بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1447ھ 07 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ میں داخلہ فیس لینے کا حکم


سوال

میں بچوں کو محلے کی مسجد میں پڑھاتا ہوں ، پہلی بار جب بچہ داخل ہوتا ہے تو کوئی داخلہ فیس نہیں لیتا ہوں ، البتہ جب وہ بغیر اجازت کی چھٹیاں شروع کرتا ہے تو کچھ ایام غیر حاضر ہونے کی بناء پر اسے خارج کردیتا ہوں، مگر جب وہ دوبارہ داخل ہونا چاہتا ہے تو اس سے دوبارہ داخلے کی فیس لیتا ہوں (پہلی بار داخلہ فیس نہیں لیتا ہوں ) تو کیا یہ جائز ہے ؟ اور یہ پیسے خود اپنے ذاتی استعمال کے لیے نہیں لیتا، بلکہ بچوں کو کبھی انعام کے طور پردیتا ہوں اور کبھی بچے اپنے لیے طعام بنانے میں اس رقم کو صرف کرتے ہیں ۔

جواب

داخلہ فیس کی کوئی معقول وجہ نہیں ،البتہ داخلہ فیس اگر کسی چیز کا عوض ہو ،مثلاً: داخلے سے متعلق کارروائی ،اسٹیشنری وغیرہ کا خرچہ تو پھر یہ فیس لینا جائز ہے ،لیکن مذکورہ صورت میں پرانے طالب علم کا اخراج کرنے کے بعد دوبارہ داخلہ کے لیے فیس لینا مالی جرمانہ کی شکل ہے ،جائز نہیں ۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے :

"(المادة 97) :لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد ‌بلا ‌سبب ‌شرعي."

(المقالة الثانیة فی بیان القواعد ا لکلیة الفقهية، ج:1، ص:98، ط: دارالجیل)

الدر مع الرد میں ہے:

"مطلب في التعزير بأخذ المال

(قوله:لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج،وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان.

(قوله: وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ .اه.

والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

 

(کتاب الحدود، باب التعزیر، مطلب فی التعزیر باخذالمال ، ج:4، ص: 61، ط: سعید)

کفایت المفتی میں ہے:

"داخلہ کی فیس تو کوئی معقول نہیں، ماہوار فیس لی جاسکتی ہے۔"

(کتاب المعاش، داخلہ اور ماہواری فیس کا حکم، ج:7،ص: 314،ط:  دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144510100982

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں