھا، اس لیے وہ مدرسہ کی ملکیت شمار ہوگا۔ اورجب ضرورت نہ رہنے پر اسے فروخت کیا گیا تو اس کی فروختگی سے حاصل ہونے والی پوری رقم، خواہ وہ اصل قیمت ہو یا اس پر حاصل ہونے والا نفع،  ہر  ایک مدرسہ ہی کا حق ہے، جسے مدرسہ کے فنڈ میں جمع کرانا لازم ہے تاکہ اسے مدرسہ کے مصالح میں استعمال کیا جاسکے۔

پس مہتمم صاحب کی طرف سے سائل کو نفع رکھنے کی جو  اجازت دی گئی وہ شرعا معتبر نہیں ، لہذا 6000 روپے کا نفع سائل کے لیے اپنے پاس رکھنا جائز نہیں ہوگا، کیونکہ مدرسہ کا مال مہتمم کے پاس امانت ہوتا ہے اور وہ اس کا صرف امین ہوتا ہیں، اسے یہ اختیار حاصل نہیں ہوتا کہ وه مدرسہ کے مال یا اس سے حاصل ہونے والے نفع کو کسی شخص کی ذاتی ملکیت قرار دے، بلکہ اس کو مدرسہ ہی کے مصالح میں صرف کرنا ضروری ہے۔

البتہ سائل نے  چوں کہ مدرسہ کی طرف سے اس پرنٹر کی خرید و فروخت کا معاملہ انجام دیا ہے اور اس کے بدلے میں پہلے سے کوئی اجرت متعین نہیں کی گئی تھی، اس لیے شرعاً وہ اپنی اس خدمت کے بدلے اجرتِ مثل (یعنی اس کے فروخت کرنے کی عرف کے مطابق مناسب اجرت) لینے کا حق دار ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: ومثله حشيش المسجد الخ) أي الحشيش الذي يفرش بدل الحصر كما يفعل في بعض البلاد كبلاد الصعيد كما أخبرني به بعضهم، قال الزيلعي: وعلى هذا حصير المسجد و حشيشه إذا استغنى عنهما يرجع إلى مالكه عند محمد، و عند أبي يوسف ينقل إلى مسجد آخر، و على هذا الخلاف الرباط و البئر إذا لم ينتفع بهما ا هـ و صرح في الخانية بأن الفتوى على قول محمد، قال في البحر: و به علم أن الفتوى على قول محمد في آلات المسجد، و على قول أبي يوسف في تأبيد المسجد ا هـ و المراد بآلات المسجد نحو القنديل و الحصير بخلاف أنقاضه لما قدمنا عنه قريباً من أن الفتوى على أن المسجد لايعود ميراثاً ولايجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر."

(کتاب الوقف، ج:4، ص:359، ط:سعید)

وفيه ايضا:

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة."

(کتاب الإجارة، باب إجارة الفاسدة، ج:6، ص:63، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری  میں ہے:

"و أمّا حكمها فوجوب الحفظ على المودع و صيرورة المال أمانة في يده و وجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني. الوديعة لاتودع و لاتعار و لاتؤاجر و لاترهن، و إن فعل شيئًا منها ضمن، كذا في البحر الرائق."

(كتاب الوديعة، الباب الأول في تفسير الإيداع الوديعة وركنها وشرائطها وحكمها، ج:4، ص:338، ط:دار الفکر)

فتاوی تاتار خانیہ میں ہے:

"رجل جمع مالاً من الناس لينفقه في بناء المسجد، فأنفق من تلك الدراهم في حاجة نفسه، ثم ردّ بدلها  في نفقة المسجد لايسعه أن يفعل ذلك، فإن فعل فإن عرف صاحب ذلك ردّ عليه أو سأله تجديد الإذن فيه."

(کتاب الوقف، الفصل الرابع و العشرون في الأوقاف ... الخ، ج:8، ص:198، ط:مركز النشر والتوزيع مكتبه زكريا دار العلوم ديوبند)

مجلة الأحكام العدلية میں ہے:

"(المادة ٧٩٨) : منافع الوديعة لصاحبها. يعني أن المنافع المتولدة من الوديعة تكون لصاحبها ; لأن المنافع المذكورة نماء ملك صاحبها يعني المودع. فلذلك نتاج حيوان الأمانة ولبنه وصوفه عائد لصاحبه."

(الكتاب السادس: في الامانات، الباب الثانی فی الودیعة، الفصل الثانی : فی احکام الودیعة وضمانہا، ص:153، ط:نور محمد کارخانہ کتب)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101379

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں