
ایک لڑکے کا دو سال پہلے نکاح ہوا، لڑکی والوں نے رخصتی دے دی، مگر لڑکا اس کو اپنے گھر لے کر نہیں گیا، لڑکی اپنے ماں باپ کے گھر رہتی ہے، دو سال ہو گئے ہیں، لڑکا بھی لڑکی کے ماں باپ کے گھر رہتا ہے اور حقوق زوجیت ادا کرتا ہے، مگر اس نے دو سال سے اس لڑکی کو نان نفقے کی مد میں کچھ نہیں دیا، صرف کبھی کبھی دوسری چیزیں خرید کر دی، اب لڑکا اس کو طلاق دینا چاہتا ہے، تو کیا گزشتہ دو سالوں کا نان نفقہ ادا کرنا واجب ہو گا؟ اگر ہو گا تو کتنا ہوگا؟ نیز طلاق دینے کی صورت میں عدت کے خرچے کا کیا حکم ہے؟ جب کہ وہ لڑکی ابھی اپنے والدین کے گھر رہتی ہے؟
واضح رہے کہ بیوی کاگزشتہ مدت کا نفقہ صرف دو صورتوں میں لیا جاسکتا ہے:
(الف) قاضی (عدالت ) نے خرچہ طے کیا ہو۔
(ب) فریقین نے باہمی رضامندی سے کسی مقدار کا تعین کرلیا ہو۔
لہذا اگر شوہر نے واقعۃ ً اپنی بیوی کو گزشتہ دو سالوں کانفقہ نہیں دیا اور نفقہ کے تعین میں مذکورہ بالا دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت بھی پائی جاتی ہو تو بیوی گزشتہ دو سالوں کے نفقہ کا مطالبہ کرسکتی ہے اور اس کا ادا کرنا شوہر پر لازم ہوگا اور اگر ان دو صورتوں میں سے کوئی صورت نہیں پائی جاتی تو گزشتہ دو سال کا نفقہ شوہر پر لازم نہیں۔
طلاق یا خلع کے بعد عورت پر عدت شوہر کے گھر میں گزارنا واجب ہے، اور عدت کے لیے باپردہ ماحول کے ساتھ رہائش فراہم کرنا اور نان نفقہ ادا کرنا شوہر پر لازم ہے،لہٰذا اگر مطلقہ عدت کے ایام شوہر کے گھر میں گزارے یا شوہر کی رضامندی سےیا شوہر کے گھر میں با پردہ عدت گزارنے کا انتظام نہ کر سکنے کی وجہ سے میکے میں گزارے تو دونوں صورتوں میں عدت کا خرچہ دینا شوہر پر لازم ہے، اور اگر مطلقہ بغیر کسی شرعی وجہ کے عدت شوہر کے گھر میں نہ گزارے، بلکہ اپنے میکے میں یا کسی اور جگہ گزارے تو ایسی صورت میں شرعًا عورت عدت کے خرچے کی حق دار نہیں ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
" (والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء، وبعده ترجع بما أنفقت ولو من مال نفسها بلا أمر قاض.
(قوله : والنفقة لا تصير دينا إلخ) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها بل تسقط بمضي المدة."
(كتاب الطلاق، باب النفقة، مطلب لا تصير النفقة دينا إلا بالقضاء أو الرضا،3/ 594، ط: سعيد)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان الأصل أن الفرقة متى كانت من جهة الزوج فلها النفقة، وإن كانت من جهة المرأة إن كانت بحق لها النفقة، وإن كانت بمعصية لا نفقة لها ..... والمعتدة إذا كانت لا تلزم بيت العدة بل تسكن زمانا وتبرز زمانا لا تستحق النفقة كذا في الظهيرية. ولو طلقها، وهي ناشزة فلها أن تعود إلى بيت زوجها، وتأخذ النفقة ... وكما تستحق المعتدة نفقة العدة تستحق الكسوة كذا في فتاوى قاضي خان ويعتبر في هذه النفقة ما يكفيها وهو الوسط من الكفاية وهي غير مقدرة؛ لأن هذه النفقة نظير نفقة النكاح فيعتبر فيها ما يعتبر في نفقة النكاح."
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الثالث في نفقة المعتدة، ج:1، ص:558،557، ط:رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100287
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن