
میرے بڑے بھائی کے یہاں بیٹی کی ولادت ہوئی، اور اس کی ماں کا انتقال ہو گیا،دادا ، داد ی (سائلہ کے والدین نے ) اس بچی کو گود لیا، پڑھایا، لکھایا اور ڈاکٹر بنایا، اسی دوران میرے بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی نے جعلی طریقے سے دادا کی ولدیت دے دی، بچی کے دادا( سائلہ کے والد ) کا انتقال ہو گیا ہے، اور دادی موجود ہے،بچی کا شناختی کارڈ اور تعلیمی اسناد میں دادا کی ولدیت دے دی گئی،اس کے بعد انہوں نے سگے بھانجے ( لڑکی کے پھوپھی زاد ) کے ساتھ اس کی شادی کر دی، نکاح کے وقت دو نکاح نامے بنوائے، ایک میں والد کی ولدیت اور دوسرے میں دادا کی ولدیت لکھوائی گئی، کیوں کہ نکاح خواں چھوٹے بھائی کا سسرالی تھا ، اور ایسا اس لیے کیا تا کہ دادا کی جائیداد میں حصے دار بن سکے، ہم اس بچی کو سب کچھ دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن اپنے والد کی ولدیت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، برائے مہربانی اس سلسلے میں فتوی جاری کیا جائے کہ دادا کی ولدیت اسلامی رو سے درست ہے یا نہیں؟ اور بھانجے سے شادی جائز ہے یا ناجائز؟
واضح رہےکہ شریعتِ مطہرہ میں لے پالک اور منہ بولے بیٹے/ بیٹی کو حقیقی اولاد کی طرح حیثیت نہیں ہوتی، اور کسی کو منہ بولا بیٹا/ بیٹی بنانے سے وہ حقیقی بیٹا / بیٹی نہیں بن جاتے اور نہ ہی ان پر حقیقی اولاد والے احکام جاری ہوتے ہیں، البتہ گود لینے والے کو ان بچوں کی پرورش، تعلیم وتربیت اور اسے ادب واخلاق سکھانے کا ثواب ملتا ہے، منہ بولا بیٹا / بیٹی چوں کہ حقیقی بیٹا/ بیٹی نہیں ہوتے، اس لیے ان کو ان کے حقیقی والد کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے، ان کی ولدیت میں گود لینے والے کا نام درج کرانا شرعاً ناجائز اورحرام ہے، ہاں گود لینے والا شخص بطورِ سرپرست ان بچوں کو اپنا نام دے سکتا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بچی کی ولدیت میں اس کے حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہے،ولدیت میں دادا کا نام لکھنا جائز نہیں،اور دادا کے اپنے بیٹے، بیٹیوں کی موجودگی میں دادا کی میراث میں مذکورہ بچی کا کوئی حق و حصہ نہیں ہو گا،باقی مذکورہ بچی نے اگر اپنی دادی کا دودھ نہیں پیا تو ایسی صورت میں اس کا نکاح پھوپھی زاد بھائی سےکرنا شرعاً جائز ہوگا۔
ارشاد باری تعالی ہے :
"﴿وَما جَعَلَ أَدعِياءَكُم أَبناءَكُم ۚ ذٰلِكُم قَولُكُم بِأَفوٰهِكُم ۖ وَاللَّهُ يَقولُ الحَقَّ وَهُوَ يَهدِى السَّبيلَ ﴿٤﴾ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿٥﴾." [الأحزاب:4و5]
ترجمہ: "اورنہ تمہارے لے پالکوں کوتمہارے بیٹے بنایا ، یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں اور اللہ تعالی توسچی بات فرماتا ہے اور وہ سیدھا راستہ دکھاتا ہے ۔ مومنو! لے پالکوں کو ان کے( اصلی ) باپوں کےنام سے پکارا کرو کہ اللہ کےنزدیک یہ بات درست ہے۔ اگر تم کو ان سےباپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سےغلطی سےہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں، لیکن جو قصد دل سے کرو ( اس پر مؤاخذہ ہے )اوراللہ بڑا بخشنے ولا نہایت مہربان ہے ۔‘‘
دوسرے مقام پر ارشادِ پاک ہے :
﴿ يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ اِنَّـآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ اللَّاتِـىٓ اٰتَيْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ مِمَّآ اَفَـآءَ اللّـٰهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَاللَّاتِىْ هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِىُّ اَنْ يَّسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۗ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْـهِـمْ فِـىٓ اَزْوَاجِهِـمْ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُـهُـمْ لِكَيْلَا يَكُـوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا﴾ [الأحزاب:۵۰]
ترجمہ: اے نبی (علیہ السلام) ہم نے آپ کے لیے آپ کی یہ بیبیاں جن کو آپ ان کے مہر دے چکے ہیں حلال کی ہیں اور وہ عورتیں بھی جو تمہاری مملوکہ ہیں اور جو اللہ تعالیٰ نے غنیمت میں آپ کو دلوا دی ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں اور آپ کی پھوپھیوں کی بیٹیاں اور آپ کے مامؤں کی بیٹیاں اور آپ کی خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو اور اس مسلمان عورت کو بھی جو بلا عوض اپنے کو پیغمبر کو دے دے، بشرطیکہ پیغمبر اس کو نکاح میں لانا چاہیں، یہ سب آپ کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں نہ اور مؤمنین کے لیے، ہم کو وہ احکام معلوم ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیبیوں اور لونڈیوں کے بارے میں مقرر کیے ہیں؛ تاکہ آپ پر کسی قسم کی تنگی (واقع) نہ ہو اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ (بیان القرآن)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
"مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ الْمُتَتَابِعَةُ".
(سنن ابی داؤد: 5115)
ترجمہ: ’’جو شخص اپنےباپ کے علاوہ کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعو ی کرے یا (کوئی غلام ) اپنے آقاؤں کی بجائےدوسروں کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر اللہ تعالی کی مسلسل لعنت ہو۔"
فتاوی شامی میں ہے :
"(حرم) على المتزوج ذكرا كان أو أنثى نكاح (أصله وفروعه) علا أو نزل (وبنت أخيه وأخته وبنتها) ولو من زنى (وعمته وخالته) فهذه السبعة....إلخ" [ إلى أن قال :] "وأما عمة عمة أمه وخالة خالة أبيه حلال كبنت عمه وعمته وخاله وخالته{وأحل لكم ما وراء ذلكم} ."
(كتاب النكاح، باب المحرمات،ج:3، ص: 328 إلى30، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704102032
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن