
قربانی کے ایام میں ہم نے ایک صاحب سے اجتماعی قربانی کے جانوروں کی خریداری کا معاملہ کیا، اس میں دیگر شرائط کے ساتھ یہ بھی شرط تھی کہ بائع جانور ہماری جگہ پہنچائے گا، جگہ پر پہنچانے کے بعد بائع کی ذمہ داری ختم ہو جائےگی، اب مسئلہ یہ ہوا کہ راستے میں ایک جانور مر گیا، اب وہ جانور کسی کے ذمے آئے گا ؟ اس حوالے سے بائع و مشتری دونوں کا مؤقف درج ذیل ہے:
بائع کا مؤقف:
میں نے مشتری کو معاہدے کے مطابق وزن کیلئے بلایا، انہوں نے وزن کیا، دو جانوروں کو وزن کم ہونے کی وجہ مسترد کیا۔ میں نے جس گاڑی والے سےجانوروں کی سپلائی کی بات کی تھی اس گاڑی میں جانور لوڈ کروا دیے۔ اس سے طے تھاکہ آپ جانورلے جائیں گے اور کرا یہ بھی طے کر لیا تھا، ڈرائیور کے علاوہ اس گاڑی میں ہمارا کوئی مزدور نہیں تھا۔ مشتری کے ساتھ آنے والا ایک ساتھی گاڑی میں جانوروں کے ساتھ سوار ہو گیا، راستے میں جانور مر گیا ۔ میری رائے یہ ہے کہ جب میں نے جانور لوڈ کروا دیے اورمشتری کا ایک بندہ جانوروں کے ساتھ ہو گیا تو اب میری ذمہ داری ختم ہوگئی۔
وضاحت: مشتری تک جانور پہنچانے کی ذمہ داری بائع کی تھی، اسی نے گاڑی بک کروائی تھی اور اس کا کرایہ بھی اس نے دیا تھا۔
مشتری ی کا مؤقف:
معاہدے میں یہ بات ذکر تھی کر جانور صحیح سلامت ہماری جگہ پر پہنچانا بائع کے ذمہ ہوگا، اس طرح سےیہ بات بھی ذکر تھی کہ بائع جب جانوروں کی پنچاب وغیرہ سے خریداری کرکے اپنی جگہ جانور لے آئےگا (جس میں ہمارے جانوروں کے علاوہ دیگر احباب کے بھی جانور شامل تھے) تو جب ان جانوروں میں سے ہمارے لیے جانور نکالے جائیں گے، اس وقت ہم وزن کے لیے آئیں گے تاکہ دیکھ سکیں کہ جانور طے شدہ وزن کے مطابق ہےیا نہیں۔ اس دن بھی ہم صرف وزن دیکھنے گئے تھے نہ کہ جانورلینے کے لیے، جب جانور ہمارے لیے الگ کیے گئے تواس کاوزن ہوا، کچھ جانور ہم نے مسترد کر دیے۔ اب جو جانور وزن کے مطابق تھے وہ جانور انہوں ـ نے گاڑی میں لوڈ کروا دیے، وہ گاڑی بائع نےبک کروائی تھی اس کا کرایہ بھی اس کے ذمہ تھا،وہ پورے مہینے کےلیے اس طور پر بک تھی کہ جب بائع بلائے گا وہ گاڑی والا آکر جانور لے جائے گا(اس مرتبہ کے علاوہ جتنی مرتبہ جانورآئے تھے وہ بائع کی بک کردہ گاڑی میں آئے تھے، اوراس میں ہمارا آدمی سوار نہیں ہوتا تھا) مشتری کے ساتھ اس کا ایک دوست آیا تھا، وہ گاڑی میں ویسے ہی سوار ہو گیا، اب راستے میں جانور طبعی موت مر گیا، مشتری جو الگ سواری پر گاڑی کے ساتھ چل رہا تھا، اس نے بلکہ ڈرائیور نے بھی فون کر کے بائع کواطلاع دی تو بائع نے کہا یہ میری ذمے داری نہیں ہے۔
ہماری رائے یہ ہےکہ چونکہ جانور جگہ تک پہنچانا بائع کی ذمہ داری تھی، اور وہ جانور جگہ پر پہنچنے سے پہلے مر گیا، تو ہم صرف وزن کیلئے گئے تھے اور گاڑی والا بائع کا تھا نہ کہ ہمارا، لهذا یہ جانور بائع کے ذمہ مرا ہے اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں۔
صورت مسئولہ میں جب فریقین کے درمیان معاہدہ میں یہ شرط تھی کہ بائع جانورخریدار کی جگہ پہنچائے گا، جگہ پر پہنچانے کے بعد بائع کی ذمہ داری ختم ہو جائےگی اور مذکورہ معاملہ میں جانور بائع نے باقاعدہ خریدار کے حوالے نہیں کیے تھے اوروہ بائع کی بک کردہ گاڑی میں بھیجے گئے تھےجس کا کرایہ بائع کے ذمہ تھا، تو راستہ میں جو جانور ہلاک ہوا یہ جانوربائع کے ذمہ میں ہلاک ہوا ہے، لہذا اگر بائع نے اس جانور کی قیمت لے لی ہوتو اس کےذمہ اس کو واپس کرنا لازم ہے۔
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"إذا بيع مال على أن يسلم في محل كذا لزم تسليمه في المحل المذكور...إذا شرط تسليم المبيع الذي يحتاج إلى مئونة في نقله إلى محل معين فيجب تسليمه هناك."
(الكتاب الأول البيوع، الباب الخامس في بيان المسائل المتعلقة بالتسليم والتسلم، الفصل الثالث في حق مكان التسليم في البيع، ج: 1، ص: 270، ط: دار الجیل)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي الفتح والدر المنتقى: لو هلك المبيع بفعل البائع أو بفعل المبيع أو بأمر سماوي، بطل البيع ويرجع بالثمن لو مقبوضا. وإن هلك بفعل المشتري، فعليه ثمنه إن كان البيع مطلقا أو بشرط الخيار له."
(کتاب البیوع، ج: 4، ص: 560، ط: دار الفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101832
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن