بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کے پیسے تجارت میں لگانے کا حکم


سوال

 اگر مدرسے کے پیسے مدرسے کے منافع کے لیے   انویسٹ کیے جائیں تو جو بھی نفع ہوگا وہ مدرسہ کا ہی ہوگا ،اس میں ذاتی فائدہ کسی کا بھی نہ ہوگا؟ تو کیا جائز ہے ؟  

جواب

صورت ِ مسئولہ میں  عوام الناس کی جانب سے کسی مدرسے میں خرچ کے لیے دیے جانے والےپیسے  ادارے کے پاس امانت  ہوتے ہیں ،اس رقم کو  مدرسہ میں استعمال کرنا ضروری ہے ،اسے  کاروبار میں لگا نا جائز  نہیں ہے ،اگرچہ کاروبار میں لگانے سے مدرسہ  کا مالی  فائدہ ہو ۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"وفي القنية ولا يجوز للقيم شراء شيء من مال المسجد لنفسه ولا البيع له وإن كان فيه منفعة ظاهرة للمسجد. اهـ."

(کتاب الوقف، تصرفات الناظر فی الوقف، ج:5، ص:259، دارالکتاب الإسلامی)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144702102027

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں