
لقطے والی چیز کی رقم( اگر بندہ خود مستحق نہیں) تو کس کو دی جائے ؟کیا عمومی طور پر کسی کو دے سکتے ہیں؟یا کسی فقیر کو اور فقیر سے مراد کون ہے؟ وضاحت کردیجیے!
واضح رہے کہ لقطہ کا حکم یہ ہے کہ جس شخص کو کسی کی گم شدہ چیز ملے، وہ ممکنہ ذرائع سے اسے اس کے مالک تک پہنچانے کی پوری کوشش کرے اور مناسب طریقے سے اعلان کرے، خصوصاً جب وہ چیز قیمتی ہو، فقہائے کرام کے مطابق اس اعلان کی مدت کم از کم ایک سال ہے، پھر اگر تلاش کی مدت کے دوران اصل مالک مل جائے تو اس کی امانت اس کے سپرد کردے، اور اگر مال میں سے کچھ خرچ یا تقسیم ہوچکا ہو تو اس کے بارے میں مالک کے سامنے وضاحت کرے؛ اگر وہ راضی ہوجائے تو بہتر، ورنہ ضمان ادا کرنا لازم ہوگا، اور اگر پوری کوشش کے باوجود ایک سال گزر جائے اور مالک نہ ملے اور غالب گمان ہو کہ اب اس کا ملنا ممکن نہیں، اور مزید مدت تک اس کی حفاظت میں دشواری ہو، تو ایسی صورت میں اس چیز کو صدقہ کرنا واجب ہے ۔اگر لقطہ پانے والا فقیر یعنی مستحق زکات ہو، تو وہ خود بھی اس چیز کو استعمال کرسکتا ہے، لیکن اگر فقیر نہ ہو تو اس کے لیے خود استعمال کرنا جائز نہیں، بلکہ کسی فقیر یعنی مستحق زکات کو صدقہ کرنا لازم ہوگا، اگر اس نے وہ چیز خود استعمال کرلی یا کسی فقیر کو دے دی، اور بعد میں اصل مالک آ گیا اور اپنی چیز یا اس کی قیمت کا مطالبہ کیا، تو اس پر اس کا تاوان ادا کرنا لازم ہوگا۔ نیزیاد رہےکہ یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے، مالک جب بھی ملے گا تو اس کو لوٹانا یا پھر معاف کروانا لازم ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا رفع اللقطة يعرفها فيقول: التقطت لقطة، أو وجدت ضالة، أو عندي شيء فمن سمعتموه يطلب دلوه علي، كذا في فتاوى قاضي خان. ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح، كذا في مجمع البحرين ولقطة الحل والحرم سواء، كذا في خزانة المفتين، ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده فإن ضمن الملتقط لا يرجع على الفقير وإن ضمن الفقير لا يرجع على الملتقط وإن كانت اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه، كذا في شرح مجمع البحرين.۔۔۔۔ونوع آخر يعلم أن صاحبه يطلبه كالذهب والفضة وسائر العروض وأشباهها وفي هذا الوجه له أن يأخذها ويحفظها ويعرفها حتى يوصلها إلى صاحبها.۔۔۔۔إن كان الملتقط محتاجا فله أن يصرف اللقطة إلى نفسه بعد التعريف، كذا في المحيط، وإن كان الملتقط غنيا لا يصرفها إلى نفسه بل يتصدق على أجنبي أو أبويه أو ولده أو زوجته إذا كانوا فقراء، كذا في الكافي".
(كتاب اللقطة، ج:2، ص:289/290/291، ط: دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وعرف) أي نادى عليها حيث وجدها وفي الجامع (إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها أو أنها تفسد إن بقيت كالأطعمة) والثمار (كانت أمانة) لم تضمن بلا تعد فلو لم يشهد مع التمكن منه أو لم يعرفها ضمن إن أنكر ربها أخذه للرد وقبل الثاني قوله بيمينه وبه نأخذ حاوي، وأقره المصنف وغيره (ولو من الحرم أو قليلة أو كثيرة) فلا فرق بين مكان ومكان ولقطة ولقطة (فينتفع) الرافع (بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه، إلا إذا عرف أنها لذمي فإنها توضع في بيت المال) تتارخانية. وفي القنية: لو رجى وجود المالك وجب الإيصاء.(فإن جاء مالكها) بعد التصدق (خير بين إجازة فعله ولو بعد هلاكها) وله ثوابها (أو تضمينه)".
(كتاب اللقطة، ج:4، ص:278، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707102003
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن