
1۔ہمارےہاں چاول اورسرسوں کوجب مشین والےکےپاس لےجاتےہیں توان سےجوبھوسہ حاصل ہوتاہےوہ مشین والااپنی اجرت کےطورپرلیتاہےجبکہ پہلےکوئی طےبھی نہیں کرتےاورنقدرقم دینےکاتوتصوربھی نہیں ہےاب سوال یہ ہےکہ کیایہ صورت جائزہےیانہیں ؟اگرجائزنہیں توکیااس کےجوازکی کوئی صورت ہے؟
1۔صورتِ مسئولہ میں مشین والے کا چاول یا سرسوں کا بھوسہ بطورِ اجرت لینا دو وجہ سے اجارہ کو فاسد کر دیتا ہے:
پہلی وجہ: اجرت (یعنی بھوسہ) مشین والے کے عمل سے حاصل ہوتی ہے، مزدورکےعمل سےحاصل ہونےوالی چیزکواس کی اجرت مقررکرناجائزنہیں ہے۔
دوسری وجہ: اجرت یعنی بھوسہ کی مقدار مجہول ہے، حالانکہ اجارہ کے صحیح ہونے کے لیے اجرت کا متعین ہونا ضروری ہے۔
البتہ جواز کی صورت یہ ہو سکتی ہے کوئی متعینہ مقدار بھوسی وغیرہ اجرت کے طور پر طے کرلی جائے اس میں یہ شرط نہ لگائی جائے کہ یہی بھوسی لی جائے گی جو اس کے عمل کے نتیجے میں نکل رہی ہے پھر خواہ بلا شرط اسی بھوسی کو دیدیا جائے ، تو یہ معاملہ جائز ہوجائے گا۔
2۔مذکورہ صورت میں اگرتویہ شرط لگائی جاتی ہوکہ اسی گندم کےآٹےسےاجرت دی جائےگی تویہ جائزنہیں ہےاوراگراسی گندم کےآٹےسےدینےکی شرط نہ ہوبلکہ مطلقااجرت طےکرلی جاتی ہواوربعدمیں پھرخواہ بلاشرط اسی گندم کےآٹےسےدےدی جائےتوجائزہے،باقی جوکبھی طے شدہ نقد رقم بطوراجرت کےلےتےہیں تویہ جوازکی بہتر صورت ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"باب الإجارة الفاسدة (الفاسد) من العقود (ما كان مشروعا بأصله دون وصفه، والباطل ما ليس مشروعا أصلا) لا بأصله ولا بوصفه (وحكم الأول) وهو الفاسد (وجوب أجر المثل."
(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج: 6، ص: 45، ط: سعید)
تبيين الحقائق وحاشية الشلبي میں ہے:
"قوله والحيلة في جوازه أن يشترط قفيزا مطلقا إلخ) قال الأتقاني رحمه الله والحيلة في جواز قفيز الطحان أن يشترط صاحب الحنطة قفيزا من الدقيق الجيد ولا يقول من هذه الحنطة؛ لأن الدقيق إذا لم يكن مضافا إلى حنطة بعينها يجب في الذمة ثم إذا طحن يعطيه صاحب الحنطة من الدقيق إن شاء فيجوز."
(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج: 5، ص: 130، ط: دارالکتب الإسلامي)
فتاوی شامی میں ہے :
"والحيلة أن يفرز الأجر أولا أو يسمي قفيزا بلا تعيين ثم يعطيه قفيزا منه فيجوز."
(كتاب الإجارة، مطلب في الاستئجار على المعاصي، ج: 6، ص: 57، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101135
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن