بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مبیع کی وصولی کی مدت متعین نہ کرنا


سوال

ہمارے گاؤں میں سریہ کی خریداری ہوا کرتی ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ خریدار فروخت کنندہ سے سریہ کی معلوم مقدار طے کرکے اس سے سریہ خریدتا ہےاور پیسے دے دیتا ہےاور پھر سریہ کی وصول یابی کے بارے میں کہتا ہے کہ اس بیان کردہ مقدار کو میں کسی بھی وقت لے لوں گا، کبھی اس کی وصول یابی دس سال بعد ہوتی ہے، کبھی پانچ سال، غرض مدت معلوم نہیں ہوتی۔ بسا اوقات مثلا دس سال کے بعد وصول یابی کے وقت سریہ کی قیمت بہت زیادہ بڑھ بھی جاتی ہے لیکن فروخت کنندہ پابند ہوتا ہےاس سابقہ ریٹ پر دینے کا جو اس سے طے ہوا تھا۔

یہ صورت شرعا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں متعین مقدار موجود سریہ کی خریداری کے بعد سریہ، فروخت کنندہ کے پاس حسب ضرورت اٹھانے کا کہہ کر چھوڑنے کی صورت میں سریہ کی حیثیت امانت کی ہوگی  اور ایسا سودا شرعامعتبر ہوگا، نیز بائع کے پاس موجود فروخت شدہ سریہ پر  امانت کے احکام لاگو ہوں گے، البتہ اگر سریہ سودے کے وقت تیار نہ ہو اور مطلوب مقدار کی رقم پیشگی دینے کی صورت ہو تو ایسا سودا بیع سلم کی شرائط کی پاسداری کے ساتھ تو درست ہوگا، بصورت دیگر سریہ موجود نہ ہونے کے باوجود رقم دے کر نقدسودا کرنا اور غیر متعین مدت کے بعد سریہ لینا ، فی الوقت سریہ کے معدوم ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہوگا۔

بیع سلم کی شرائط درج ذیل ہیں:

  1. مطلوبہ چیز کی جنس معلوم ہو۔
  2. مطلوبہ چیز کی نوع  معلوم ہو ۔
  3. مطلوبہ چیز کی صفت   معلوم ہو ۔
  4. مطلوبہ چیز کی مقدار   معلوم ہو ۔
  5. مدت معلوم ہو ،کم از کم ایک ماہ ہو ۔
  6. راس المال( سرمایہ  کی مقدار) معلوم ہو ۔
  7. مطلوبہ چیز  کے دینے کی جگہ معلوم ہو ۔
  8. جدائیگی سے پہلے مجلس عقد میں مکمل راس المال (چیز کی مقرر کی گئی قیمت)پر قبضہ ہو۔

اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی نہیں پائی گئی تو  ایسا   عقد کرنا  جائز نہیں ہوگا ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومنها ‌في ‌المبيع ‌وهو ‌أن ‌يكون ‌موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كبيع نتاج النتاج والحمل كذا في البدائع وأن يكون مملوكا في نفسه وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه فلا ينعقد بيع الكلإ ولو في أرض مملوكة له ولا بيع ما ليس مملوكا له وإن ملكه بعده إلا السلم."

(کتاب البیوع، الباب الأول، ج: 3، ص: 2-3، ط: دار الفکر)

و فیہ ایضا:

"(وأما الشروط التي في المسلم فيه).........(والرابع) أن يكون معلوم القدر بالكيل أو الوزن أو العدد أو الذرع، كذا في البدائع."

(کتاب البیوع، الباب الثامن عشر في السلم، ج: 3، ص: 179، ط: دار الفکر)

الأصل للإمام محمد میں ہے:

"‌ولا ‌بأس ‌بالسلم في الحديد والرصاص والصفر وما أشبهه مما يوزن إذا اشترط أجلا معلوما ووزنا معلوما وضربا معلوما."

(کتاب البیوع و السلم، ج: 2، ص: 372، ط: دار ابن حزم)

رد المحتار میں ہے:

"(وشرطه) أي شروط صحته التي تذكر في العقد سبعة (بيان جنس) كبر أو تمر (و) بيان (نوع) كمسقي أو بعلي (وصفة) كجيد أو رديء (وقدر) ككذا كيلا لا ينقبض ولا ينبسط (وأجل وأقله) في السلم (شهر) به يفتى وفي الحاوي لا بأس بالسلم في نوع واحد على أن يكون حلول بعضه في وقت وبعضه في وقت آخر۔۔(و) بيان (قدر رأس المال) إن تعلق العقد بمقداره كما (في مكيل وموزون وعددي غير متفاوت)۔۔ (و) السابع بيان (مكان الإيفاء) للمسلم فيه (فيما له حمل)۔۔(و) بقي من الشروط (قبض رأس المال) ولو عينا (قبل الافتراق) بأبدانھما."

(کتاب البیوع، باب السلم، ج: 5، ص: 215، ج: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100249

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں