بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لوگوں کے مجمعے میں خوبصورتی کی غرض سے عمدہ لباس پہننے کا حکم


سوال

ہم نے بہت بار یہ سنا پڑھا ہے کہ کسی پر برتری یا فخر کی غرض سے کسی بھی لباس یا سامان زینت کو زیب تن کرنا سخت گناہ ہے، لیکن آج کل جو خواتین کسی بھی دعوت یا محفل میں شرکت کی بناء پر زینت اختیار کرتی ہیں اگرچہ اختلاط کا ماحول نہ ہو، تب بھی تقریبا نوے فیصد خواتین ایک دوسرے سے نمایاں دکھنے کی غرض سے ہی اپنے آپ کو سنوارتی ہیں ۔

سوال یہ ہے کیا ایسی سوچ رکھنے والی ہر خاتون گناہ اور حرام کی مرتکب ہے یا اس میں کچھ گنجائش ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اپنی ذات کو دوسروں پر برتر سمجھتے ہوئے لباس پہننا تا کہ دوسرا حقیر لگے یا اسے حقیر سمجھنا، یہ جائز نہیں ہے۔ تاہم اچھا لباس اس لیے پہننا کہ اللہ تعالی کی نعمتوں کا اظہار ہو، یہ پسندیدہ ہے۔ شرعاًاس کی گنجائش ہے کہ آدمی اچھے سے اچھا لباس پہنے اور زیب وزینت اختیار کرےتا کہ لوگوں ميں خوبصورت نظر آئے، اور یہ تکبر والے لباس کی وعید میں داخل نہیں، بل کہ لوگوں سے ملاقات کے وقت یا تقریب وغیرہ میں عمدہ لباس پہننا اور زیب وزینت اختیار کرنا اچھی بات ہے۔ البتہ اگر اس سے مقصد دوسروں پر فخر کرناہے، اس طرح دوسرے کو حقیر سمجھا جائے یا اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھا جائے تو لباس فاخرانہ شمار ہوگا جو کہ جائز نہیں ہے۔

فتح الباری میں ہے:

"والذي يجتمع من الأدلة أن من قصد بالملبوس الحسن إظهار نعمة الله عليه مستحضرا لها شاكرا عليها غير محتقر لمن ليس له مثله لا يضره ما لبس من المباحات ولو كان في غاية النفاسة ففي صحيح مسلم عن بن مسعود أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرةمن كبر فقال رجل إن الرجل يحب أن يكون ثوبه حسنا ونعله حسنة فقال إن الله جميل يحب الجمال الكبر بطر الحق وغمط الناس وقوله وغمط بفتح المعجمة وسكون الميم ثم مهملة الاحتقار وأما ما أخرجه الطبري من حديث علي إن الرجل يعجبه أن يكون شراك نعله أجود من شراك صاحبه فيدخل في قوله تعالى تلك الدار الآخرة نجعلها للذين لا يريدون علوا في الأرض الآية فقد جمع الطبري بينه وبين حديث بن مسعود بأن حديث علي محمول على من أحب ذلك ليتعظم به على صاحبه لا من أحب ذلك ابتهاجا بنعمة الله عليه فقد أخرج الترمذي وحسنه من رواية عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رفعه إن الله يحب أن يرى أثر نعمته على عبده وله شاهد عند أبي يعلى من حديث أبي سعيد وأخرج النسائي وأبو داود وصححه بن حبان والحاكم من حديث أبي الأحوص عوف بن مالك الجشمي عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له ورآه رث الثياب إذا آتاك الله ما لا فلير أثره عليك أي بأن يلبس ثيابا تليق بحاله من النفاسة والنظافة ليعرفه المحتاجون للطلب منه مع مراعاة القصد وترك الإسراف جمعا بين الأدلة."

(كتاب اللباس، قوله باب من جر ثوبه من الخيلاء، 259,260/10، ط: دار المعرفة)

الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:

"فقد دلت على استحباب ‌لباس ‌الرفيع من الثياب والتجمل بها في الجمع والأعياد وعند لقاء الناس وزيارة الإخوان.قال أبو العالية: كان المسلمون إذا تزاوروا تجملوا. وفي صحيح مسلم من حديث عمر بن الخطاب أنه رأى حلة سيراء تباع عند باب المسجد، فقال: يا رسول الله، لو اشتريتها ليوم الجمعة وللوفود إذا قدموا عليك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما يلبس هذا من لا خلاق له في الآخرة (2) فما أنكر ذكر التجمل وإنما أنكر عليه كونها سيراء، (والسيراء نوع من البرود، فيه خطوط صفر، أو يخالطه حرير) . وقال أبو الفرج: كان السلف يلبسون الثياب المتوسطة لا المترفعة ولا الدون، ويتخيرون أجودها للجمعة والعيدين وللقاء الإخوان، ولم يكن تخير الأجود عندهم قبيحا."

(ألبسة، ملابس الأعياد ومجامع الناس، ج:6، ص:139، ط: دار السلاسل)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144705100212

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں