بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرسہ کی وقف کتب فروخت کرنا


سوال

بلوچستان میں ایک مدرسہ ہے اس مدرسے کے لیے قطر سے وقف کی عربی کتابیں آئی ہیں، اور مذکورہ  مدرسے کے سارے اساتذہ  وطالبات اردو شروحات کی طرف رجوع کرتے ہیں، عربی کتابوں سے استفادہ نہیں کر سکتے ہیں سوال یہ ہے کہ مذکورہ  کتابوں کو فروخت کر کے اس کے بدلے میں جو عوض ملتا ہے کیا اس عوض سے اردو شروحات اور  اردو کتابیں خرید سکتے ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ  کتابیں  مدرسہ کے لیے وقف ہیں تو ان کو بیچنا شرعاً جائز نہیں  ہے،البتہ یہ کتب  اگر مذکورہ مدرسہ کی ضرورت نہ ہو  اور آئندہ بھی استعمال کی ضرورت نہ ہو تو قریب کے  کسی دوسرے مدرسہ میں جہاں  ضرورت ہوں دی جاسکتی ہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)

(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه."

(کتاب الوقف جلد ۴ ص: ۳۵۱ ، ۳۵۲ ط: دارالفکر)

البحر الرائق میں ہے:

"وإن وقف على المسجد جاز ويقرأ في ذلك المسجد وفي موضع آخر ولا يكون مقصورا على هذا المسجد."

(کتاب الوقف، وقف المشاع، ج: 5، ص: 219، ط: دارالکتاب الإسلامي)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

”(سوال ۲۸)ایک صاحب خیر نے مسجد میں تلاوت کے لیے قرآن وقف کیے ، ایک دوسرے آدمی نے پیسے دے کر وہ قرآن لے لیے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ درست ہے برائے کرم تحریر فرمائیں کہ مسجد کا قرآن اس طرح بیچا جاسکتا ہے؟

(الجواب)مسجد کے وقف قرآن بیچنا جائز نہیں ، ضرورت سے زائد ہو اور کام میں نہ آتے ہوں تو قریب کی ضرورت مند مسجد میں دے دیے جائیں مسجد کو جب ضرورت نہ ہو تو لینا ہی نہیں چاہیے۔“

(کتا ب الوقف جلد ۹ ص:۴۸ ط:دار الاشاعت)

فقط و اللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144711100023

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں