
مارکیٹ میں جو مچھلی فروخت کی جارہی ہے جو کئی دن پرانی بھی ہوتی ہے ،اس کو کاٹنے وقت بسم اللہ پڑھے بغیر کھانا حلال ہے ؟حالا ں کہ نصوص شرعیہ سے ثابت ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالی کانام لینا حلت کےلیے شرط قرار دیا ہے؟
واضح رہےکہ شریعت مطہر ہ میں مچھلی کے حلال ہونے کےلیےذبح کرنا شرط نہیں بتایا ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ:"ہمارے لیے دومردار اور دو خون حلال کیے گیے ہیں، دومردار سے مراد مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون سے مراد جگر اور تلی ہیں"، اسی طرح دیگر جانوروں کو اس لیے ذبح کیا جاتا ہے کہ ان میں موجو د دم مسفوح نکل جائےیعنی اس کے جسم سے بہتا ہوا خون خارج ہوجائے اور مچھلی میں خشکی کے جانورں کی طرح دم مسفوح نہیں ہوتا، بلکہ اس کے بدن کا اصلی مادہ پانی ہے اور پانی بالطبع پاک ہے، اس لیے ذبح کرنے کاحکم نہیں ہے۔
سنن ابن ماجہ میں ہے:
"عن عبد الله بن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أحلت لنا ميتتان ودمان، فأما الميتتان: فالحوت والجراد، وأما الدمان: فالكبد والطحال."
(أبواب الأطعمة، باب الكبد والطحال،ج:4، ص:431، الرقم:3313، ط: دار الرسالة العالمية)
ترجمہ:”ہمارے لیے دومردار اور دو خون حلال کیے گیے ہیں، دومردار سے مراد مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون سے مراد جگر اور تلی ہیں“۔
مبسوط سرخسی میں ہے:
"والحيوانات نوعان: نوع منها ما لا دم له، فلا يحل تناول شيء منها إلا السمك، والجراد؛ لأن شرط تناول الحيوانات الذكاة شرعا، وذلك لا يتحقق له فيما لا دم له، إلا أن السمك والجراد مستثنى بالنص مما شرط فيه الذكاة لقوله صلى الله عليه وسلم: «أحلت لنا ميتتان ودمان أما الميتتان فالسمك والجراد، وأما الدمان فالكبد والطحال."
(کتاب الصید، ج:11، ص:220، ط: مطبعة السعادة - مصر)
وفیه أیضاً :
"وعن علي رضي الله عنه قال: ذكاة السمك والجراد أخذه، ومراده بيان أن الذكاة ليست بشرط فيهما بل يثبت الحل فيهما بالأخذ من غير ذكاة، ألا ترى أنه لا تثبت الحرمة بكون الآخذ مجوسيا أو وثنيا، وما يشترط فيه الذكاة يشترط فيه الأهلية للمذكي، وحيث لم يشترط في السمك والجراد عرفنا أن الذكاة فيهما ليست بشرط، كما قال صلى الله عليه وسلم: «أحلت لنا ميتتان ودمان."
(کتاب الصید، ذکاة السمک والجراد، ج:11، ص:229، ط: مطبعة السعادة-مصر)
زاد المعاد فی ہدی خیر العباد میں ہے:
"فلو لم تكن هذه النصوص مع المبيحين لكان القياس الصحيح معهم، فإن الميتة إنما حرمت لاحتقان الرطوبات والفضلات والدم الخبيث فيها، والذكاة لما كانت تزيل ذلك الدم والفضلات كانت سبب الحل، وإلا فالموت لا يقتضي التحريم فإنه حاصل بالذكاة كما يحصل بغيرها، فإذا لم يكن في الحيوان دم وفضلات تزيلها الذكاة لم يحرم بالموت ولم يشترط لحله ذكاة كالجراد، ولهذا لا ينجس بالموت ما لا نفس له سائلة كالذباب والنحلة ونحوهما، والسمك من هذا الضرب، فإنه لو كان له دم وفضلات تحتقن بموته لم يحل بموته بغير ذكاة، ولم يكن فرق بين موته في الماء وموته خارجه، إذ من المعلوم أن موته في البر لا يذهب تلك الفضلات التي تحرمه عند المحرمين إذا مات في البحر. ولو لم يكن في المسألة نصوص لكان هذا القياس كافيا. والله أعلم."
[فصل في هديه في الجھاد والغزوات ، جواز أكل ميتة البحر، ج:3، ص:477، ط: دار ابن حزم]
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال: مچھلی بغیر ذبح کئے کیوں حلال ہے؟بینوا توجروا۔
جواب: ارشاد خداوندی ہےوَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْماً طَرِيًّا يَعْنِي:السَّمَكَ، وہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے قابو میں دریا کردیا تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ، تازہ گوشت سے مراد مچھلی ہے۔(تفسیر جلالین، سورۂ نحل، پ:14، ص:178)
دوسرے جانوروں کی طرح اس کو ذبح کرنے کی شرط نہیں ہے ، بلاذبح حلال ہے بنابنایا تازہ گوشت ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "أحلت لنا ميتتان ودمان، فأما الميتتان: فالحوت والجراد، وأما الدمان: فالكبد والطحال."یعنی ہمارے لئے دو میتوں اور دوخون حلال کئے گئے ، دومیتوں سے مراد مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دوخون سے مراد جگر اور تلی ہیں (مشکوۃ شریف ،ص:361، باب مایحل أکلہ ومایحرم)
مچھلی دوسرے جانوروں کی طرح نہیں ہے، اس میں دم مسفوح نہیں ہے، اس کے بدن کا اصلی مادہ پانی ہے اور پانی بالطبع پاک ہے لہذا مچھلی کی روح جداہوجانے سے اس پر ناپاک ہونے کا حکم نہیں لگے گا،اس لئے ذبح کرنا ضروری نہیں ہے۔
(کتاب الذبائح، ج:10، ص:73، ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144605101685
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن