
ہمارے گاؤں میں ایک مدرسہ ہے جس میں طلبہ کی تعداد 70سے 80تک ہے،مدرسہ میں شعبہء حفظ وکتب دونوں کے طلبہ ہیں،اور دونوں شعبوں کے طلبہ رہائشی ہیں،سوال یہ ہےکہ:مدرسہ،مسجد سے پیدل پانچ سے دس منٹ کے فاصلے پر ہے،اساتذہ نے یہ نظم بنایا ہے کہ کوئی ایک استاد ان تمام طلبہ کو مدرسہ میں باجماعت نماز پڑھائے،کیوں کہ مدرسہ سے مسجد تک آنے جانے میں طلبہ پر پابندی کرنا مشکل ہے کہ مدرسہ کے ضابطے کے خلاف کوئی کام نہ کریں،دوسرا یہ کہ وہاں مسجد میں بھی محلہ کے لڑکوں سے اختلاط ہوتا ہے،اس ساری صورتِ حال میں مدرسہ میں باجماعت نماز پڑھ سکتے ہیں؟یا ان کے لیے مسجد میں جاکر نماز باجماعت پڑھنا ضروری ہے؟
صورت مسئولہ میں مدرسہ کے اساتذہ اور بالغ طلبہ پر لازم ہے کہ وہ مسجد میں جاکر باجماعت نماز پڑھیں،مدرسے میں باجماعت نماز پڑھنے کی عادت بنانادرست نہیں،البتہ جو طلبہ نابالغ ہیں ان کی جماعت مدرسے میں کرانے کی گنجائش ہے،امام انہی میں سے کسی ایک کو مقرر کردیا جائے۔
الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب إلا في جمعة وعيد فشرط. وفي التراويح سنة كفاية، وفي وتر رمضان مستحبة على قول. وفي وتر غيره وتطوع على سبيل التداعي مكروهة،..."
(کتاب الصلاۃ،باب الامامۃ،ج1،ص552،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100704
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن