
ہمارے علاقے میں مچھلی کی منی کی خرید و فروخت ہوتی ہے، کچھ لوگ اس منی کو دودھ کہتے ہیں اور اس کو کھاتے بھی ہیں اور یہ چیز نر میں پائی جاتی ہے مادہ میں نہیں اور جس وقت مادہ انڈہ دیتی ہے تو نر اس انڈے پر اپنی منی ڈالتا ہے تو یہ منی نر میں اس موسم میں پیدا ہوتی ہے جس میں مچھلیاں انڈے دیتی ہیں، اس کو عوام الناس خرید کر کھاتے بھی ہیں، مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
واضح رہے کہ دنیا میں حشرات الارض کے علاوہ پائے جانے والے چرند پرند بنیادی طور پر دو قسم کے ہیں:
ایک قسم دموی (جن میں بہنے والا خون ہوتا ہے) جانوروں کی ہے، جنہیں بری جانور بھی کہا جاتا ہے۔
دوسری قسم غیر دموی ہے جنہیں آبی جانور بھی کہا جاتا ہے، آبی جانوروں میں چوں کہ بہنے والا خون نہیں ہوتا، اس وجہ سے شریعتِ مطہرہ نے بہت سے احکام میں آبی جانوروں اور غیر آبی / بری جانوروں اور ان کے اجزاء کے پاک و ناپاک ہونے کے معاملے میں فرق کیا ہے، پس بری جانوروں کے خون کو نجس قرار دیا ہے، جب کہ آبی جانوروں میں پائی جانے والی رطوبت کو پاک قرار دیا ہے، اس بنیاد پر بری جانوروں کی منی / اسپرم اور آبی جانوروں کی منی / اسپرم کے حکم میں بھی فرق ہوگا؛ کیوں کہ منی کا وجود خون سے ہوتا ہے، مچھلی میں چوں کہ ناپاک خون نہیں پایا جاتا، اور اس میں پائی جانے والی رطوبت پاک ہوتی ہے،اس رطوبت سے پیدا ہونے والے تمام اجزاء بشمول نر مچھلی کا مادہ منویہ / اسپرم بھی نجس نہیں ہوگا، اور جس طرح مچھلی کے تمام اجزاء کھانا حلال ہے، اسی طرح نر مچھلی کا اسپرم بھی حلال ہوگا، پس اس کا کھانا اور اس کی خرید وفروخت کرنا شرعاً جائز ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"(وأما) دم السمك ... ليس بدم حقيقة بل هو ماء تلون بلون الدم؛ لأن الدموي لا يعيش في الماء، والدم الذي يبقى في العروق واللحم بعد الذبح طاهر؛ لأنه ليس بمسفوح ولهذا حل تناوله مع اللحم."
(كتاب الطهارة، فصل في الطهارة الحقيقية، ج: 1، ص: 61، ط: دار الكتب العلمية)
البنایہ میں ہے:
"(أما دم السمك فليس بدم على التحقيق) ش: لأن الدم على التحقيق يسود إذا شمس، ودم السمك يبيض، ولهذا يحل تناوله من غير ذكاة، ولأن طبع الدم حار وطبع الماء بارد، فلو كان للسمك دم لم يدم سكونه في الماء."
(كتاب الطهارات، باب الأنجاس وتطهيرها، ج: 1، ص: 736، ط: دار الكتب العلمية)
البحر الرائق میں ہے:
"أما دم السمك فلأنه ليس بدم على التحقيق، وإنما هو دم صورة؛ لأنه إذا يبس يبيض والدم يسود وأيضا الحرارة خاصية الدم والبرودة خاصية الماء فلو كان للسمك دم لم يدم سكونه في الماء."
(كتاب الطهارة، باب الأنجاس، ج: 1، ص: 247، ط: دار الكتاب الإسلامي)
تفسیرِ کبیر میں ہے:
"والمني يتولد من الدم."
(سورة الصافات، ج: 26، ص: 322، ط: دار إحياء التراث العربي)
تفسیرِ روح البیان میں ہے:
"والمنى انما يتولد من الدم."
(تفسير سورة هود، ج: 4، ص: 153، ط: دار الفكر)
المحیط البرہانی میں ہے:
"والسمك يتولد من الماء."
(كتاب الأيمان والنذور، الفصل الثاني عشر في الحلف على الأفعال، ج: 4، ص: 282، ط: دار الكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709100451
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن