
مجھے پیشاب کرنے کے بعد عموما 30 سے 45 منٹ تک قطرے آتے رہتے ہیں، بعض اوقات 30 منٹ میں رک جاتے ہیں، بعض اوقات گھنٹہ بھی لے جاتے ہیں، میں ٹانگ سے معذور ہوں، اس لئے زیادہ چل نہیں سکتا،پیشاب کرنے کے بعد تمام ممکنہ طریقوں سے قطرے خشک کرنے کی کوشش کی، لیکن قطرے نہیں رکتے ۔
مسئلہ یہ ہے کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ پیشاب آ جاتا ہے، اور ابھی نماز پڑھنی ہوتی ہے، جیسے مغرب کی اذان ہوئی نماز کے لئے وضو کرنے گیا تو پیشاب آ گیا ، اب انتظار کرنا پڑتا ہے ، میری ملازمت اور معذوری کے ساتھ یہ بہت مشقت ہے کہ بار بار نماز کے لئے نکلوں ،چلیں یہ مشقت تو بندہ پھر بھی اٹھا لیتا ہے، لیکن فجر اور جمعہ کی نماز میں سب سے زیادہ مسائل آتے ہیں ، اکثر فجر میں اٹھ کر پیشاب کرو ں تو طلوع تک قطرے چلتے ہیں، جمعہ کی نماز میں بھی کئی دفعہ یہ مسئلہ ہوا کہ جمعہ سے پہلے پیشاب آ گیا ،مثانہ بہت کمزور ہے، مجھ سے پیشاب نہیں روکا جاتا، کئی دفعہ راستے میں نکل جاتا ہے ،کئی دفعہ روک کر نماز پڑھنے لگا تو پیشاب نکل گیا ۔
اس صورت حال میں جب کہ میں عام حالات میں معذور شرعی کےمعیار پر پورا نہیں اترتا، مجھے ایک مفتی صاحب نے مشورہ دیا کہ کسی نماز کا وقت منتخب کر کے جو چھوٹا ہو وقت داخل ہونے سے پہلے قصدا پیشاب کر لو ، پھر قطرے رکنے سے پہلے 30 چالیس منٹ بعد دوبارہ جا کر قصدا پیشاب کر لو ،اس طرح کہ پورا وقت قطرے آ جائیں اس طرح تم معذور شرعی بن جاؤ گے ،انہوں نے کہا کہ یہ ہے تو حیلہ لیکن اس کا مقصد نماز قضا ہونے سے بچنا ہے جو کہ اکثر فجر اور جمعہ میں مسئلہ آ جاتا ہے۔ بقیہ نمازوں میں بھی کئی دفعہ ایسا ہو جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ معذور شرعی بن گئے تو پھر دھیان رکھنا کہ پورے وقت میں ایک دفعہ عذر آ جائے یعنی قطرہ ،کئی دفعہ نہیں بھی آ رہا ہو تو میں قصدا قطرہ نکال لیتا ہو ذرا زور لگا کر، اس سارے حیلے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ نمازوں کی پابندی بسہولت ہو جاتی ہے۔
کیا میرا اس طرح کرنا جائز ہے ؟
شرعاً "معذور " ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس کو وضو توڑنے کے اسباب میں سے کوئی سبب (مثلاً ریح،خون ، قطرہ وغیرہ) مسلسل پیش آتا رہتا ہو اور ایک نماز کے مکمل وقت میں اس کو اتنا وقت بھی نہ ملتا ہو کہ وہ با وضو ہو کر وقتی فرض ادا کر سکے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا خود کو معذور شرعی کے حکم میں داخل کرنے کے لیے یہ حیلہ اختیار کرنا درست نہیں،اس لیے کہ شرعا معذور کہا ہی اس کو جاتا ہے جس کو ایک مکمل نماز کے وقت میں وضو توڑنے کا سبب پیش آتا رہتا ہو کہ با وضو ہوکر وہ وقتی فرض ادا ہی نہ کرسکے،جب کہ سائل کا معاملہ اس طرح نہیں ،بلکہ وہ عذر کو برقرار رکھنے کے لیے خود سے قصدا عذر کو لاحق کررہا ہے،لہذاسائل اس طرح کا حیلہ اختیار کرنا جائز نہیں ،نہ ہی معذور کی طرح صرف وضو کرکے کپڑوں کو پاک کیے بغیر نماز پڑھنا جائز ہوگا۔
نیز جن نمازوں یعنی فجر اور عشاء میں چوں کہ سائل کو مشقت زیاد ہ پیش آتی ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ فجر کی نماز کا وقت ختم ہونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے اٹھنے کی ترتیب بنالے تاکہ استنجاء وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد اس کو وقت کے اندر نماز پڑھنے کا موقع مل سکے۔
نیز جمعے کی نماز کے لیے بھی اس طرح ترتیب بنائے کہ جمعے کے خطبے سے کچھ وقت پہلے فارغ ہو اور باوضو ہوکر جمعے کے خطبے سے پہلے پہنچ جائے اور نماز ادا کرلیا کرے۔
نیز سائل کو چاہیے کہ مثانہ کی کمزوری کا باقاعدہ علاج کروائے،تاکہ اس عذر سے چھٹکارا حاصل ہوسکے۔
الدر المختار میں ہے:
(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل."
(کتاب الطھارۃ،باب الحیض،مطلب فی احکام المعذور، ج:1، ص:305، ط:سعید)
الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:
"(قوله: والمستحاضة ومن به سلس البول والرعاف الدائم إلى آخره) وكذا من به انفلات ريح واستطلاق بطن(قوله: فيصلون بذلك الوضوء ما شاءوا من الفرائض والنوافل) وكذا النذور والواجبات ما دام الوقت باقيا."
(کتاب الطھارۃ،باب الحیض،فصل فی دم الاستحاضة،ج:1، ص:33، ط:المطبعة الخیریة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100839
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن