بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مشینوں کے شور کی وجہ سے قریبی دکاندار کو تکلیف دینا


سوال

 میری د کان کے ساتھ ایک آ ئرن اسٹور (لوہا سازی کی دکان)ہے جس کے شور سے ہم بہت تنگ ہیں، اس سٹور والے کے پاس پیچھے الگ سے ورک شاپ کی جگہ بھی موجود ہے، مگر وہ میری د کان کے ساتھ ہی اپنی مشینیں چلاتا ہے ،بہت بار اسے درخواست بھی کی کہ پیچھے جگہ ہے تو اپنی دو ورکشاپ بنالو اور سامنے آ پ کا ڈسپلے بن جائے گا ۔مگر وہ میری بات نہیں مانتا۔

ایسی صورت میں کیا کیا جائے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کی دکان کے ساتھ موجود اسٹور کی مشینوں کا شور اگر واقعۃً آپ کے لیے اور دیگر دکاندار حضرات کے لیےانتہائی تکلیف کا باعث ہے، تو  مذکورہ  اسٹور کے مالک کو چاہیے کہ  متبادل ایسی صورت اختیار کرے کہ مشینوں کا شور دیگر حضرات کے لیے تکلیف کا باعث نہ بنے،رہن سہن اور کاربار و تجارت وغیرہ میں  پڑوس  میں رہنے والوں کا خیال کرنا شرعی ،اخلاقی و معاشرتی تقاضا بھی ہے۔  آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ اردگرد کے معزز دکاندار اور اہلِ علاقہ کو ہمراہ لے کر گفت و شنید کے ذریعہ اِس معاملہ کو مِل بیٹھ کر حل کریں۔

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام ميں هے:

"يدفع الضرر الفاحش بأي وجه كان مثلا لو اتخذ في اتصال دار دكان ‌حداد أو طاحون وكان يحصل من طرق الحديد ودوران الطاحون وهن لبناء تلك الدار أو أحدث فرن أو معصرة بحيث لا يستطيع صاحب الدار السكنى فيها لتأذيه من الدخان أو الرائحة الكريهة فهذا كله ضرر فاحش فتدفع هذه الأضرار بأي وجه كان وتزال."

(الكتاب العاشر الشركات،الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالحيطان والجيران، الفصل الثاني في حق المعاملات الجوارية،ج:3، ص:214، ط:دار الجيل)

حاشية رد المحتار على الدر المختار  میں ہے:

"شرى دارا ودبغ وتأذى جيرانه، إن على الدوام يمنع، وعلى الندرة يتحمل منه.

وفي الرد: (قوله وتأذى جيرانه) قال في جامع الفصولين: القياس في جنس هذه المسائل أن من تصرف في خالص ملكه لا يمنع ولو أضر بغيره، لكن ترك القياس في محل يضر بغيره ضررا بينا، وقيل وبه أخذ كثير من المشايخ وعليه الفتوى اهـ وفيه أراد أن يبني في داره تنورا للخبز دائما أو رحى للطحن أو مدقة للقصارين يمنع عنه لتضرر جيرانه ضررا فاحشا. وفيه: لو اتخذ داره حماما ويتأذى الجيران من دخانها فلهم منعه إلا أن يكون دخان الحمام مثل دخان الجيران اهـ. وانظر ما لو كانت دارا قديمة بهذا الوصف هل للجيران الحادثين أن يغيروا القديم عما كان عليه؟ ط.

مطلب الضرر البين يزال ولو قديما

قلت: الضرر البين يزال ولو قديما كما أفتى به العلامة المهمنداري، ومثله في حاشية البحر للخير الرملي من كتاب القضاء كما في كتاب الحيطان من الحامدية."

(باب المتفرقات، مطلب دبغ في داره وتأذى الجيران، ج:5، ص:237، ط:سعيد)

الموسوعة الفقهية الكويتية  میں ہے:

"‌‌وقد اختلف الفقهاء في تقييد الملك لتجنب الإضرار بالجار.فذهب المالكية والحنابلة والحنفية فيما عليه الفتوى عندهم إلى أن المالك لا يمنع من التصرف في ملكه إلا إذا نتج عنه إضرار بالجار، فإنه يمنع عندئذ مع الضمان؛ لما قد ينتج من الضرر.

وقيد الحنفية والمالكية الضرر بأن يكون بينا، وحد هذا الضرر عندهم أنه: كل ما يمنع الحوائج الأصلية يعني المنفعة الأصلية المقصودة من البناء كالسكنى، أو يضر بالبناء أي يجلب له وهنا ويكون سبب انهدامه ."

(حرف الجيم، فصل الجوار، ‌‌أثر الجوار في تقييد التصرف في الملك،ج:16، ص:222، ط:دارالسلاسل)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101355

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں