بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 صفر 1448ھ 10 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسے کے مہتمم اور اساتذہ کے لیے مدرسے کی گاڑی کو ذاتی ضرورت کے لیے استعمال کرنے کا حکم


سوال

ہماری  جامعہ کے عمومی چندے کے فنڈ سے مدرسے کی ضروریات کے لیے ایک عدد گاڑی خریدی گئی ہے، جو عمومی طور پر ادارہ جاتی کاموں مثلاً اساتذہ و طلبہ کی نقل و حمل، سامان کی ترسیل اور دیگر انتظامی امور کے لیے استعمال کی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ اگر کبھی مہتمم صاحب کو کسی ذاتی ضرورت کے لیے اس گاڑی کی عارضی طور پر ضرورت پیش آجائے تو کیا ان کے لیے اس گاڑی کو ذاتی کام میں استعمال کرنا شرعا جائز ہے؟ اگر جائز ہو تو اس کی شرائط و حدود کیا ہوں؟ نیز ہم چاہتے ہیں کہ آپ حضرات کے فتوے کی روشنی میں اس مسئلے کو باقاعدہ مدرسے کے آئین اور ضوابط میں شامل کیا جائے تاکہ آئندہ کے لیے واضح رہنمائی موجود ہو۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جو گاڑی مدرسے کے عمومی چندے  سے مدرسے کی ضروریات کے لیے خریدی گئی ہے تو کسی کے لیے بھی اس گاڑی کو مدرسے کے علاوہ کسی بھی ضرورت کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے ، البتہ اگر مدرسے کی شوریٰ چاہے تو مدرسے کے آئین اور ضابطے میں یہ شق شامل کی جاسکتی ہے کہ "مدرسے کے مہتمم یا مدرسے کے کوئی استاذ بوقتِ ضرورت اس گاڑی کو استعمال کرنا چاہیں تو اجرتِ مثل (یعنی جتنی اجرت پر اس نوعیت کی سواری اتنی مسافت کے لیے ملتی ہو اتنی اجرت) مدرسے کے فنڈ میں جمع کر کے  گاڑی کو معروف دستور پر(یعنی تعدّی کے بغیر) استعمال کرسکتے ہیں" ۔

لہٰذا اگر ایسا ضابطہ طے کرلیا جائےتو ایسی صورت میں حسبِ ضابطہ مہتمم  اور مدرسے کے استاذ کے لیے بوقتِ ضرورت اجرتِ مثل ادا کر کے مدرسے کی گاڑی استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی۔

 مدارس کے وقف اموال اور ان کے مصارف بہت نازک اور قابلِ احتیاط امور ہیں،  قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کا استحضار رکھتے ہوئے ان کا استعمال کیا جائے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولاتجوز إجارة الوقف إلا بأجر المثل، كذا في المحيط السرخسي."

(كتاب الوقف، الباب الخامس في ولاية الوقف وتصرف القيم في الأوقاف، ج:2، ص:419، ط:رشيدية)

وفيه ايضا:

"ولا يحمل الرجل ‌سراج المسجد إلى بيته ويحمل من بيته إلى المسجد. كذا في الخلاصة."

(كتاب الصلاة، الباب السابع،فصل قبيل الباب الثامن، ج:1، ص:110، ط:رشيدية)

وفيه ايضا:

"متولي المسجد ليس له أن يحمل ‌سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الوقف،الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق به، الفصل الثاني في الوقف وتصرف القيم وغيره في مال الوقف عليه، ج:2، ص:462، ط:رشيدية)

وفي الخانیة:

"قال الفقیه أبو جعفر: إذا لم یذکر الواقف في صک الوقف إجارة الوقف، فرأی القیم أن یواجرها ویدفعها مزارعةً، فما کان أدر علی الوقف وأنفع للفقراء فعل."

(كتاب الوقف ، ج:3، ص:332، ط: زکریا)

وفي فتح القدیر :

"ونص الأسروشني أنه رأى في المنقول أن إجارة الموقوف عليه لا تجوز، وإنما يملك الإجارة المتولي أو القاضي."

( کتاب الوقف، ج:6، ص:224، ط: دار الفكر، بيروت) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100008

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں