
ہمارے بازار میں یہ اصول ہے کہ جب بوری کو وزن کیا جاتا ہے تو اس کے وزن کی اجرت مزدور دس روپے لیتا ہے، اور یہ دس روپے بازار کے اصول کے مطابق گاہک پر لازم ہوتے ہیں۔ تو کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ اگر ناجائز ہے تو اس کی صحیح صورت کیا ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ سوداہوجانے کے بعد فروخت شدہ چیزخریدارکے سپردکرنافروخت کنندہ کی شرعی ذمہ دار ی ہوتی ہے،سپر دگی سے وابستہ تمام امور کی ذمہ داری بھی شریعت مطہرہ نے فروخت کنندہ کے سپردکر رکھی ہے،ان امور میں سے ایک امر مبیع کا وزن کرنا ہے،مبیع کے وزن کی ذمہ داری چوں کہ فروخت کنندہ کی ہے،لہذا وزن کرنے پر آنے والے اخراجات بھی فروخت کنندہ کے ہی ذمہ ہوں گے،البتہ اگر کسی جگہ مبیع کے وزن کی ذمہ داری خریدار کے سپر دہونے کا عرف ہوتو بعض فقہائے کرام نے عرف کی بنیاد پر اس کی اجازت دی ہے،لہذا صورت مسئولہ میں عرف کی بنیاد پر خریدار سے وزن کرنے کی قیمت لینے کی اگر چہ گنجائش ہوگی،تاہم اصل حکم پر عمل کرتے ہوئے وزن کرنے پر آنے والے اخراجات فروخت کنندہ کو ادا کرنے کا معمول بنانا چاہیے۔
فتح القدیر میں ہے:
"قال (وأجرة الكيال وناقد الثمن على البائع) أما الكيل فلا بد منه للتسليم وهو على البائع ومعنى هذا إذا بيع مكايلة، وكذا أجرة الوزان والزراع والعداد، وأما النقد فالمذكور رواية ابن رستم عن محمد؛ لأن النقد يكون بعد التسليم؛ ألا ترى أنه يكون بعد الوزن والبائع هو المحتاج إليه ليميز ما تعلق به حقه من غيره أو ليعرف المعيب ليرده.
وفي رواية ابن سماعة عنه على المشتري؛ لأنه يحتاج إلى تسليم الجيد المقدر، والجودة تعرف بالنقد كما يعرف القدر بالوزن فيكون عليه."
(کتاب البیوع،فصل من باع دارا دخل بناؤها في البيع،ج:6،ص:295،ط:دار الفكر، بيروت)
دررالحکام فی شرح مجلةالأحکام میں ہے:
"(المادة: 928):المصارف المتعلقة بتسلم المبيع تلزم البائع وحده مثلا أجرة الكيال للمكيلات والوزان للموزونات المبيعة تلزم البائع وحده. هذا في المكيلات والمعدودات والمذروعات والموزونات التي لم تبع جزافا فهذه المصارف تلزم البائع لأن الكيل والعد والذرع والوزن من متممات تسليم المبيع ولما كان تسليم المبيع لازما له فيلزمه ما يتم به نفقة ما يكون به تسليم المبيع لازمة له (مجمع الأنهر). فإذا باع شخص حمل سفينة حطبا كل قنطار بعشرين قرشا فأجرة تسليم القنطار تلزم البائع إلا أن العمل في زماننا جار على أخذ الأجرة من المشتري حسب النظام المخصوص وكذلك أجرة إفراغ الحنطة في الأعدال (الأكياس) تعود على البائع وكذلك إذ اشترى ماء من السقاء بالقربة فصب الماء في إناء المشتري يعود على البائع."
(کتاب البیوع، المادۃ: 289، ج: 1، ص: 271، ط: دار الکتب العلمیة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو اشترى حنطة مكايلة فالكيل على البائع وصبها في وعاء المشتري على البائع أيضا هو المختار كذا في الخلاصة وكذا لو اشترى ماء من سقاء في قربة كان صب الماء على السقاء والمعتبر في هذا العرف."
(کتاب البیوع،الفصل السادس:فی مایلزم المتعاقدین من المؤنةفی تسلیم المبیع والثمن،ج:3،ص:27،ط:دارالفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707102324
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن