بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ماں کا اپنے بچے کو نانا، نانی سے واپس لینا:شرعی حکم اور والدین کی ناراضگی


سوال

 سائلہ کے چار بچے (تین بیٹے، ایک بیٹی) ہیں۔ مالی حالات کی تنگی  کی وجہ سے سائلہ کے سسرال والوں نے مشورہ دیا کہ ایک بیٹا اپنے والدین (بچے کے نانا نانی) کو دے دیا جائے، کیونکہ ان کی اپنی کوئی نرینہ (بیٹا) اولاد نہیں ہے۔ چنانچہ سائلہ نے محض دو ماہ کی عمر میں اپنا بیٹا اپنے والدین کے سپرد کر دیا۔ بچے کو دیتے وقت سائلہ کے شوہر (بچے کے والد) کی نیت اور شرط یہ تھی کہ جب بچہ دو سال کا ہو جائے گا اور دودھ چھڑا لیا جائے گا، تو اسے واپس لے لیا جائے گا۔ تاہم، دو سال مکمل ہونے پر جب واپسی کا مطالبہ کیا گیا، تو سائلہ کی والدہ (نانی) نے شدید جذباتی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم بچے کے بغیر مر جائیں گے"۔ اس نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے شوہر نے اس شرط پر بچہ وہیں رہنے دیا کہ بچے سے اس کی اصل شناخت (حقیقی والدین) کبھی نہیں چھپائی جائے گی ۔ اب بچہ چودہ (14) سال کی عمر کو پہنچ چکا ہے اور وہ اپنی خوشی اور مرضی سے اپنے حقیقی والدین (سائلہ) کے پاس واپس آگیا ہےاور ہم بھی اسے لانا چاہتے تھے۔ سائلہ اور اس کے شوہر اب اس کی اعلیٰ تعلیم، تربیت اور مستقبل کی منصوبہ بندی اپنے زیرِ سایہ کرنا چاہتے ہیں اور بچہ بھی اپنے حقیقی بہن بھائیوں کے ساتھ خوش ہے۔ سائلہ کے والد (نانا) کا موقف ہے کہ "پالنے والے کا حق پیدا کرنے والے سے زیادہ ہوتا ہے"۔ دوسری طرف سائلہ کی والدہ (نانی) دل کی مریضہ ہیں اور ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو نازک قرار دیا ہے۔  نانانانی اور بہنیں اس بات پر سخت ناراض ہیں اور اسے والدین کی "نافرمانی" قرار دے رہے ہیں۔اور کہہ رہے ہیں کہ آپ نے والدین کو  بڑھاپے میں تکلیف پہنچائی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ بچے کو ساتھ رکھنے کا حق کس کا ہے والدین کو یا ننھیال کو؟

کیا اس وجہ سے والدین کی ناراضگی اللہ تعالی کی ناراضگی کا سبب بنے گی؟اور کیا میں والدین کی نافرمان کہلاؤں گی؟

جواب

واضح رہے کہ بچپن میں اپنی اولاد کسی کو دے دینے سے نہ نسب بدلتاہے،اورنہ ہی گود لینے والے کی حقیقی اولاد بن جاتی ہے ،بلکہ وہ بدستور اپنے حقیقی والدین کی اولاد رہتی ہے ،اور حقیقی والدین جب بھی چاہیں اپنی اولاد کو گود لینے ولے سے واپس لینے کا حق رکھتے ہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ  کا اپنا بیٹا اپنے والدین کی گود سے لینا شرعاً درست ہے کیونکہ وہ اپنا حق استعمال کر رہی ہے ،اور اس بنا  پر اسے گناہ گار بھی نہیں قرار دیا جائے گا۔البتہ یہ معاملہ صرف حق کا نہیں،بلکہ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور اچھائی کا ہے،کیونکہ انہوں نے بچے کی چودہ سال پرورش کی ہے ،اس لیے ان کا اس بچے سے شدید جذباتی تعلق فطری ہے،خاص طور پر نانی کی بیماری کی حالت میں ان کی دل جوئی اور  رعایت  کرنا سائلہ پر لاز م ہے،ان کی ناراضگی کو مطلقاً نافرمانی نہیں کہا جائے گا، لیکن اگر سائلہ ان کی تکلیف کو نظرانداز کرے اور ان کے ساتھ بےرخی اختیار کرے تو یہ گناہ کا باعث بن سکتا ہے۔

بہتر اور پسندیدہ یہ ہے کہ ایسی صورت بنائی جائے جس میں سائلہ اپنے حق کے ساتھ ساتھ والدین کے جذبات اور صحت کابھی لحاظ رکھے،اور بچہ کا نانا، نانی سے مسلسل تعلق برقرار رہے ۔

نوٹ:اگر والدہ کی صحت واقعی کافی متاثر ہورہی ہو تووقتی  طور پر بچے کو ان کے پاس رکھنا حسنِ سلوک اور زیادہ باعثِ اجر  ہے۔

قرآن کریم میں ہے : 

"{وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَھْدِي السَّبِيلَ  ادْعُوهُمْ لِآبَا ئِھِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا}."[الأحزاب: 4، 5]

"ترجمہ: اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنادیا، یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے ، تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو، یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہوجاوے تو اس سے تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا، لیکن ہاں دل سے ارادہ کر کے کرو (تو اس پر مؤاخذہ ہوگا)، اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔  (از بیان القرآن)"

تفسیرِ مظہری  میں ہے:

"فلايثبت بالتبني شىء من أحكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك."

(الأحزاب: 4،5، 284/7، ط: رشيدية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710101206

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں