بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مال مشترک پر زکات کاحکم


سوال

ہم چاربھائیوں کا مشترکہ کاروبار ہے ،جس میں چاروں بھائیوں کا برابر حصہ ہے ،یعنی  ہر ایک کا ٪25 فیصد حصہ ہے ،سال کے  اختتام پر کل مال 30 لاکھ کابنتاہے ،اور سال کے درمیان میں  ایک بھائی نے کاروبار سے چار لاکھ قرضہ لیاتھا،گویاکل مال 34 لاکھ کا ہوا،تو اب زکات کی ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہوگا اور چاروں پر علیحدہ علیحدہ کتنی زکات لازم ہوگی۔

وضاحت :اس کے ان کے پاس جو اموال ہے ان کی زکات اداکررہے ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں   مشترکہ کاروبار کی زکوٰۃ اداکرنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے  کہ تمام شرکاء کل کاروبارکی زکوٰۃ مشترکہ طور پر باہمی رضامندی سے اداکریں ،یا ہر ایک اپنے اپنے حصہ کی خود زکاۃ اداکرے ،البتہ اگرکوئی ایک شریک بقیہ شرکاء کی اجازت کے بغیر کل کاروبارکی زکاۃ اداکرے گا،تو بقیہ شرکاء کی زکوٰۃ کی ادائیگی ان کی اجازت پر موقوف رہے گی ،اگر وہ راضی  نہ ہو ں،تو بغیر اجازت زکوٰۃ ادا کرنے والا شریک ضامن ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"و لو تصدق عن غيره بغير أمره فإن تصدق بمال نفسه جازت الصدقة عن نفسه و لاتجوز عن غيره و إن أجازه و رضي به، أما عدم الجواز عن غيره فلعدم التمليك منه إذ لا ملك له في المؤدى و لايملكه بالإجازة فلاتقع الصدقة عنه و تقع عن المتصدق؛ لأن التصدق وجد نفاذًا عليه، و إن تصدق بمال المتصدق عنه وقف على إجازته فإن أجاز و المال قائم جاز عن الزكاة و إن كان المال هالكًا جاز عن التطوع ولم يجز عن الزكاة؛ لأنه لما تصدق عنه بغير أمره وهلك المال صار بدله دينًا في ذمته فلو جاز ذلك عن الزكاة كان أداء الدين عن الغير و أنه لايجوز، والله أعلم."

(بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، فصل شرائط ركن الزكوة، 41/2، دارالكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا تجب) الزكاة عندنا (في نصاب) مشترك (من سائمة) ومال تجارة (وإن صحت الخلطة فيه) باتحاد أسباب الإسامة التسعة التي يجمعها أوص من يشفع وبيانه في شروح المجمع وإن تعدد النصاب تجب إجماعا.

(قوله: وإن تعدد النصاب) أي بحيث يبلغ قبل الضم مال كل واحد بانفراده نصابا فإنه يجب حينئذ على كل منهما زكاة نصابه."

(‌‌كتاب الزكاة،‌‌باب زكاة المال،ج:2،ص:304،ط:سعید)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

"(قوله: وليس لكل واحد من الشريكين أن يؤدي ‌زكاة مال الآخر إلا بإذنه) ؛ لأن ذلك ليس من جنس التجارة فلا يملك التصرف فيها."

 

(كتاب الشركة،ج:1،ص:291، ط:المطبعة الخيرية)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"‌الخليطان في المواشي كغير الخليطين فإن كان نصيب كل واحد منهما يبلغ نصابا وجبت الزكاة، وإلا فلا سواء كانت شركتهما عنانا أو مفاوضة أو شركة ملك بالإرث أو غيره من أسباب الملك وسواء كانت في مرعى واحد أو في مراع مختلفة فإن كان نصيب أحدهما يبلغ نصابا ونصيب الآخر لا يبلغ نصابا وجبت الزكاة على الذي يبلغ نصيبه نصابا دون الآخر،"

(کتاب الزکاۃ،الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض،الفصل الأول،مسائل شتى في الزكاة،ج:1،ص:181،ط:دارالفکر )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100428

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں