
مدرسہ نہ ہونےکےباوجود مدرسہ کے نام پر آٹا یا دوسری اشیاء وصول کر کے گھرمیں استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟اور وہ چیزیں جن کے بارے میں معلوم ہو کہ یہ مدرسہ کے نام پر لی گئی ہیں ہمارا ان کو استعمال کرنا کیسا ہے؟ اور وہ چیزیں جن کے بارے معلوم نہ ہو اس کا کیا حکم ہے؟ جب کہ یہ کام گھر کا سربراہ کر رہا ہو ،لہذا اب اس سربراہ کی لائی ہوئی ہر چیز کاکھانا منع ہے یا وہ جس میں صرف یقین ہو کہ یہ مدرسہ کے نام پر لی ہے؟
صورت مسئولہ میں مدرسہ نہ ہونےکےباوجود مدرسہ کے نام پر آٹا یا دوسری اشیاء وصول کر نا حرام ہے،حرام کمانے والوں کے گھر والوں کے لیے یہ حکم ہے کہ حرام کمانے والے سے حرام ذریعۂ آمدن چھڑانے کی پوری کوشش کرتے رہیں، پوری کوشش کے باوجود اگر وہ نہ چھوڑیں تو اگر ان کی بیوی کے لیے جائز طریقے سے اپنے اخراجات برداشت کرنا ممکن ہو تو اس صورت میں ان کے لیے اپنے شوہر کے مال سے کھانا جائز نہیں اور اگر اپنے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں اپنے شوہر کے مال سے کھانا جائز ہے، حرام کھانے اور کھلانے کا گناہ شوہر پر ہوگا۔ نابالغ اور چھوٹے بچوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ البتہ گھر کے بالغ افراد پر لازم ہے کہ خود کما کر کھائیں، حرام کمانے والے کے مال سے نہ کھائیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي جامع الجوامع: اشترى الزوج طعاماً أو كسوةً من مال خبيث جاز للمرأة أكله ولبسها، والإثم على الزوج".
(کتاب الغصب،ج:6،ص:191،ط:سعید)
الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:
"المال الحرام كالمأخوذ غصباً أو سرقةً أو رشوةً أو رباً أو نحو ذلك ليس مملوكاً لمن هو بيده".
(الشرط السابع: الفراغ من الدين،زكاة المال الحرام،ج:23،ص:248،ط:دارالسلاسل الكويت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144608100444
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن