بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لوگوں کی سہولت کے لیے دو مرتبہ نماز جنازہ پڑھنا


سوال

آج کل یہ عموماً دیکھا جا رہا ہے کہ میت کے انتقال پر اس کا دو دو مرتبہ جنازہ پڑھا جا رہا ہوتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ مثلاً ایک شخص کا انتقال اسلام آباد میں ہوا اور اس کا تعلق کشمیر سے تھا، اس کے ولی بھی اس کے ساتھ اسلام آباد میں موجود تھے۔ اس کے انتقال پر اسلام آباد میں موجود رشتہ داروں نے کہا کہ اس کا جنازہ یہاں ہوگا تاکہ جو لوگ اسلام آباد میں موجود ہیں وہ یہیں شریک ہو جائیں اور انہیں کشمیر نہ جانا پڑے۔ چنانچہ اس کا جنازہ پڑھا گیا، لیکن ولی نے نمازِ جنازہ نہیں پڑھی، اگرچہ وہ موجود تھا۔ پھر اس کا دوسرا جنازہ اس کے آبائی گاؤں میں ادا کیا گیا اور ولی نے گاؤں میں نمازِ جنازہ پڑھی۔ آیا یہ دو دو مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے؟ نیز یہ بھی بتائیے کہ پہلی نمازِ جنازہ کا کیا حکم ہے اور دوسری نمازِ جنازہ کا کیا حکم ہے؟ اور یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ کیا نمازِ جنازہ پڑھنے والوں کی سہولت کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ا ور اصلاً ایک ہی مرتبہ مشروع ہے اور اس کا تکرار احناف کے نزدیک جائز نہیں،  لیکن اگر میت کے اولیاء نے خود نمازِ جنازہ ادا کرلی ہو، یا اُن کی اجازت و رضا مندی سے ادا کی گئی ہو تو فرضِ کفایہ ادا ہو جاتا ہے، پھر دوبارہ نمازِ جنازہ پڑھنا شرعاً درست نہیں، اگرچہ بعض اولیاء پہلی جماعت میں شریک نہ بھی ہوئے ہوں، البتہ اگر پہلی مرتبہ نمازِ جنازہ اُن لوگوں نے ادا کی ہو جنہیں میت پر ولایت کا حق حاصل نہیں تھا، اور میت کا ولی نہ تو شریک ہوا اور نہ اس نے اس نماز کی اجازت دی، تو ایسی صورت میں ولی کو حق ہے کہ وہ نمازِ جنازہ دوبارہ ادا کرے،  تاہم اس دوسری جماعت میں صرف وہ لوگ شامل ہوسکتے ہیں جو پہلی نماز میں شریک نہ ہوئے ہوں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يصلى على ميت إلا مرة واحدة والتنفل بصلاة الجنازة غير مشروع، كذا في الإيضاح، ولا يعيد الولي إن صلى الإمام الأعظم أو السلطان أو الوالي أو القاضي أو إمام الحي؛ لأن هؤلاء أولى منه وإن كان غير هؤلاء له أن يعيد، كذا في الخلاصة. وإن صلى عليه الولي لم يجز لأحد أن يصلي بعده ولو أراد السلطان أن يصلي عليه فله ذلك؛ لأنه مقدم عليه ، ولو صلى عليه الولي وللميت أولياء أخر بمنزلته ليس لهم أن يعيدوا، كذا في الجوهرة النيرة، فإن صلى غير الولي أو السلطان أعاد الولي إن شاء، كذا في الهداية".

مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:

"ولمن له حتى التقدم أن يأذن لغيره" لأن له إبطال حقه وإن تعدد فللثاني المنع والذي يقدمه الأكبر أولى من الذي يقدمه الأصغر "فإن صلى غيره" أي غير من له ‌حق ‌التقدم بلا إذن ولم يقتد به "أعادها" هو "إن شاء" لعدم سقوط حقه وإن تأدى الفرض بها "ولا" يعيد "معه" أي مع من له ‌حق ‌التقدم "من صلى مع غيره" لأن التنفل بها غير مشروع كما لا يصلي أحد عليها بعده وإن صلى وحده".

(كتاب الصلاة، باب أحكام الجنائز، ‌‌فصل، ص:220، ط: المكتبة العصرية)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:

"بلا إذن ولم يقتد به" أما إذا ‌أذن ‌له ‌أو ‌لم ‌يأذن ولكن صلى خلفه فليس له أن يعيد لأنه سقط حقه بالأذن أو بالصلاة مرة وهي لا تتكرر ولو صلى عليه الولي وللميت أولياء آخرون بمنزلته ليس لهم أن يعيدوا لأن ولاية الذي صلى متكاملة".

(كتاب الصلاة، باب أحكام الجنائز، ‌‌فصل السلطان أحق بصلاته، ص:591، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100274

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں