بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ماں کا اپنا سارا مال ایک ہی بیٹے کو دینا


سوال

میری والدہ  الحمد للہ حیات ہیں،  میری والدہ کے پاس سونا ہے جو کہ  تقریبا 60 لاکھ روپے کا  ہے، تو میری والدہ یہ 60 لاکھ مجھے دینا چاہ رہی ہیں کہ یہ صرف آپ کے ہیں، الحمدللہ ہم  پانچ بھائی اور ایک بہن ہیں، میں نے  گھر میں سب کے سامنے  اقرار کیا ہے کہ  کل کو خدا نخواستہ میری والدہ کا انتقال ہو جائے،  تو یہ 60 لاکھ روپے صرف میرے ہوں گے یا سب کے ذمے مجھے دینا لازم ہوگا، میری والدہ سب کے سامنے بار بار  یہ کہہ رہی ہیں کہ یہ پیسے صرف مزمل کے ہیں، اس نے میری خدمت کی ہے۔

تو میرا سوال یہ ہے کہ کل کو  اگر ان کا انتقال ہو جائے تو یہ پیسے مجھے سب کو بانٹنے پڑیں گے یا نہیں؟برائے مہربانی  راہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر والدہ اپنی زندگی میں ہی  60 لاکھ روپے ( یا اس کی مالیت کا سونا)  آپ کو ہدیہ کرکے آپ کے حوالے کردیں، تب تو وہ آپ کی ملکیت میں آجائیں گے، اور اگر ایسا نہ کریں، تو ان کی وفات کے بعد ان کا یہ سونا دیگر ترکہ کے ساتھ شامل ہوکر تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے تناسب سے تقسیم ہوں گے۔

باقی یہ بات ملحوظ رہے کہ اولاد کے درمیان ہدیہ (گفٹ) کرنے میں برابری ضروری ہے، یعنی ایک بیٹے یا بیٹی کو جتنا مال دیا جائے، دیگر بچوں کو بھی اتنا مال دینا ضروری ہے تاکہ ناانصافی نہ ہو، اگر ایک کو دیا جائے اور باقیوں کو محروم کردیا جائے، تو یہ عدل و  انصاف کے خلاف ہے، شریعتِ مطہرہ میں اس کی ممانعت آئی ہے، لہٰذا اگر  والدہ اپنا مال اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہیں، تو ان  پر لازم ہوگا کہ وہ  ہر ایک بیٹا ،  بیٹی کو برابر سرابر تقسیم کرکے دیں، البتہ کسی کی خدمت، دینداری یا ضرورت کی بناء  پر دوسروں سے نسبتاً کچھ زیادہ دینا چاہیں، تو دے سکتی ہیں۔

صحيح بخاری میں ہے:

"حدثنا حامد بن عمر، حدثنا أبو عوانة، عن حصين، عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما، وهو على المنبر يقول: أعطاني أبي عطية، فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية، فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله، قال: «أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟»، قال: لا، قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»، قال: فرجع فرد عطيته."

(كتاب الهبة، ج:3، ص:157، ط: دار طوق النجاة)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولو ‌وهب ‌رجل ‌شيئا ‌لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره."

(كتاب الهبة، ج:4، ص:391، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100863

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں