
مشینی ذبیحہ کے متعلق میرے چند سوالات ہیں:
1۔ایک مرغی کے فارم میں تمام مرغی کو لٹکا کر بسم اللہ کے ساتھ مشین شروع کر دی جاتی ہے، پھر مشین خود بخود مرغی کو کاٹنا شروع کر دیتی ہے اور جب مشین کاٹتی ہے تو ایک شخص بسم اللہ پڑھتا رہتا ہے، کیا یہ مرغیاں حلال ہوں گی؟
2۔ اگر یہ مرغیاں حلال نہیں ہیں تو کیا وہ تیل جس میں اس قسم کا گوشت پکایا جائے، دوسرے کھانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے؟
3۔ کیا ہم ایسی جگہ کھا سکتے ہیں جہاں اس قسم کا گوشت پکایا جاتا ہو اور پھر اُسی برتن اور چمچ کو دیگر حلال کھانا پکانے میں استعمال کیا جاتا ہو؟
4۔ جو شخص یہ کہے کہ "آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ مشین سے ذبح شدہ مرغی حرام ہے، کیوں کہ بعض علماء کی رائے ہے کہ یہ حلال ہے، لہذا ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مشتبہ ہے،" اس شخص کو کیا کہیں گے؟
برائے مہربانی حوالہ جات کے ساتھ جواب دیں۔
سائل کی طرف سے عائد کردہ سوالات کے متعلق نمبروار جوابات لکھے جاتے ہیں:
1۔ صورت مسئولہ میں یہ مرغیاں مردار شمار ہو کر حرام ہوں گی۔
ذبیحہ وہ جائز ہے جو قاعدہ شرعیہ کے مطابق ذبح کیا گیا ہو۔(1) اور ذبح کے شرائط میں سے ہے کہ ذبح کرنے والا عاقل ہو، اور وہ مسلمان یا کتابی ہو،(2) اور ذبح کرتے وقت اُس نے تسمیہ پڑھا ہو (یعنی اللہ کا نام لیا ہو)۔(3) اور پھر تسمیہ (اللہ کا نام لینے) میں بھی کچھ شرائط ہیں: کہ تسمیہ ذبح کرنے والا ہی کہے، اور تسمیہ اس جانور کو ذبح کرنے کے لیے پڑھا ہو، اور تسمیہ میں خالصۃً اللہ کا نام لیا ہو، اورتسمیہ میں اللہ کی تعظیم مقصود ہو۔ پھر تسمیہ اور ذبح میں لمبا وقفہ نہ ہو، اور ذبح وہی جانور کیا ہو جس پر تسمیہ پڑھا ہو۔ نیز پالتو جانور میں ذبح کے وقت زندگی موجود ہونا بھی شرط ہے۔(4)
رہی بات (بٹن دبا کر) مشین سے ذبح کرنے کی تو اس پر علماء دین کا اختلاف رہا ہے۔جمہور علماء کے نزدیک یہ مشینی ذبیحہ حرام ہے۔ اور یہی قول راجح اور صحیح ہے۔(5) یہ فرماتے ہیں کہ اگر بٹن دبانے ولا مسلمان بھی ہو اور بٹن دباتے وقت تسمیہ بھی پڑھے تب بھی مشین کے مروجہ ذبیحہ کو حلال نہیں کہا جا سکتا بلکہ وہ مردار ہی ہے۔(6) اس کی وجہ یہ بیان فرماتے ہیں کہ ذبح اختیاری(7) میں (اور ذبح اختیاری کا مطلب یہ ہے کہ جانور ذابح کے اختیار اور قابو میں ہو اور جانور کو لٹا کر سنت طریقے سے اپنے ہاتھ سے گلے پر چھری پھیر دی جائے، اس میں)فعل انسانی یعنی ہاتھ سے چھری چلانا شرط ہے اور انسانی قوت کے عمل دخل کا اہم کردار ہے۔ اور اس میں شک نہیں کہ برقی مشین سے جو جانوروں کے گلے کٹتے ہیں وہ یقینا نہ انسان کا فعل ہے نہ اس کے ہاتھ کی قوت کو اس میں کوئی دخل ہے۔ بلکہ مشین کے ذبیحہ میں اصل طاقت کا محور برق (بجلی) کی طاقت ہے جس کی بنا پر مشینی ذبیحہ کو حلال تصور نہیں کیا جا سکتا۔(8) اس لیے مشینی ذبیحہ کا طریقہ اختیار کرنا ہرگز جائز نہیں اور مشینی ذبیحہ سے مکمل احتراز کرنا لازم اور ضروری ہے۔(9)
اور جو اعذار پیش کی جاتی ہیں مشین سے ذبح کرنے کے لیے بجائے ہاتھ سے ذبح کرنے کے تو یہ اعذار قابل قبول نہیں، کیوں کہ اگر مختصر وقت میں کثیر تعداد میں جانور ذبح کرنا ہے تو اتنی تعداد میں مزدور اور افراد بھی مہیا ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ اس مشینی ذبیحہ کی صحیح اور غیر مشکوک متبادل صورت یہ ہو گی کہاس مشین سے چھری نکال دی جائے اور اس کی جگہ پر چند مسلمان یا دیندار اہل کتاب کھڑے کیے جائیں اور جب مرغیاں ان کے سامنے سے گزریں تو ان میں سے ہر ایک باری باری ہر مرغی پر "تسمیہ" پڑھتے ہوئے ان کو شرعی طریقہ پر ذبح کر دے۔(10)
2۔ صورتِ مسئولہ میں شرعی ذبح نہیں پائے جانے کی وجہ سے یہ مرغیاں حلال نہیں اور اور ان کا گوشت بھی ناپاک ہے۔ لہٰذا جس تیل میں مذکورہ گوشت پکایا جائے وہ بھی ناپاک ہو جائے گا اور اس تیل میں جو کچھ پکایا جائے گا اس کا کھانا حرام ہوگا۔(11)
3۔ جن جگہوں میں مشینی ذبیحہ کا استعمال ہو اور وہاں ایسے گوشت کو پکانے کے بعد انہی برتن اور چمچ کو واقعۃً دیگر حلال کھانا پکانے میں استعمال کیا جائے تو ایسے جگہوں میں کھانا ناجائز ہوگا۔
4۔ اختلاف کے بنا پر یہ بات کہنا کہ " آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ مشین سے ذبح شدہ مرغی حرام ہے، کیوں کہ بعض علماء کی رائے ہے کہ یہ حلال ہے، لہذا ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مشتبہ ہے " بالکل غلط ہے۔ جب حرمت اور حلت دونوں پہلو پائے جاتے ہیں تو حرمت والے پہلو کو ترجیح دی جاتی ہے اور حرام ہی شمار کیا جاتا ہے۔ پھر کسی شاذ ونادر قول کو لے کر حکم میں تخفیف نہیں کی جاتی۔(12)
(1)(الف) تفسیر بیان القرآن میں ہے:
"(حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلاَّ مَا ذَكَّيْتُمْ ...(3) )(سورة المائدة 5 :3)
تفسیر: حکم سوم اسباب تحریم حیوانات:۔۔۔تم پر (یہ جانور وغیرہ) حرام کئے گئے ہیں مردار جانور (جو کہ با وجود واجب الذبح ہونے کے بلا ذبح شرعی مر جاوے) اور خون (جو بہتا ہو) اور خنزیر کا گوشت (اسی طرح اس کے سب اجزاء) اور جو جانور کہ (بقصدِ قربت) غیر اللہ کے نامزد کر دیا گیا ہو اور جو گلا گھٹنے سے مر جاوے اور جو کسی ضرب سے مر جاوے اور جو اونچے سے گر کر مر جاوے (مثلاً پہاڑ سے یا کنوئیں میں) اور جو کسی کی ٹکر سے مر جاوے اور جس کو کوئی درندہ (پکڑ کر) کھانے لاگے (اور اس کے صدمہ سے مر جاوے) لیکن (منخنقۃ سے ما اکل اللسبع تک جن کا ذکر ہے ان میں سے) جس کو (دم نکلنے سے پہلے قاعدہ شرعیہ کے مطابق) ذبح کر دالو (وہ اس حرمت سے مستثنیٰ ہے)۔۔۔"
(سورۃ المائدۃ 5:3، پارہ: 6 ، جز:1، ص: 447-448، ط: مکتبہ رحمانیہ، اردو بازار لاہور)
(ب) بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"ثم الأوداج أربعة: الحلقوم، والمريء، والعرقان اللذان بينهما الحلقوم والمريء، فإذا فرى ذلك كله فقد أتى بالذكاة بكمالها وسننها وإن فرى البعض دون البعض فعند أبي حنيفة رضي الله عنه إذا قطع أكثر الأوداج وهو ثلاثة منها أي ثلاثة كانت وترك واحدا يحل...(ولنا) أن المقصود من الذبح إزالة المحرم وهو الدم المسفوح ولا يحصل إلا بقطع الودج...ولأبي حنيفة - عليه الرحمة - أنه قطع الأكثر من العروق الأربعة وللأكثر حكم الكل فيما بني على التوسعة في أصول الشرع، والذكاة بنيت على التوسعة حيث يكتفى فيها بالبعض بلا خلاف بين الفقهاء وإنما اختلفوا في الكيفية فيقام الأكثر فيها مقام الجميع."
(کتاب الذبائح والصيود، فصل في شرط حل الأكل في الحيوان المأكول، ج: 6، ص: 205-207، ط: دار الکتب العلمیۃ)
(ج) بحوث في قضايا فقهية معاصرة میں ہے:
"التذكية الشرعية وشروطها:...فالأحسن في تعريف الذكاة أن يقال: (إزهاق روح الحيوان بالطريق المشروع الذي يجعل لحمه حلالا للمسلم)...أما الحيوانات المقدور عليها، إما لكونها أليفة، أو لكونها سيطر عليها الإنسان من الحيوانات الوحشية، فالواجب فيها إنهار الدم عن طريق فري الأوداج..."
(البحث الثالث عشر: أحكام الذبائح واللحوم المستوردة، أولاً: التذكية الشرعية وشروطها، ج: 1، ص: 373، ط: دار القلم دمشق)
(2) جدید فقہی مسائل(جلد دوم) میں ہے:
"موجودہ زمانہ کے ایسے یہود ونصاریٰ جو برائے نام اپنے مذہب کی طرف منسوب ہوں اور فی الواقع وہ خدا کے وجود، وحی اور ما بعد الطبیعی امور کے قائل نہ ہوں، دہریہ اور خدا کے منکر ہوں، مذہب کا مذاق اڑاتے ہوں، دوسری مشرک اقوام کی طرح مورتیوں اور دیوتاؤں کے پرَستار ہوں، وہ اہل کتاب کے حکم میں نہیں۔۔۔لہٰذا جن حضرات کا یقینی طور پر کتابی ہونا معلوم ہو، انہی پر اہل کتاب کے احکام جاری ہوں گے، اور یہ یہود ونصاریٰ ہیں، دوسری قومیں جن کا اہل کتاب میں سے ہونا مشکوک ہے، ان کا ذبیحہ حلال نہیں۔۔۔"
(ذبح اور مشینی ذبیحہ سے متعلق کچھ اہم مسائل، اہل کتاب سے مراد اور عصر حاضر کے اہل کتاب، ج: 2، ص: 132-133، ط: زمزم پبلشرز)
(3) قران کریم میں ہے:
(وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ...(121))(سورة الأنعام 6:121)
ترجمہ: اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ (بیان القرآن)
(4) (الف) الفتاوي الهنديةمیں ہے:
"(وأما شرائط الذكاة فأنواع) : بعضها يعم الذكاة الاختيارية والاضطرارية وبعضها يخص أحدهما دون الآخر، أما الذي يعمهما فمنها أن يكون عاقلا...(ومنها) أن يكون مسلما أو كتابيا...(ومنها) التسمية حالة الذكاة عندنا...ومن شرائط التسمية أن تكون التسمية من الذابح (ومنها) أن يريد بها التسمية على الذبيحة...(ومنها) تجريد اسم الله تعالى من غيره، وإن كان اسم النبي. (ومنها) أن يقصد بذكر اسم الله تعظيمه على الخلوص لا يشوبه معنى الدعاء...وأما وقت التسمية فوقتها على الذكاة الاختيارية وقت الذبح لا يجوز تقديمها عليه إلا بزمان قليل لا يمكن التحرز عنه، وأما وقت الاضطرارية فوقتها وقت الرمي والإرسال. وأما الذي يرجع إلى المذكى وهو أن يكون حلالا، وهذا في الذكاة الاضطرارية دون الاختيارية. وأما الذي يرجع إلى محل الذكاة: (فمنها) تعيين المحل بالتسمية في الذكاة الاختيارية، وعلى هذا يخرج ما إذا ذبح وسمى، ثم ذبح أخرى يظن أن التسمية الأولى تجزئ عنهما لم تؤكل فلا بد أن يجدد لكل ذبيحة تسمية على حدة. (ومنها) قيام أصل الحياة في المستأنس وقت الذبح قلت أو كثرت في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، وعند أبي يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - لا يكتفى بقيام أصلها بل تعتبر حياة مستقرة..."
(کتاب الذبائح، الباب الأول في ركن الذبح وشرائطه وحكمه وأنواعه، ج: 5، ص: 352-353، ط: دار الکتب العلمیۃ)
(ب) بحوث في قضايا فقهية معاصرة میں ہے:
"وهذه العبارات الفقهية صريحة في أن الجمهور من الأئمة الذين يشترطون التسمية عند الذبح يشترطون أن تقع التسمية على حيوان بعينه، وأن تكون عند الذبح، وأن لا يفصل بين التسمية وبين الذبح فاصل يعتد به. وهذه الشروط مفقودة في الطريق المذكور من الجهاز الميكانيكي، فإنه لو سمي من شغّله لأول مرة، لم يسم على حيوان بعينه، وقد وقع بين تسميته وبين ذبح آلاف الدجاج فاصل كبير، ربما يمتد إلى نهار كامل، أو يوم أو يومين، فالظاهر أن هذه التسمية لا تكفي لذكاة هذه الحيوانات بأجمعها، وهذا قريب مما ذكره ابن قدامة أن من رأى قطيعا من الغنم فقال: بسم الله، ثم أخذ شاة فذبحها بغير تسمية، فإنه يحرم."
(البحث الثالث عشر: أحكام الذبائح واللحوم المستوردة، ثالثاً: طرق الذبح الآلية الحديثية، 1-ذبح الدجاج، ج: 1، ص: 410-411، ط: دار القلم دمشق)
(5) (الف)فتاوی دار العلوم زکریا میں ہے:
"خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مفتی محمود صاحب (رح) کے نزدیک ذبح شرعی متحقق نہیں ہوتا اور یہی صحیح قول ہے اور ہم اس فتوے سے متفق ہیں۔ بنابریں مشینی ذبیحہ سے مکمل احتراز کرنا لازم اور ضروری ہے۔ نیز فتاویٰ مفتی محمود صاحب ملتانی کے مقدمہ (ص 114) میں مرقوم ہے کہ حضرت مفتی شفیع صاحب نے اپنے فتوے سے رجوع فرما لیا تھا۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔"
(کتاب الصيد والذبائح ، باب (1) ذبح کرنے کے احکام کا بیان، مشینی ذبیحہ کا حکم، ج: 6، ص: 176، ط: زمزم پبلشرز)
(ب) آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
"س: کیا مشین کے ذریعہ سے ذبح کیا ہوا گوشت حلال ہے؟ ج: مشینی ذبیحہ کو اہل علم نے صحیح قرار نہیں دیا اس لئے اس سے احتراز کرنا چاہئے۔"
(ذبح کرنے اور گوشت سے متعلق مسائل، مشین کے ذریعہ ذبح کیا ہوا گوشت صحیح نہیں، ج: 4، ص: 203، ط: مکتبہ لدھیانوی)
(6) (الف) بحوث في قضايا فقهية معاصرة میں ہے:
"وهذه العبارات الفقهية صريحة في أن الجمهور من الأئمة الذين يشترطون التسمية عند الذبح يشترطون أن تقع التسمية على حيوان بعينه، وأن تكون عند الذبح، وأن لا يفصل بين التسمية وبين الذبح فاصل يعتد به. وهذه الشروط مفقودة في الطريق المذكور من الجهاز الميكانيكي، فإنه لو سمي من شغّله لأول مرة، لم يسم على حيوان بعينه، وقد وقع بين تسميته وبين ذبح آلاف الدجاج فاصل كبير، ربما يمتد إلى نهار كامل، أو يوم أو يومين، فالظاهر أن هذه التسمية لا تكفي لذكاة هذه الحيوانات بأجمعها، وهذا قريب مما ذكره ابن قدامة أن من رأى قطيعا من الغنم فقال: بسم الله، ثم أخذ شاة فذبحها بغير تسمية، فإنه يحرم."
(البحث الثالث عشر: أحكام الذبائح واللحوم المستوردة، ثالثاً: طرق الذبح الآلية الحديثية، 1-ذبح الدجاج، ج: 1، ص: 410-411، ط: دار القلم دمشق)
وفيه أيضاً:
"فهذا يدل على أنه لا يكفي التسمية الواحدة من مشغل الجهاز لذبح سائر الدجاج، وإن أقيم رجل عند السكين الدوار ليسمي عندما تأتي الدجاجات إليه فيقطع حلقومها- وهذا شيء رأيته في مذبح من مذابح كندا - فإن في كون تسميته معتبرة شرعا إشكالات آتية: الأول: أن التسمية ينبغي أن تصدر من الذابح، وهذا الرجل الواقف أمام السكين الدوار لا علاقة له بعملية الذبح، فإنه لم يشغل الجهاز، ولا أدار السكين، ولا قرب الدجاجة إليه، وإنما هو رجل منفصل عن عملية الذبح تمام الانفصال، فتسميته ليست من الذابح. والثاني: أن السكين الدوار تأتي إليه عدة دجاجات بفصل ثوان، ولا يمكن لهذا الرجل الواقف أن يسمي على واحد من هذه الدجاجات من غير فصل. والثالث: أن هذا الرجل الواقف إنسان، وليس جهازا أوتوماتيكيا، فلا يستطيع أن لا ينشغل بأي عمل آخر دون التسمية، فربما تعرض له حاجات تشغله عن التسمية، وفي هذه الأثناء تمر عشرات من الدجاج على السكين الدوار، فتذبح بغير تسمية. وقد شاهدت بنفسي في المذبح المذكور من كندا أن هذا الرجل يغيب عن موضعه عند الجهاز لفترات ربما تستغرق نصف ساعة أو أكثر."
(البحث الثالث عشر: أحكام الذبائح واللحوم المستوردة، ثالثاً: طرق الذبح الآلية الحديثية، 1-ذبح الدجاج، ج: 1، ص: 411-412، ط: دار القلم دمشق)
(ب) فتاویٰ بینات میں ہے:
"مہربان من! میں سمجھتا ہوں کہ بٹن دبانے ولا مسلمان بھی ہو اور بٹن دباتے وقت تسمیہ بھی پڑھے تب بھی مشین کے مروجہ ذبیحہ کو حلال نہیں کہا جا سکتا۔ بلکہ وہ مردار ہی ہے۔"
(كتاب الذبائح والأضحية، اہل یورپ کا ذبیحہ اور غذاؤں کے متعلق استفتاء اور اس کا جواب، ج: 4، ص: 541، ط: مکتبہ بینات، جامعۃ العلوم الاسلامیۃ، کراچی)
(ج) حلال غذا، جدید طب اور سائنس میں ہے:
"(1)۔۔۔(ب): مشین سے ذبح کرنے کے متعلق عرض یہ ہے کہ اگر جانور کو ذبح بھی مشین کے ذریعہ کیا جائے تو اس قسم کا مشینی ذبیحہ حرام اور مردار ہوگا ۔۔۔والله تعالي أعلم بالصواب، سرفراز محمد عفا اللہ عنہ، دار الافتاء جامعہ دار العلوم کراچی، 26/6/1431ھ، الجواب صحيح، بندہ محمد تقی عثمانی عفی عنی، 3/7/1431ھ۔۔۔(فتویٰ نمبر: 1277/31)"
(10-رینٹ اور فاٹی آسیڈ اور لیسی تھین کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ نیز مشینی ذبیحہ حلال ہے یا نہیں؟، ص: 76-80، ط: ادارہ اسلامیات)
(7) (الف)المحيط البرهاني میں ہے:
"وذكاة اضطراري إلى حال عدم القدرة، وهي الحرج في أي مكان كان، ثم في حالة القدرة إذا قطع الحلقوم والمري وأودجين فقد أتم الذكاة، وإن قطع الأكثر من ذلك حل أكله..."
(کتاب الذبائح، الفصل الثاني في صفة الذكاة، ج: 6، ص: 79، ط: دار الکتب العلمیۃ)
(ب) جواہر الفقہ میں ہے:
"اختیاری صورت سے مراد ان جانوروں کا ذبیحہ ہے جو گھروں میں پالے جاتے ہیں، جیسے بکری، گائے، بیل، بھینس وغیرہ اور کسی جنگلی جانور جیسے ہرن وغیرہ کو گھر میں پال کر مانوس بنا لیا جائے تو وہ بھی اس حکم میں داخل ہو جاتا ہے اور غیر اختیاری صورت سے مراد وہ جنگلی اور وحشی حلال جانور ہیں، جن کا شکار کیا جاتا ہے، اور اگر پالتو جانور میں سے بھی کوئی جانور وحشی ہو کر بھاگ جائے، تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہو جاتا ہے۔"
(کتاب الصید والذبائح، 87: اسلامی ذبیحہ، جانور کے حلال ہونے کی دوسری شرط، ج: 6، ص: 173-174، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)
(ج) فتاویٰ قاسمیہ میں ہے:
"ذبح اختیاری کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جانور کو آسانی کے ساتھ لٹا کر اس کے گلے پر بسم اللہ پڑھ کر چھری چلا دی جائے، اور اس کے حلقوم اور ودجان یعنی دونوں شہ رگ کٹ جائیں، یا اونٹ وغیرہ کو کھڑے کھڑے نحر کر دیا جائے، اور نحر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اونٹوں کی تمام رگوں کا تعلق گردن کی ایک جگہ پر ہوتا ہے، اور کھڑے کھڑے اس جگہ پر چھری پھیر دی جائے یہ ذبح اختیاری کے دائرے میں داخل ہے۔"
(35: کتاب الذبائح، (1) باب شرائط الذبح وسننہ وآدابہ، (1) ذبح اختیاری، ج: 22، ص: 140-141، ط: مکتبہ اشرفیہ دیوبند الھند)
(د) فتاویٰ بینات میں ہے:
"ذبح اضطراری اور ذبح اختیاری کا بنیادی فرق یہی ہے کہ اختیاری ذبح میں امرار سکین (چھری چلانا) ہی عمل 'ذبح' ہے۔ اور ذبح اضطراری میں رمی (تیر پھینکنا) اور ارسال (سدھے ہوئے شکاری جانور کو چھوڑنا) از روئے شرع عمل ذبح کے قائم مقام ہے۔ دیکھئے امام شافعی علیہ الرحمۃ بھی ذبح اختیاری میں 'فعل انسانی' کو شرط قرار دیتے ہیں۔۔۔اور اس میں شک نہیں کہ برقی مشین سے جو جانوروں کے گلے کٹتے ہیں، وہ یقینا نہ انسان کا فعل ہے نہ اس کے ہاتھ کی قوت کو اس میں کوئی دخل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی ادنی سمجھ رکھنے والا بھی اس کو انسان کا فعل نہیں کہہ سکتا۔ اس لئے اسکو مشینی ذبیحہ کہتے ہیں۔"
(كتاب الذبائح والأضحية، اہل یورپ کا ذبیحہ اور غذاؤں کے متعلق استفتاء اور اس کا جواب ، ج: 4، ص: 544-545، ط: مکتبہ بینات، جامعۃ العلوم الاسلامیۃ، کراچی)
(8) (الف) كتاب الأم میں ہے:
"(قال الشافعي): الذكاة وجهان: وجه فيما قدر عليه الذبح والنحر وفيما لم يقدر عليه ما ناله الإنسان بسلاح بيده أو رميه بيده فهي عمل يده أو ما أحل الله عز وجل من الجوارح ذوات الأرواح المعلمات التي تأخذ بفعل الإنسان كما يصيب السهم بفعله فأما المحفرة فإنها ليست واحدا من ذا - كان فيها سلاح يقتل أو لم يكن - ولو أن رجلا نصب سيفا أو رمحا ثم اضطر صيدا إليه فأصابه فذكاه لم يحل أكله لأنها ذكاة بغير قتل أحد..."
(كتاب الصيد والذبائح، الذكاة وما أبيح أكله وما لم يبح، ج: 3، ص: 609، ط: دار الوفاء، المنصورة-مصر)
(ب) فتاویٰ بینات میں ہے:
" در اصل مشین کی چھری کو چلانے والی اور جانور کا گلا گاٹنے والی برقی لہر (کرنٹ) ہے نہ کہ ایک مسلمان کے ہاتھ کی قوت محرکہ، اور یہ گلا کاٹنا برقی قوت اور مشین کا فعل ہے نہ کہ اس مسلمان کا۔ اور ذبح اختیاری میں ذابح (ذبح کرنے والے) کا فعل (اپنے ہاتھ سے گلا کاٹنا) اور اس کی تحریک کا موثر ہونا شرط ہے۔"
(كتاب الذبائح والأضحية، اہل یورپ کا ذبیحہ اور غذاؤں کے متعلق استفتاء اور اس کا جواب، ج: 4، ص: 541، ط: مکتبہ بینات، جامعۃ العلوم الاسلامیۃ، کراچی)
(ج) محمود الفتاویٰ میں ہے:
"ذبح اختیاری میں ذابح کا فعل (اپنے ہاتھ سے گلا کاٹنا) اور اس کی تحریک کا مؤثر ہونا شرط ہے، صورتِ مسئولہ میں مشینی چھری کو چلانے والی اور جانور کا گلا کاٹنے والی برقی لہر ہے، نہ کہ مسلمان کے ہاتھ کی قوتِ محرکہ، باقی اس مسلمان کا گھر سے تیار ہو کر جانا وغیرہ افعال اس کا عمل ضرور ہیں، لیکن عملِ ذبح نہیں ہیں۔۔۔18/شوال المکرم 1409ھ۔"
(باب الصید والذبائح، مشینی ذبیحہ کا حکم، ج: 7، ص: 488، ط: مکتبہ محمودیہ، ڈابھیل گجرات)
(د) فتاویٰ قاسمیہ میں ہے:
"ذبح اختیاری میں دو چیزیں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں: (1) چھری چلاتے وقت طاقت صرف کرنا (2) چھری چلاتے وقت بسم اللہ پڑھنا۔ اور یہ دونوں امور شخص واحد سے صادر ہونا لازم ہیں۔ ۔۔اسی طریقہ سے ذبح اضطراری میں بھی دو چیزیں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں: (1) آلہ جارحہ استعمال کرتے وقت، اور اسی طریقہ سے شکاری کتے یا پرندہ کے چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھنا۔ (2) آلہ جارحہ کا جانور کو زخمی کر کے خون نکال دینا، یا شکاری کتے یا پرندہ کا جانور کو زخمی کر کے خون نکال دینا۔۔۔غور طلب بات یہ ہے کہ مشینی ذبیحہ ذبح اختیاری کے دائرہ میں داخل ہے یا ذبح اضطراری کے دائرہ میں، تس اس سلسلہ میں ما قبل میں ذبح کے شرائط کے ذیل میں فقہی جزئیات سے ثابت کی گیا ہے کہ ذبح اضطراری اس وقت جائز ہے جبکہ ذبح اختیاری پر کسی طرح قدرت حاصل نہ ہو سکے، مگر جب ذبح اختیاری پر کسی طرح بھی کامیابی حاصل ہو جائے تو ذبح اضطراری کا طریقہ اختیار کرنا ہر گز جائز نہیں ہے تو ہم نے مشینی ذبیحہ کے فلسفہ پر غور کر کے دیکھا تو اس کے اندر ایسی کوئی شرعی مجبوری نہیں ہے جس کی وجہ سے ذبح اضطراری کو اختیار کیا جائے اس لیے کہ ذبح اختیاری کو طلب کرنے کے لیے جو اعذار اور مجبوریاں ہوتی ہیں وہ یہاں پر مفقود ہیں، اور اس سے مانع کوئی سبب اور وجہ بھی یہاں موجود نہیں ہے، محض اس وجہ سے کہ جانوروں کی زیادہ تعداد ذبح کرنے میں دیر زیادہ لگے گی، اس لیے ذبح اختیاری کو چھوڑ کر اضطراری کو اختیار کیا جائے، یہ قابل قبول عذر نہیں ہے، کیونکہ اگر مختصر وقت میں کثیر تعداد میں جانور ذبح کرنا ہے تو اتنی تعداد میں مزدور اور افراد بھی مہیا ہو سکتے ہیں، اس لیے مشینی ذبیحہ میں ذبح اضطراری کا طریقہ اختیار کرنا ہرگز جائز نہ ہو گا۔۔۔اب اس عبارت پر غور کر کے دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ عجز کا لفظ طاقت جسمانی سے ناکام ہونے کے لیے بولا جاتا ہے، اور عذر کا لفظ عام ہے، اور یہاں ذبح اضطراری کو اختیار کرنے کے لیے طاقت جسمانی سے ناکامی کا کوئی سوال نہیں بلکہ محض یہ مقصد ہے کہ کم وقت کے اندر کثیر تعداد میں جانور ذبح ہو جائیں، یہ دفع مضرت نہیں ہے، جس کی وجہ سے امر ممنوع مباح ہو جائے، بلکہ یہ جلب منفعت ہے، اور جلب منفعت کے لیے امر ممنوع مباح نہیں ہوتا، اس لیے مشینی ذبیحہ میں ذبح اضطراری کا طریقہ اختیار کرنا جائز نہ ہوگا، اور مشینی ذبیحہ کا ذبح اختیاری کے دائرے سے خارج ہونا معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے، کیونکہ 10/15 فیصد مشینی ذبیحہ میں ایسا ہوتا ہے کہ گلے میں چھری لگنے کے بجائے پیٹ میں چھری لگ جاتی ہے اور کسی کے سر پر چھری لگ جاتی ہے اور کسی کے منھ ہر چھری لگ جاتی ہے، یہ سارے کے سارے اسباب اور وجوہات اس کی واضح دلیل ہیں کہ مشینی ذبیحہ ذبح اختیاری کے دائرہ میں داخل نہیں ہے، لہٰذا مشینی ذبیحہ کی جتنی شکلیں ہیں ان میں سے کوئی شکل ذبح اختیاری کے دائرے میں داخل نہیں ہوگی۔"
(35: کتاب الذبائح، (1) باب شرائط الذبح وسننہ وآدابہ، مشینی ذبیحہ، ج: 22، ص: 145-147، ط: مکتبہ اشرفیہ دیوبند الھند)
وفيه أيضاً:
"یہ جو کہا جاتا ہے کہ ذابح کا فعل اور نتیجہء فعل کے درمیان اگر شیء بے اختیاری کا واسطہ ہو تو نتیجہء فعل کو فعل ذابح کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، یہ اصول ذبح اضطراری میں تو صحیح اور مطابق ہوتا ہے مگر ذبح اختیاری میں صحیح نہیں ہوتا۔۔۔"
(35: کتاب الذبائح، (1) باب شرائط الذبح وسننہ وآدابہ، درمیان میں شیء بے اختیاری کا واسطہ، ج: 22، ص: 149، ط: مکتبہ اشرفیہ دیوبند الھند)
(9) بحوث في قضايا فقهية معاصرة میں ہے:
"وأما الذبح بالسكين الدوار، فإن هذا السكين يشبه الرحى وأطرافه حادة، وإن هذا الرحى لايزال يدور بسرعة، وتميز على أطرافه أعناق الدجاج من جانب الحلقوم فتقطع تلقائيا، والظاهر أنه يقطع عروق الدجاج، ولكن قد يحدث أن تتحرك الدجاجة في العلاقة لسبب من الأسباب، فلا ينطبق عنق الدجاج على طرف السكين الدوار، فإما أن لا يقطع عنقه بتاتا، أو يقطع جزء قليل منه بحيث يقع الشك في قطع العروق، وفي كل من الحالتين لا تحصل به الذكاة الشرعية."
(البحث الثالث عشر: أحكام الذبائح واللحوم المستوردة، ثالثاً: طرق الذبح الآلية الحديثية، 1-ذبح الدجاج، ج: 1، ص: 408، ط: دار القلم دمشق)
(10)(الف) بحوث في قضايا فقهية معاصرة میں ہے:
"...ولست أجزم بمدى قوة هذا الملحظ، لكن أردت أن أطرحه للبحث أمام العلماء للبت في هذا الموضوع، ولم أُفتِ بذلك حتى الآن، وخاصة في حين أن عندنا بديلا مناسباً للسكين الدوار، وهو يلبي حاجة الإنتاج في نفس الوقت، وذلك أن يزال السكين الدوار عن موضعه في الجهاز، ويقوم في محله أربعة أشخاص مسلمين يتناوبون في قطع حلقوم الدجاج مع ذكر اسم الله تعالى، كلما تمر عليهم العلاقات بالدجاج، وهذا أمر اقترحته على مذبح كبير في جزيرة ري يونين، فعملوا بذلك، وقد دلت التجربة على أن ذلك لم ينقص من كمية الإنتاج شيئا؛ وذلك لأن هؤلاء الأشخاص يقطعون حلقوم الدجاج في نفس الوقت الذي كان السكين الدوار يقطعه."
(البحث الثالث عشر: أحكام الذبائح واللحوم المستوردة، ثالثاً: طرق الذبح الآلية الحديثية، 1-ذبح الدجاج، ج: 1، ص: 413، ط: دار القلم دمشق)
(ب) فتاوی دار العلوم زکریا میں ہے:
"اس مشین سے چھری نکال دی جائے اور اس کی جگہ پر چند مسلمان یا اہل کتاب کھڑے کئے جائیں اور جب مرغیاں ان کے سامنے سے گزریں تو ان میں سے ہر ایک باری باری ہر مرغی پر 'تسمیہ' پڑھتے ہوئے ان کو شرعی طریقہ پر ذبح کر دے۔"
(کتاب الصيد والذبائح ، باب (1) ذبح کرنے کے احکام کا بیان، مشینی ذبیحہ کی صحیح اور غیر مشکوک متبادل صورت، ج: 6، ص: 176، ط: زمزم پبلشرز)
(ج) حلال غذا، جدید طب اور سائنس میں ہے:
"(1)۔۔۔(ب): مشین سے ذبح کرنے کے متعلق عرض یہ ہے کہ اگر جانور کو ذبح بھی مشین کے ذریعہ کیا جائے تو اس قسم کا مشینی ذبیحہ حرام اور مردار ہوگا، البتہ اگر ذبح کی جگہ سے مشین ہٹا کر انسان کو کھڑا کر دیا جائے اور باقی سارا کام مشین سے ہو اور منسلکہ فتویٰ نمبر 1272/14 کی ذکر کردہ تفصیل کی پابندی کی جائے مثلاً جانور ذبح ہونے تک زندہ ہو، چار میں سے تین رگیں کٹی ہوں، ہر جانور پر مستقل اللہ کا نام لیا جائے وغیرہ تو اس صورت میں ذبیحہ حلال ہوگا۔ مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ اگر ڈنمارک میں ذبح کرنے کے لئے ذکر کردہ شرائط کی پابندی کی جاتی ہو تو مذکورہ گوشت حلال ہوگا ورنہ وہ مردار کے حکم میں کوگا۔۔۔والله تعالي أعلم بالصواب، سرفراز محمد عفا اللہ عنہ، دار الافتاء جامعہ دار العلوم کراچی، 26/6/1431ھ، الجواب صحيح، بندہ محمد تقی عثمانی عفی عنی، 3/7/1431ھ۔۔۔(فتویٰ نمبر: 1277/31)"
(10-رینٹ اور فاٹی آسیڈ اور لیسی تھین کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ نیز مشینی ذبیحہ حلال ہے یا نہیں؟، ص: 76-80، ط: ادارہ اسلامیات)
(11) (الف) تفسير النسفي میں ہے:
"((3)) ثم بين ما كان أهل الجاهلية يأكلونه فقال {حرمت عليكم الميتة} أي البهيمة التي تموت حتف أنفها {والدم} أي المسفوح وهو السائل {ولحم الخنزير} وكله نجس وإنما خص اللحم لأنه معظم المقصود..."
(سورة المائدة، ج: 1، ص: 419، ط: دار تحقيق الكتاب، لبنان)
(ب) بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"وأما بيان شرط حل الأكل في الحيوان المأكول فشرط حل الأكل في الحيوان المأكول البري هو الذكاة فلا يحل أكله بدونها؛ لقوله تبارك وتعالى {حرمت عليكم الميتة والدم}..."
(کتاب الذبائح والصيود، فصل في شرط حل الأكل في الحيوان المأكول، ج: 6، ص: 197، ط: دار الکتب العلمیۃ)
(ج) الفتاوي الهندية میں ہے:
"(وأما) (حكمها) فطهارة المذبوح وحل أكله من المأكول وطهارة غير المأكول للانتفاع لا بجهة الأكل، كذا في محيط السرخسي."
(کتاب الذبائح، الباب الأول في ركن الذبح وشرائطه وحكمه وأنواعه، ج: 5، ص: 354، ط: دار الکتب العلمیۃ)
(12) (الف)القواعد الفقهية وتطبيقاتها في المذاهب الأربعة میں ہے:
"ولمراعاة الخلاف شروط، فإن لم تتوفر فلا يراعى الخلاف، وهذه الشروط هي: أحدها: ألا توقع مراعاته في خلاف آخر. الثاني: ألا يخالف سنة ثابتة صحيحة أو حسنة. الثالث: أن يقوى مدركه أي دليله الذي استند إليه المجتهد. قال التاج السبكي: فإن ضعف ونأى عن مأخذ الشرع كان معدودا من الهفوات والسقطات، لا من الخلافيات، ونعني بالقوة: وقوف الذهن عندها، وتعلق ذي الفطنة بسبيلها، لا انتهاض الحجة بها، فإن الحجة لو انتهضت لما كنا مخالفين لها، وقد قال إمام الحرمين في هذه المسألة: إن المحققين لا يقيمون لخلاف أهل الظاهر وزنا. قاله السيوطي تبعا للنووي التابع لإمام الحرمين، واعتمده ابن حجر الهيثمي رحمهم الله تعالى آمين."
(الخلاف، القاعدة: 180، الخروج من الخلاف مستحب، شروط مراعاة الخلاف، ص: 718، ط: دار الفکر بدمشق)
(ب) المنثور في القواعد للزركشي میں ہے:
"إذا اجتمع الحلال والحرام أو المبيح والمحرم غلب جانب الحرام."
(حرف الألف، إذا اجتمع الحلال والحرام أو المبيح والمحرم غلب جانب الحرام ، ج: 1، ص: 125،ط: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية، الكويت)
وفيه أيضاً:
"ومنها، الحيوان المشكل أمره وفيه وجهان أصحهما الحل، وذكر الرافعي في (كتاب) الأطعمة، أن في موضع الأشكال يميل الشافعي (رحمه الله) إلي الإباحة ويميل (أبو حنيفة) (رحمه الله) إلي التحريم."
(حرف الحاء، الحلال، ج: 2، ص: 71،ط: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية، الكويت)
وفيه أيضاً:
"وقال الشيخ أبي حامد وغيره الشك ثلاثة أضرب: شك طرأ علي أصل حرام، كشاة مذبوحة في بلد فيه مسلمون ومجوس لا يغلب أحدهما الآخر فلا تحل، لأن أصلها حرام."
(حرف الشين، الشك، ج: 2، ص: 287،ط: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية، الكويت)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101637
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن