بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1448ھ 28 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

لائن کے ذریعے گھر میں آنے والے پانی کو بڑے پمپ لگاکر زیادہ مقدار میں جمع کر کے بیچنے کا حکم


سوال

سرکار کی طرف سے جو پانی لائنوں میں گھریلو استعمال کے لیے دیا جاتا ہے، ہمارے ہاں کراچی کے بعض علاقوں میں بعض لوگ گھروں میں ضرورت سے بڑے ٹینک بنا کر بڑے بڑے واٹر پمپوں کے ذریعے اس پانی کو جمع کر لیتے ہیں اور اس پانی کو جمع کر کے فروخت کرتے ہیں اور ان کے جمع کرنے کی وجہ سے بعض جگہ جہاں پانی ان لوگوں کے بعد پہنچتاہے تو ان لوگوں کے بڑی مقدار میں ضرورت سے زائد پانی جمع کرلینے کی وجہ سے ان گھروں میں ضرورت کے مطابق پانی نہیں پہنچتا، تو کیا اس طرح لائن کا پانی جمع کر کے بیچنا جائز ہے؟ اور اس طرح پانی بیچنے سے حاصل شدہ آمدن کا کیا حکم ہے؟

 بعض لوگوں کا پانی فروخت کرنے کا کاروبار نہیں ہوتا اور نہ نیت ہوتی ہے، البتہ کبھی کبھار  لائن کا پانی ضرورت سے زیادہ ہو جاتا ہے یا استعمال کم ہونے کی وجہ سے بچ جاتا ہے، تو کیا ان کے لیے اس پانی  (جو اپنی ضرورت کے لیے جمع کیا گیا ہو) کو  فروخت کرنا جائز ہے؟

اگر کوئی شخص اپنے جمع شدہ پانی کو کسی ضرورت مند کو پہنچائے اور کرائے کی مد میں باہمی رضامندی سے کوئی رقم طے کر کے وصول کرے تو اس رقم کا شرعا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص لائن کے ذریعے گھر میں آنے والے پانی کو ٹینکی ،بوتل، کین یا کسی بھی برتن وغیرہ محفوظ کرلے تو وہ اس پانی کا مالک بن جاتا ہے، اس لیے محفوظ کرلینے کے بعد اس شخص کے لیے محفوظ شدہ پانی کو فروخت کرنا بھی شرعاً جائز ہوگا اور ضرورت مند کو پہنچانے کی صورت میں باہمی رضامندی سے طے شدہ کرائے کی رقم لینا بھی جائز ہوگا  ان دونوں صورتوں میں پانی بیچنے کی آمدنی یا سپلائی کی اجرت بھی حلال ہوگی،البتہ لائن کے پانی کو منرل پانی کہہ کر فروخت یا سپلائی کرنا چوں کہ دھوکہ دہی پر مشتمل ہے اس لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے ۔ نیز اگر قانوناً لائن کا پانی بیچنا ممنوع ہو تو ایسی صورت میں لائن کے پانی کو بیچنے سے اجتناب کرنا لازم ہوگا۔

 اگر شخص کوئی بڑے بڑے واٹر پمپ لگا کر ضرورت سے زیادہ اتنا پانی جمع کرے جس کی وجہ سے دیگر لوگوں کو ضرورت کے بقدر پانی نہ ملے تو چوں کہ ایسا کرنا دیگر لوگوں کی حق تلفی کا باعث ہے اس لیے اس طرح پانی جمع کر کے بیچنا شرعاً جائز نہیں ہے، نیز چوں کہ ایسا کرنے کی صورت میں وہ لوگوں کی ضرورت کا پانی جو ان کا حق ہے وہ روک کر بیچتا ہے اس لیے ایسے جمع شدہ پانی کی آمدن بھی جائز نہیں ہے ۔

" السنن الکبری للبیھقی "میں ہے:

" عن أبي سعيد الخدري، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا ضرر ولا ضرار من ضار ضره الله، ومن شاق شق الله عليه."

ترجمہ:حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ (ابتداء) نقصان پہنچانا (جائز) ہے اور نہ ہی بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے، جو شخص (دوسروں کو) نقصان پہنچائے گا، اللہ اسے نقصان پہنچائے گا، اور جو شخص (دوسروں کے لیے)  تنگی پیدا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے تنگی پیدا کرے گا۔

(كتاب الصلح، باب لا ضرر ولا ضرار، رقم الحديث:11384، ج:6، ص:114، ط:دار الكتب العلمية)

صحیح مسلم  میں ہے:

"عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام. فأدخل يده فيها. فنالت أصابعه بللا. فقال "ما هذا يا صاحب الطعام؟ " قال: أصابته السماء. يا رسول الله! قال " أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ ‌من ‌غش فليس مني."

ترجمہ:" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے توآپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا، آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی تو آپ نے فرمایا: ” غلے کے مالک! یہ کیا ہے؟“ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس پر بارش پڑ گئی تھی۔ آپ نے فرمایا: ” توتم نے اسے (بھیگے ہوئے غلے) کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لو گ اسے دیکھ لیتے؟ جس نے دھوکا کیا، وہ مجھ سے نہیں۔“ (ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں میرے ساتھ وابستہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔)

 (كتاب الإيمان، باب قول النبي صلى الله تعالى عليه وسلم " من غشنا فليس منا، ج:1، ص:99،رقم:101،ط:دار إحياء التراث العربي)

فتاوی شامی میں ہے:

"وقال الرملي: إن صاحب البئر لا يملك الماء كما قدمه في البحر في كتاب الطهارة في شرح قوله: وانتفاخ حيوان عن الولوالجية فراجعه، وهذا ما دام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتيال كما في السواني فلا شك في ملكه له لحيازته له في الكيزان ثم ‌صبه ‌في ‌البرك بعد حيازته. تأمل، ثم حرر الفرق بين ما في البئر وما في الجباب والصهاريج الموضوعة في البيوت لجمع ماء الشتاء بأنها أعدت لإحراز الماء فيملك ما فيها."

(كتاب البيوع، ج:5، ص: 67، ط: سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(والمحرز في كوز وحب) بمهملة مضمومة الخانية (لا ينتفع به إلا بإذن صاحبه) لملكه بإحرازه.

(قوله: والمحرز في كوز أو حب) مثله المحرز في الصهاريج التي توضع لإحراز الماء في الدور كما حرره الرملي في فتاواه وحاشيته على البحر، وأفتى به مرارا وقال: إن الأصل قصد الإحراز وعدمه، ومما صرحوا به لو وضع رجل طستا على سطح، فاجتمع فيه ماء المطر فرفعه آخر، إن وضعه الأول لذلك فهو له وإلا فللرافع اهـ ويشهد له ما قدمناه على القهستاني (قوله لا ينتفع به إلخ) إذ لا حق فيه لأحد كما قدمناه (قوله لملكه بإحرازه) فله بيعه ملتقى."

(کتاب احیاء الموات ،فصل فی الشرب، ج:6، ص:439، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا يجوز بيع الماء في بئره ونهره هكذا في الحاوي وحيلته أن يؤاجر الدلو والرشاء هكذا في محيط السرخسي فإذا أخذه وجعله في جرة أو ما أشبهها من الأوعية فقد أحرزه فصار أحق به فيجوز بيعه والتصرف فيه كالصيد الذي يأخذه كذا في الذخيرة وكذلك ماء المطر يملك بالحيازة كذا في محيط السرخسي.وأما بيع ماء جمعه الإنسان في حوضه ذكر شيخ الإسلام المعروف بخواهر زاده في شرح كتاب الشرب أن الحوض إذا كان مجصصا أو كان الحوض من نحاس أو صفر جاز البيع على كل حال وكأنه جعل صاحب الحوض محرز الماء بجعله في حوضه."

(كتاب البيوع، الباب التاسع، الفصل في بيع الماء والجمد، ج:3، ص:121، ط: رشیدیة)

تبيين الحقائق ميں ہے:

"لا يحل له أن يبيع المعيب حتى يبين عيبه لقوله عليه السلام: «لا يحل لمسلم باع من أخيه بيعا وفيه عيب إلا بينه له» رواه ابن ماجه وأحمد بمعناه «و مر عليه السلام برجل يبيع طعاما فأدخل يده فيه فإذا هو مبلول فقال من ‌غشنا ‌فليس ‌منا» رواه مسلم وغيره «وكتب عليه السلام كتابا بعد ما باع فقال فيه هذا ما اشترى العداء بن خالد بن هودة من محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم اشترى منه عبدا أو أمة لا داء ولا غائلة ولا خبثة بيع المسلم للمسلم» رواه ابن ماجه."

(کتاب البیوع ،باب خیار العیب،ج:4،ص:31،ط:المطبعہ الکبری)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام  ،إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان." 

(كتاب البيوع، باب خيار العيب، ج:5، ص:47، ط:سعيد)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144801101120

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں