
میری بیوی کا ابھی چار دن پہلے انتقال ہوگیا ہے، میری کوئی اولاد نہیں ہے، میں نے دو بچے گود لیے ہیں، جو کہ ایک لڑکی اور ایک لڑکا ہیں، لڑکی کی عمر 20 سال ہے اور لڑکے کی عمر 7 سال ہے، دونوں بچوں کے بے فارم پر میرا نام اور میری بیوی کا نام ہے۔
میں نے جو فلیٹ لیا ہے، اُس میں میرے سسر کو کی کوئی رقم شامل نہیں ہے، ہاں البتہ میرے والد صاحب کی رقم شامل ہے، لیکن میری بیوی کے نام ہے، کیا بچوں کا اس فلیٹ میں حصہ ہے؟
میرا سالا یہ کہہ رہا ہے کہ بچوں کا حصہ دو ورنہ ميں بچے واپس لے لوں گا ۔
وضاحت:
میں نے فلیٹ بیوی کو دے دیا تھا۔
لے پالک بیٹا شرعاً حقیقی بیٹے کے حکم میں نہیں ہوتا ہے، لہذا جس شخص نے اس کو گود لیا ہو، اس کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں اس لےپالک کا کوئی حق و حصہ نہیں ہوتا، ساتھ ہی واضح رہے کہ بچپن میں اپنی اولاد کسی کو دے دینے سے نہ نسب بدلتاہے،اورنہ ہی گود لینے والے کی حقیقی اولاد بن جاتی ہے ،بلکہ وہ بدستور اپنے حقیقی والدین کی اولاد رہتی ہے ،اور حقیقی والدین جب بھی چاہیں اپنی اولاد کو گود لینے والے سے واپس لینے کا حق رکھتے ہیں۔
لہذا صورت مسئولہ ميں مذکورہ فلیٹ میں سائل کے لےپالک بچوں کا شرعا کوئی حصہ نہیں ہے، سائل کے سالے کا بچوں کے حصے کا مطالبہ کرنا درست نہیں، تاہم بچوں کا حقیقی والد اگر سائل کا سالا ہے تو اسے اپنے بچوں کی واپسی کے مطالبہ کا شرعا حق حاصل ہے، کیوں کہ وہ ان کے حقیقی والد ہیں، لہذا اگر وہ سائل کے پاس اپنے بچوں کومزید نہیں چھوڑتے اور واپس لے لیتے ہیں تو وہ گناہ گار نہیں ہوں گے۔
باقی سائل کامذکورہ بچوں کے کاغذات میں ولدیت کے خانے میں اُن کے حقیقی والد کی جگہ اپنا نام لکھوانا غلط ہے؛ کیوں کہ لے پالک بچے کو حقیقی والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے۔
قرآن کریم میں ہے :
"{وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَھْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمْ لِآبَا ئِھِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا اٰبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا}."[الأحزاب: 4، 5]
ترجمہ:
”اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنادیا، یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے ، تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو، یہ اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہوجاوے تو اس سے تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا، لیکن ہاں دل سے ارادہ کر کے کرو (تو اس پر مؤاخذہ ہوگا)، اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔“ (از بیان القرآن)
تفسیرِ مظہری میں ہے:
"فلايثبت بالتبني شىء من أحكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك."
(الأحزاب، ج: 7، ص: 284 ط: رشيدية)
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"وقوله تعالى: {وما جعل أدعياءكم أبناءكم} قيل: إنه نزل في زيد بن حارثة وكان النبي صلى الله عليه وسلم قد تبناه، فكان يقال له: زيد بن محمد وروي ذلك عن مجاهد وقتادة وغيرهما قال أبو بكر: هذا يوجب نسخ السنة بالقرآن؛ لأن الحكم الأول كان ثابتا بغير القرآن ونسخه بالقرآن.
وقوله تعالى: {ذلكم قولكم بأفواهكم} يعني أنه لا حكم له وإنما هو قول لا معنى له ولا حقيقة.
وقوله تعالى: {ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم} فيه إباحة إطلاق اسم الأخوة وحظر إطلاق اسم الأبوة من غير جهة النسب؛ ولذلك قال أصحابنا فيمن قال لعبده: هو أخي: لم يعتق إذا قال: لم أرد به الأخوة من النسب؛ لأن ذلك يطلق في الدين، ولو قال: هو ابني عتق؛ لأن إطلاقه ممنوع إلا من جهة النسب. وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام".
وقوله تعالى: {وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به} روى ابن أبي نجيح عن مجاهد: {وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به} قال: "قيل: هذا النهي في هذا أو في غيره"، {ولكن ما تعمدت قلوبكم} "والعمد ما آثرته بعد البيان في النهي في هذا أو في غيره"، وحدثنا عبد الله بن محمد بن إسحاق قال: حدثنا الحسن بن أبي الربيع الجرجاني قال: أخبرنا عبد الرزاق قال: أخبرنا معمر عن قتادة في قوله تعالى: {وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به} قال قتادة: "لو دعوت رجلا لغير أبيه وأنت ترى أنه أبوه ليس عليك بأس". وسمع عمر بن الخطاب رجلا وهو يقول: اللهم اغفر لي خطاياي، فقال: "استغفر الله في العمد فأما الخطأ فقد تجوز عنك"؛ قال: وكان يقول: "ما أخاف عليكم الخطأ ولكني أخاف عليكم العمد، وما أخاف عليكم المقاتلة ولكني أخاف عليكم التكاثر، وما أخاف عليكم أن تزدروا أعمالكم ولكني أخاف عليكم أن تستكثروها"."
(سورة النور، ج: 3، ص: 464، ط: دار الكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802101452
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن