
میرے چچا کا انتقال ہوا،ان کی ایک بیوہ اور دوبیٹیاں ہیں۔ اس بیوہ (چچی) کے والد کاانتقال ہواہے،ان کے بھائی اپنی بہنوں کووراثت میں حصہ نہیں دےرہےہیں،جس کی وجہ سے بیوہ اور ان کی دیگر بہنوں نے کورٹ میں کیس کیا ہے اورکورٹ نے کہا ہےکہ کوئی ایسا بندہ جو آپ کے بھائی بہن میں سے نہ ہو، وہ آپ کے حق میں گواہی دےکہ ان کا والد کی جائیداد میں حصہ ہے،اس بناء پر میری چچی نےمیرے والد سے کہا ہے کہ آپ میرے حق میں گواہی دیں کہ میرا حصہ ہے والد کی جائیداد میں،اگر میرے والد صاحب گواہی دیتے ہیں تو اس بیوہ جوکہ میری چچی ہیں، ان کے بھائیوں کی طرف سے لڑائی کا خدشہ ہے اور اگر گواہی نہ دیں تو بیوہ اور ان کی دیگربہنوں کی حق تلفی ہوگی،اس صورت میں میرے والد کیا کریں؟گواہی دیں یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً آپ کی چچی کا اپنے والد کےترکہ میں حق موجود ہے،تو ان کے بھائیوں کا اپنی بہنوں کوترکہ میں سے حق دینے سے انکار کرنا جائز نہیں ہے،بلکہ اس طرح کرنا ظلم ہے اور کسی کا ظلماًمال لینے کےبارے میں احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں سنائی گئی ہیں،لہذا آپ کی چچی کےبھائیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے والد کے ترکہ کی شرعی تقسیم کرکے ہرایک وارث کو اس کاحصہ دے دیں۔
لیکن اگر وہ حصہ نہیں دے رہےاورمعاملہ کورٹ میں پہنچ چکاہے جہاں گواہی کی ضرورت ہے تو اگر آپ کے والد کو مکمل درست معلومات حاصل ہےاور اس بات کا یقین ہے آپ کی چچی کا حصہ بنتاہے تو آپ کے والدپر لازم ہے کہ وہ سچی گواہی دے،محض دشمنی کے ڈرکی وجہ سے گواہی چھپانا اورگواہی دینے سے انکار کرنا جائز نہیں ہے۔
ارشادِباری تعالیٰ ہے:
﴿ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا (135) ﴾ (النساء)
ترجمہ:اے ایمان والو ! انصاف پر خوب قائم رہنے والے اللہ کے لئے گواہی دینے والے رہو اگر چہ اپنی ہی ذات کے لئے ہو یا والدین یا دوسرے رشتہ داروں کے مقابلہ میں ہو۔ وہ شخص اگر امیر ہے تو اور غریب ہے تو دونوں کے ساتھ اللہ تعالی کو زیادہ تعلق ہے سو تم خواہش نفس کا اتباع مت کرنا کہ کبھی تم حق سے ہٹ جاؤ دونوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو زیادہ تعلق ہے سو تم خواہش نفس کا اتباع مت کرنا اور اگر تم کج بیانی کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو بلا شبہ اللہ تعالی تمہارے سب اعمال کی پوری طرح خبر رکھتے ہیں ۔(بیان القرآن)
صحیح مسلم میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: « من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين ."
(كتاب البيوع،باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها،ج:5،ص:58،ط:دار الطباعة العامرة تركيا)
فتاوی شامی میں ہے:
"وسبب وجوبها طلب ذي الحق أو خوف فوت حقه بأن لم يعلم بها ذو الحق وخاف فوته لزمه أن يشهد بلا طلب فتح.
(قوله وخاف) أي الشاهد، وقوله فوته: أي الحق.
(قوله بلا طلب) نظر فيه المقدسي بأن الواجب في هذا إعلام المدعي بما يشهد فإن طلب وجب عليه أن يشهد وإلا لا إذ يحتمل أنه ترك حقه ط."
(كتاب الشهادات،ج:5،ص: 462،ط:سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ويلزم أداء الشهادة ويأثم بكتمانها إذا طلب المدعي، وإنما يأثم إذا علم أن القاضي يقبل شهادته وتعين عليه الأداء، وإن علم أن القاضي لا يقبل شهادته، أو كانوا جماعة فأدى غيره ممن تقبل شهادته فقبلت قالوا لا يأثم."
(کتاب الشهادات، الباب الثاني في بيان تحمل الشهادة وحد أدائها والإمتناع عن ذلك،ج:3،ص:452 ط: رشیدیة)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100609
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن