
میرا موبائل کی خریدوفروخت کا کاروبار ہے، میرے پاس ایک شخص اپنا موبائل بیچنے کے لئے لایا، اس نے سودے کے دوران کہا کہ موبائل ایک ضر ورت کی وجہ سے بیچ رہا ہوں، اور مجھے ضرورت بھی بتائی ،اور کہا کہ آپ کل تک اس کو مت بیچنا ،میں کل تک اس کو واپس لے لوں گا 2000 اوپر دےکر ،لیکن میں نے نفع پہلے سے طے کرنے سے انکار کیا ،تاکہ سود کے زمرے میں نہ آئے، اور میں نے فروخت کرنے والے سے کہا کہ آپ سے میں نے یہ موبائل خرید لیا ہے،یہ میرا ہوگیا، اب میری مرضی ہے کہ میں کتنے کا بیچوں ،البتہ آپ کے لئے ایک دن کے لئے رکھ لوں گا۔
اب اسی شخص کو موبائل فروخت کرنے پر جو نفع حاصل ہوگا وہ میرے لئے حرام یا سود تو نہیں؟
فتویٰ نمبر : 144703100382
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن