
اگر مدرسے کے پیسے مدرسے کے منافع کے لیے انویسٹ کیے جائیں تو جو بھی نفع ہوگا وہ مدرسہ کا ہی ہوگا ،اس میں ذاتی فائدہ کسی کا بھی نہ ہوگا؟ تو کیا جائز ہے ؟
صورت ِ مسئولہ میں عوام الناس کی جانب سے کسی مدرسے میں خرچ کے لیے دیے جانے والےپیسے ادارے کے پاس امانت ہوتے ہیں ،اس رقم کو مدرسہ میں استعمال کرنا ضروری ہے ،اسے کاروبار میں لگا نا جائز نہیں ہے ،اگرچہ کاروبار میں لگانے سے مدرسہ کا مالی فائدہ ہو ۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"وفي القنية ولا يجوز للقيم شراء شيء من مال المسجد لنفسه ولا البيع له وإن كان فيه منفعة ظاهرة للمسجد. اهـ."
(کتاب الوقف، تصرفات الناظر فی الوقف، ج:5، ص:259، دارالکتاب الإسلامی)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144702102027
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن