بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ماء جاری کے لیے بہاؤ کی مطلوب مقدار کا حکم


سوال

ماء جاری کے لیے کس درجہ کا بہاؤ اورکتنی گہرائی مطلوب ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ماء جاری کی تعریف دو طرح کی گئی ہے:

1:ماء جاری وہ ہے جس کو عرف میں جاری سمجھا جائے۔

2:ماء جاری وہ ہے جو تنکے کو بہاکرلےجائے۔

لہذا جو پانی اتنا ہو کہ وہ تنکے کو بہاکر لے جائے تو وہ ماء جاری شمار ہوگا،اگر چہ وہ گہرا نہ ہو،ماء جاری کے لیے گہرائی کی مقدار شرط نہیں ہے، البتہ جو پانی  ماء جاری کے حکم میں ہو اس کے لیے فقہاء نے گہرائی کا ذکر کیا ہے کہ دونوں ہاتھوں سے پانی اٹھایا جائے تو زمین (یعنی پانی کی نیچے کی تہ) نظر نہ آئے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والجاري (هو ما يعد جاريا) عرفا، وقيل ما يذهب بتبنة، والأول أظهر، والثاني أشهر.

(قوله: والأول أظهر) أي وأصح كما في البحر والنهر، لتعويله على العرف ولجريانه على قاعدة الإمام من النظر إلى المبتلين ط، لكن استشكل بأنه لا يتعين أصلا لتعدده واختلافه بتعدد العادين واختلافهم.(قوله: والثاني أشهر) لوقوعه في كثير من الكتب حتى المتون. وقال صدر الشريعة وتبعه ابن الكمال: إنه الحد الذي ليس في دركه حرج، لكن قد علمت أن الأول أصح والعرف الآن أنه متى كان الماء داخلا من جانب وخارجا من جانب آخر يسمى جاريا وإن قل الداخل، وبه يظهر الحكم في برك المساجد ومغطس الحمام مع أنه لا يذهب بتبنة، والله أعلم."

(كتاب الطهارة،باب المياه،187/1،ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الأول الماء الجاري) وهو ما يذهب بتبنه. كذا في الكنز والخلاصة وهذا هو الحد الذي ليس في دركه حرج. هكذا في شرح الوقاية وقيل ما يعده الناس جاريا وهو الأصح. كذا في التبيين وفي النصاب والفتوى في الماء الجاري أنه لا يتنجس ما لم يتغير طعمه أو لونه أو ريحه من النجاسة. كذا في المضمرات..وفي بعض الفتاوى قال مشايخنا: المطر ما دام يمطر فله حكم الجريان حتى لو أصاب العذرات على السطح ثم أصاب ثوبا لا يتنجس إلا أن يتغير."

(كتاب الطهارة،الباب الثالث في المياه،الفصل الأول في مايجوز به التوضؤ،17/1،ط:رشيدية)

وفيه أيضا:

"والمعتبر في عمقه أن يكون بحال لا ينحسر بالاغتراف هو الصحيح."

(كتاب الطهارة،الباب الثالث في المياه،الفصل الأول في مايجوز به التوضؤ،18/1،ط:رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144401100283

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں