
ہمارے علاقے "مسلم باغ" (صوبہ بلوچستان) کے پہاڑوں سے ایک قیمتی معدن "کرومائٹ" نکلتی ہے، جو قیامِ پاکستان سے قبل انگریزوں کی دریافت کردہ ہے۔ انگریزوں کے جانے کے بعد "پاکستان کرومائٹ مائنز" (PCM) نامی کمپنی اس کی کھدائی کرتی رہی، لیکن بعد میں نقصان اور قرض دار ہونے کی وجہ سے کمپنی ختم ہو گئی۔
کمپنی کے جانے کے بعد مقامی لوگوں نے ان پہاڑوں پر قبضہ کر لیا اور ہر ایک نے اپنے اپنے علاقے کی حد بندی کر لی۔ اب مقامی لوگ اس معدن کو نکالتے ہیں، جس کے لیے حکومت باقاعدہ لائسنس کے ذریعے ڈائنامائٹ (بارود) بھی فراہم کرتی ہے۔ مقامی افراد یہ معدن ٹھیکیداروں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ ٹھیکیدار جب اس کرومائٹ کو مسلم باغ سے کراچی منتقل کرتے ہیں، تو کوئٹہ میں کسٹم حکام فی ٹن تقریباً 1200 روپے ٹیکس وصول کرتے ہیں جو ٹھیکیدار ادا کرتے ہیں۔
وضاحت طلب امور درج ذیل ہیں:
کیا کرومائٹ شرعاً پگھلنے والی معدنیات میں شمار ہوتی ہے یا نہیں؟ جب کہ کرومائٹ کو پگھلانے کے لیے تقریباً 2500 ڈگری سینٹی گریڈ کے انتہائی شدید درجہ حرارت (High Temperature) کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ عام لکڑی یا کوئلے کی آگ سے نہیں پگھلتی۔
فقہائے کرام کے کلام میں معدنیات کو پگھلانے کے لیے جس "آگ" کا ذکر ملتا ہے، اس سے کون سی آگ مراد ہے؟ کیا اس سے صرف عام گھریلو آگ مراد ہے یا جدید صنعتی درجہ حرارت اور شدید ترین حرارت بھی اس میں شامل ہے؟
مذکورہ صورتِ حال اور حقائق کی روشنی میں کیا کرومائٹ پر شرعاً خمس (20 فیصد) واجب ہے یا نہیں؟
اگر کرومائٹ میں خمس واجب ہے، تو شرعی طور پر خمس کے مصارف کون لوگ ہیں؟
برائے مہربانی شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں تفصیلی اور مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں کرومائیٹ میں شرعاً خمس واجب ہے؛ اس لیے کہ یہ سونا، چاندی اور لوہے کی طرح ان جامد دھاتوں میں سے ہے جو شدید حرارت سے پگھل جاتی ہیں۔ فقہِ اسلامی کی اصطلاح میں "آگ" سے مراد ہر قسم کی حرارت (خواہ وہ صنعتی و جدید تکنیک ہو یا شدید ترین آگ) ہے، محض لکڑی یا کوئلے کی عام گھریلو آگ مراد نہیں ہے۔ فقہائے کرام کے نزدیک اس نوعیت کی تمام (پگھلنے والی) دھاتوں میں خمس واجب ہوتا ہے۔
اس خمس کے مصارف تین طبقے ہیں:1- محتاج یتیم ۔ 2- مساکین ۔ 3- محتاج مسافر۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ما يخرج من المعادن ثلاثة منطبع بالنار، ومائع، وما ليس بمنطبع، ولا مائع أما المنطبع كالذهب والفضة والحديد والرصاص والنحاس والصفر ففيه الخمس كذا في التهذيب سواء أخرجه حر أو عبد أو ذمي أو صبي أو امرأة، وما بقي فللأخذ والحربي المستأمن إذا عمل بغير إذن الإمام لم يكن له شيء، وإن عمل بإذنه فله ما شرط وسواء وجد في أرض عشرية أو خراجية كذا في محيط السرخسي... وأما المائع كالقير والنفط والملح، وما ليس بمنطبع، ولا مائع كالنورة والجص والجواهر واليواقيت فلا شيء فيها كذا في التهذيب."
(كتاب الزكاة،الباب الخامس في المعادن والركاز،ج:1، ص:184، 185، ط: رشيدية)
المبسوط للسرخسي میں ہے:
"اعلم أن المستخرج من المعادن أنواع ثلاثة منها جامد يذوب وينطبع كالذهب والفضة والحديد والرصاص والنحاس، ومنها جامد لا يذوب بالذوب كالجص والنورة والكحل والزرنيخ، ومنها مائع لا يجمد كالماء والزئبق والنفط. فأما الجامد الذي يذوب بالذوب ففيه الخمس عندنا."
(كتاب الزكاة،باب المعادن وغيرها،ج:2، ص:211، ط: دار المعرفة بيروت)
العناية شرح الهداية میں ہے:
"(معدن ذهب أو فضة) المستخرج من المعادن أنواع ثلاثة: جامد يذوب وينطبع كالذهب والفضة
والحديد والرصاص والصفر، وجامد لا يذوب كالجص والنورة والكحل والزرنيخ، ومائع لا يتجمد كالماء والقير والنفط. إما أن يكون على ضرب أهل الإسلام، أو على ضرب أهل الجاهلية، واشتبه الحال. ففي الأول وهو ما يذوب ويتطبع إذا (وجد في أرض عشر أو خراج الخمس عندنا."
(ج:2، ص:233، ط: دار الفكر، بیروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(والخمس) الباقي يقسم أثلاثا عندنا (لليتيم والمسكين وابن السبيل) وجاز صرفه لصنف واحد فتح، وفي المنية لو صرفه للغانمين لحاجتهم جاز وقد حققته في شرح الملتقى
وفي الشامية: (قوله وقد حققته في شرح الملتقى) ونصه والخمس الباقي من المغنم كالمعدن والركاز يكون مصرفها لليتامى المحتاجين والمساكين وابن السبيل فتقسم عندنا أثلاثا هذه الأموال الثلاثة لهؤلاء الأصناف الثلاثة خاصة غير متجاوز عنهم إلى غيرهم، فتصرف لكلهم أو لبعضهم، فسبب استحقاقهم احتياج بيتم أو مسكنة أو كونه ابن السبيل فلا يجوز الصرف لغنيهم، ولا لغيرهم كما في الشرنبلالية والقهستاني"
(كتاب الجهاد، باب المغنم وقسمته، ج:4، ص:149، ط:دار الفكر - بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101088
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن