بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

باجماعت نماز کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا جائز و ناجائز استعمال


سوال

ہماری مسجد کے ہال میں چار صفیں آتی ہیں، امام کی تکبیرات اور تلاوت کی آواز ہال کے سب نمازیوں تک بآسانی پہنچتی ہے۔ رمضان شریف میں نمازی زیادہ ہوتے تھے اس لئے لاؤڈ اسپیکر استعمال ہوتا تھا، اب خطیب صاحب کا کہنا ہے کہ جس وقت نمازی چار صفوں سے زیادہ ہوں تو لاؤڈ اسپیکر استعمال کرو ورنہ ضرورت نہیں، بے وجہ مسجد میں شور و گونج نامناسب ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی وقت دوران نماز ہی تعداد بڑھ جائے تو یا تو مکبر بن جائے یا اپنے آگے کے نمازیوں کی حرکات و سکنات سے اپنے امام کی حالت کا اندازہ لگا کر نماز ادا کی جائے۔

البتہ ہال کے دروازے بند ہوں،  تو چاہے شیشے میں سے اندر کے نمازی نظر آتے ہوں پھر بھی لاؤڈ اسپیکر استعمال کیا جائے کیونکہ ایسی صورت میں سجدے سے سر اٹھاتے وقت اگلی صفوں کے نمازی نظر نہیں آتے۔

کیا خطیب صاحب کی یہ رائے درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں خطیب صاحب کی جو رائے ذکر کی گئی ہے وہ بالکل درست ہے، اس میں شرعًا کوئی قباحت نہیں ہے، کیونکہ نماز میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ضرورت کی بنا پر جائز ہے، بغیر ضرورت کے لاؤڈ اسپیکر میں نماز نہیں پڑھانی چاہیے،اس لیے اگر نمازی کم ہوں اور بغیر لاؤڈ اسپیکر کے امام کی آواز ان تک باآسانی  پہنچتی ہو تو لاؤڈ اسپیکر کے بغیر نماز پڑھا لینی چاہیے۔

نیز مقتدیوں کو امام کی حالت کا معلوم ہونا  اقتداء کی صحیح ہونے  کے لیے ضروری ہے،اس وجہ سے  اگر مقتدیوں پر امام کی آواز نہ پہنچے تو اقتداء نہیں کرسکتے۔لہٰذا  جب مقتدیوں پر امام کی  حالت کا مشتبہ ہونے کا اندیشہ ہو  (ہال کے دروازے بند ہونے کی صورت میں) تو وہاں  والیم کو بقدرِ ضرورت رکھ کر لاؤڈ  اسپیکر کا استعمال کرنا چاہیے ۔

رد المحتار   میں ہے:

"والزائد على قدر الحاجة كما هو مكروه للإمام يكره للمبلغ.

وفي حاشية أبي السعود: واعلم أن التبليغ عند عدم الحاجة إليه بأن بلغهم صوت الإمام مكروه. وفي السيرة الحلبية: اتفق الأئمة الأربعة على أن التبليغ حينئذ بدعة منكرة أي مكروهة وأما عند الاحتياج إليه فمستحب."

( کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاۃ، ج: 1، ص: 475،  ط: سعید)

وفیہ ایضًا:

"صرح في السراج بأن الإمام إذا جهر فوق الحاجة فقد أساء اهـ."

( کتاب الصلاۃ، باب الإمامة، ج: 1، ص: 589،  ط: سعید)

تنبیہ ذوی الافہام علی احکام التبلیغ خلف الامام  میں ہے:

"(ومن) ذلك رفع الصوت زيادة على قدر الحاجة بل قد يكون المقتدون قليلين يكتفون بصوت الإمام فيرفع المبلغ صوته حتى يسمعه من هو خارج المسجد وقد صرح في السراج بأن الإمام إذا جهر فوق حاجة الناس فقد أساء انتهى فكيف بمن لا حاجة إليه أصلا."

 (مجموعة رسائل ابن عابدين، الرسالة السادسة، ص: 144، ناشر: در سعادت إسطنبول)

فتاوی ہندیہ  میں ہے:

"و إذا جهر الإمام فوق حاجة الناس فقد أساء؛ لأن الإمام إنما يجهر لإسماع القوم ليدبروا في قراءته ليحصل إحضار القلب. كذا في السراج الوهاج."

(کتاب  الصلاۃ، الباب الرابع في صفة الصلاة ، الفصل الثاني في واجبات الصلاة، ج: 1، ص: 72، ط: دار الفکر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو كان بين الصفين حائط: إن كان طويلا وعريضا ليس فيه ثقب - يمنع الاقتداء، وإن كان فيه ثقب لا يمنع مشاهدة حال الإمام - لا يمنع بالإجماع، وإن كان كبيرا: فإن كان عليه باب مفتوح أو خوخة فكذلك، وإن لم يكن عليه شيء من ذلك فعليه روايتان."

(کتاب الصلاۃ، فصل شرائط ارکان الصلاۃ، ج: 1، ص: 145، ط: رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101081

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں