
تین سال پہلے مجھے شک ہوا کہ میری بیوی کا کسی مرد کے ساتھ جسمانی تعلق ہے۔ شک کی بنیاد پر میں نے بیوی کو گالیاں دیں اور الزام لگائے۔ اس کے بعد سے بیوی کا رویہ دن بہ دن بگڑتا گیا، کم گوئی، بدتمیزی، اور روزانہ جھگڑے معمول بن گئے۔ میں غصے میں غلط الزام لگاتا اور وہ مجھے گندی گالیاں دیتی اور اٹھتے بیٹھتے طلاق مانگ لیتی، مگر حقیقت میں ہم دونوں کے ذہنوں میں طلاق کا کوئی رجحان نہیں، صرف غصے کی حالت میں یہ الفاظ نکل جاتے۔ ہم دونوں بچوں سے بے حد محبت کرتے ہیں اور بچے بھی ہمارے بغیر نہیں رہ سکتے۔
آج پھر لڑائی ہوئی، جو تین دن سے جاری تھی۔ آج کے جھگڑے میں جسمانی تعلق کے حوالے سے بحث ہو رہی تھی۔ بیوی نے کہا: "اگر میں اتنی بری ہوں تو میرا جسم آپ پر حرام ہے۔" میں غصے میں تھا، جسم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میں نے کہہ دیا: "تمہارا جسم تو ویسے بھی حرام ہے۔" (اس کا تعلق اس شک سے تھا جو مجھے تین سال پہلے ہوا تھا۔)
بیوی نے غصے میں کہا: "اگر میرا جسم حرام ہے تو دو دفعہ اور بول دو تاکہ تم میرے جسم کو چھو نہ سکو۔" میں نے غصے میں، محض بیوی کے کہنے پر، دو بار مزید "حرام" کہہ دیا۔ میری نیت میں طلاق کا کوئی ارادہ نہ تھا، نہ بیوی نے طلاق کی نیت سے یہ کہا، بلکہ یہ صرف جسمانی میلاپ کو ختم کرنے کے لیے غصے کی حالت میں کہا گیا۔
ہم دونوں میاں بیوی بچوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں:
1- کیا ہمارا رشتہ اب بھی برقرار ہے؟
2- بچوں کے حق میں شرعاً کیا حکم ہے؟
میں نے کبھی بھی اپنی زبان سے "طلاق" کا لفظ نہیں نکالا، صرف بیوی کے کہنے پر جسم کو حرام کہا۔ اس کا کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں جب شوہر نے مذکورہ الفاظ "تمہارا جسم تو ویسے بھی حرام ہے۔" پھر دو بار مزید" حرام" ادا کرتے وقت طلاق کی نیت نہیں کی، اور نہ ہی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا تھا، اس لیے یہ طلاق نہیں بلکہ یمین (قسم) شمار ہوگی، خواہ شوہر نے قسم کی نیت بھی نہ کی ہو۔ نتیجتاً، شوہر اور بیوی کے درمیان کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور ان کا نکاح بحال ہے۔ البتہ شوہر پر اس قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔
لیکن اگر اس کے بعد چار مہینے کے اندر جسمانی تعلق قائم نہیں کرے گا تو ایلاء ہونے کی وجہ سے چار مہینہ پورا ہوتے ہی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی، اس کے بعد شوہر کے لئے رجوع کرنا جائز نہیں ہوگا، البتہ دونوں کی رضامندی سے نئے مہر اور نئے ایجاب و قبول کے ساتھ دوبارہ تجدید نکاح کرکے رہنا جائز ہوگا اور شوہر ائندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا مالک ہوگا۔
اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے دے( یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم )اور اگر "جو" دے تو اس کا دو گنا (تقریباً ساڑھے تین کلو) دے، یا دس فقیروں کو ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دے۔ اور اگر کوئی ایسا غریب ہے کہ نہ تو کھانا کھلا سکتا ہے اور نہ کپڑا دے سکتا ہے تو مسلسل تین روزے رکھے ،اگر الگ الگ کر کے تین روزے پورے کر لیے تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ اگر دو روزے رکھنے کے بعد درمیان میں کسی عذر کی وجہ سے ایک روزہ چھوٹ گیا تو اب دوبارہ تین روزے رکھے۔
پیسوں کی صورت میں کفارہ کا حساب اس طرح کیا جائے گا کہ جس دن کفارہ یمین ادا کر رہا ہے اس دن جو پونے دوکلو گندم یا ساڑھے تین کلو جو کی قیمت ہو وہ قیمت دس مسکینوں کو دےد ے۔
المبسوط للسرخسي میں ہے:
[باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق]
(قال) رضي الله عنه، وإذا قال الرجل لامرأته أنت علي حرام فإنه يسأل عن نيته لأنه تكلم بكلام مبهم محتمل لمعان وكلام المتكلم محمول على مراده ومراده إنما يعرف من جهته فيسأل عن نيته فإن نوى الطلاق فهو طلاق لأنه نوى ما يحتمله كلامه فإنه وصفها بالحرمة عليه وحرمتها عليه من موجبات الطلاق ثم إن نوى ثلاثا فهو ثلاث لأن حرمتها عليه عند وقوع الثلاث فقد نوى نوعا من أنواع الحرمة وإن نوى واحدة بائنة فهي واحدة بائنة لأنه نوى الحرمة بزوال الملك ولا يحصل ذلك إلا بالتطليقة البائنة ومن أصلنا أن الزوج يملك الإبانة وإزالة الملك من غير بدل ولا عدد على ما نبينه إن شاء الله تعالى وإن نوى اثنتين فهي واحدة بائنة عندنا وعند زفر - رحمه الله تعالى - اثنتان لقوله صلى الله عليه وسلم «وإنما لكل امرئ ما نوى» ولأن الثنتين بعض الثلاث فإذا كانت نية الثلاث تسع في هذا اللفظ فنية الثنتين أولى ألا ترى أنها لو كانت أمة كان يصح نية الثنتين في حقها بهذا اللفظ فكذلك في حق الحرة، ولكنا نقول نية الثنتين فيه عدد وهذا اللفظ لا يحتمل العدد لأنها كلمة واحدة وليس فيها احتمال التعدد والنية إذا لم تكن من محتملات اللفظ لا تعمل.
فأما صحة نية الثلاث ليس باعتبار العدد بل باعتبار أنه نوى حرمة وهي الحرمة الغليظة فإنها لا تثبت بما دون الثلاث فأما الثنتان فلا يتعلق بهما في حق الحرة حرمة لا تثبت تلك الحرمة بالواحدة فبقي مجرد نية العدد بخلاف الأمة فإن الثنتين في حقها يوجب الحرمة الغليظة كالثلاث في حق الحرة، وهذا بخلاف ما إذا طلق الحرة واحدة ثم قال لها أنت علي حرام ونوى اثنتين حيث لا تعمل نيته لأن الحرمة الغليظة لا تحصل بهما بل بهما وبما تقدم فكان هذا مجرد نية العدد وإن نوى الطلاق ولم ينو عددا فهذه واحدة بائنة لأن نية الطلاق قد صحت فيقع القدر المتيقن وهو الواحدة
وإن لم ينو الطلاق ولكن نوى اليمين كان يمينا فإن تحريم الحلال يمين قال الله تعالى {يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله} [التحريم: 1] إلى قوله تعالى {قد فرض الله لكم تحلة أيمانكم} [التحريم: 2] جاء في التفسير أنه «كان حرم مارية القبطية على نفسه»، وفي بعض الروايات «حرم العسل على نفسه» وروى الضحاك عن أبي بكر وعمر وابن مسعود وابن عباس وعائشة - رضي الله تعالى عنهم في هذا اللفظ أنه لو نوى الطلاق فهو طلاق وإن نوى اليمين فهو يمين وعن ابن عمر رضي الله عنه قريبا منه وعن زيد رضي الله عنه قال يمين يكفرها والشافعي - رحمه الله تعالى - يقول تحريم الحلال لا يكون يمينا ولكن تجب به الكفارة في الزوجة والأمة خاصة وكذلك إن لم يكن له نية فهو يمين لأن الحرمة الثابتة باليمين دون الحرمة التي تثبت بالطلاق وعند الاحتمال لا يثبت إلا القدر المتيقن فكان يمينا إن قربها كفر عن يمينه للحنث وإن لم يقربها حتى مضت أربعة أشهر بانت بالإيلاء.
(باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق ،ج:6،ص: 70، ط:دار المعرفة - بيروت، لبنان)
تفسير عبد الرزاق میں ہے:
عن معمر ، عن قتادة ، والشعبي ، في قوله تعالى: {يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك} [التحريم: 1] قالا: حرم النبي عليه السلام ، جاريته ، قال الشعبي: «حلف النبي ، بيمين مع التحريم فعاتبه الله في التحريم وجعل له كفارة اليمين»
(ج:3،ص: 321، ط:دار الكتب العلمية - بيروت)
مصنف عبد الرزاق میں ہے:
عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: الرجل يقول لامرأته: أنت علي حرام قال: «يمين». ثم تلا {يا أيها النبي لم تحرم} [التحريم: 1] الآية، قلت: «وإن كان أراد الطلاق قد علم مكان الطلاق» قال: " وإن قال: أنت علي كالدم أو كلحم الخنزير فهو كقوله هي علي حرام "
(باب الحرام،ج:6،ص: 399،ط:المجلس العلمي- الهند)
المعجم الكبير للطبراني میں ہے:
«حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، ثنا عثمان بن أبي شيبة، ثنا محمد بن بشر، عن مطيع الغزال، عن سالم الأفطس، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: أتاه رجل فقال: إني جعلت امرأتي علي حراما فقال: " ليست عليك بحرام ثم قرأ {يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك} [التحريم: 1] ولكن عليك أغلظ الكفارات رقبة "»
(ج:11،ص: 440، ط:دار الصميعي - الرياض)
شرح مختصر الطحاوي للجصاص میں ہے:
«فإن قيل: قوله: أنت علي حرام، لا يوجب تحريمًا إذا أراد به اليمين؛ لأنه يجوز له وطؤها، وقد قال الله تعالى: {يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك}، ثم أوجب فيه الكفارة.
(ج:5،ص: 160، ط:دار البشائر الإسلامية)
وفیہ ایضا:
«وروي" أن النبي صلى الله عليه وسلم حرم مارية القبطية، فأنزل الله تعالى: {يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك}، فلم يثبت حكم التحريم، وأوجب فيه كفارة يمين.
فلما لم يصح تحريمها من جهة القول لو نص على تحريمها، صارت كالثوب والطعام ونحوهما إذا حرمهما، فلا يصح تحريمهما، كذلك حكم الأمة في الظهار.
وليس كذلك الزوجة؛ لأنه يصح تحريمها من جهة القول لو قصدها بالتحريم فقال: أنت علي حرام، وأراد به الطلاق: طلقت وحرمت عليه.»
(ج:5،ص: 172،ط:دار البشائر الإسلامية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102245
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن