بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 محرم 1448ھ 11 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

لوگوں کی تعریف و ستائش کی محبت سے متعلق روایت کی تخریج، سند، حکم اور تشریح


سوال

درج ذیل حدیث کا  حوالہ ، سند اور تشریح کے ساتھ رہنمائی کیجیے :

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی تعریف پسند کرنا آدمی کو اندھا بہرا کر دیتا ہے۔

جواب

مذکورہ روایت کو علامہ دیلمی رحمہ اللہ نے مسند الفردوس میں نقل کیا ہے، اور اس کی سند حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس‘‘ میں ذکر کی ہے۔اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن اس کو بیان کرنے میں حرج نہیں۔

تشریح:  لوگوں کی تعریف و ستائش پسند کرنا فی الجملہ انسانی فطرت ہے، اور اگر یہ پسندیدگی حدِ اعتدال میں رہے اور اس سے اخلاص، انصاف اور حق پسندی متاثر نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ جب انسان تعریف وشہرت کا اس قدر دلدادہ ہو جائے کہ حق، حق نظر نہ آئے، حق سننا اسے ناگوار گزرے، اور وہ لوگوں کی خوشنودی یا تعریف کے حصول کے لیے حق کو نظر انداز کرنے لگے، تو یہی وہ مذموم کیفیت ہے جس سے اس روایت میں تنبیہ کی گئی ہے۔

علامہ مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کی تعریف کی محبت انسان کو راہِ حق و رشد سے اندھا اور حق بات سننے سے بہرا کر دیتی ہے۔ جب یہ محبت دل پر غالب آ جائے اور اسے عقل و دین کی لگام نہ روکے تو انسان انصاف سے محروم ہو جاتا ہے اور راہِ ہدایت سے دور ہو جاتا ہے۔

روایت مع سند ملاحظہ ہو:

"قال: أنا حمد بن نصر، أنا أبو سعد بن أبي الليث، نا أحمد بن إبراهيم بن تركان، نا علي بن محمد بن عامر، نا حميد بن عبد الرحمن بن عبدالله، نا خداش بن مخلد، نا الفضل بن عيسى، عن عباد بن منصور، عن عكرمة، عن ابن عباس-رضي الله عنه- قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: حُبُّ الثناء من الناس يُعمي ويُصمّ".

(أخرجه الديلمي كما في الغرائب الملتقطة في حرف الحاء (4/ 133، 134) برقم (1349)، ط. جمعية دار البر، الإمارات العربية المتحدة، الطبعة الأولى: 1439هـ = 2018م)

تذکرۃ الموضوعات للفتنی میں ہے:

"حب الثناء من الناس يعمي ويصمّ» ضعيف".

(تذكرة الموضوعات للفتني:باب ذم الدنيا والغنى (ص: 177)، ط.  إدارة الطباعة المنيرية، الطبعة الأولى: 1343 هـ)

فیض القدیر شرح الجامع الصغیر میں ہے:

(حبُّ الثناء من الناس يعمي ويصم) أي: يعمي عن طريق الحق والرشد، ويصم عن استماع الحق، وإذا غلب الحب على القلب، ولم يكن له رادع من عقل أو دين أصم عن العدل وأعمى عن الرشد، وقال: وعين الرضى عن كل عيب كليلة. . . ولكن عين السخط تبدي المساويا. (فر عن ابن عباس) قال الحافظ العراقي: في سنده ضعيف، وذلك لأن فيه حميد بن عبد الرحمن قال الخطيب: مجهول والفضل بن عيسى. قال الذهبي: ضعفوه عن عباد بن منصور ضعف أيضا".

(فيض القدير شرح الجامع الصغير: حرف الحاء (3/ 369)، ط. المكتبة التجارية الكبرى - مصر، الطبعة  الأولى: 1356)

فقظ واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100728

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں