بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لے پالک بیٹی کےلیے فلیٹ کی وصیت کرنا


سوال

میں نے 24 سال قبل ایک ادارے سے ایک لڑکی کو گود لیا تھا،ہم نے اس کی پرورش کی اور وہ جوان ہوگئی ،اب وہ شادی کے لائق ہے،میرے پاس ایک فلیٹ ہے،جس میں اس وقت میں اور میری بیوی اور بچی رہتےہیں،اس فلیٹ کو میں نے اپنی بیوی کے نام کیا ہواہے،اور اس فلیٹ کو مکمل قبضہ واختیارات کے اپنی بیوی کو دے چکاہوں ،اس فلیٹ سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے،اور یہ فلیٹ اب میری بیوی کی ملکیت ہے،اور میں بطور مسافر اس گھر میں رہتاہوں ،چونکہ یہ فلیٹ مالکانہ حقوق پر ذاتی ملکیت ہے،یہ فلیٹ ہماری سوسائٹی نےالائمنٹ لیٹر پر مالکانہ حقوق کے ساتھ دے دیا ہے،اب اس فلیٹ کو میری بیوی کے انتقال کے بعد فروخت کروں گا تویہ فلیٹ ٹرانسفر نہیں ہوگا،میری  بیوی کے بہن بھائی  دستخط کریں گے تب فروخت ہوگا،یہ سوسائٹی والوں نے کہا ہے کہ ہم شریعت کے  مطابق ٹرانسفر کریں گے،لیکن میری بیٹی کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔

آپ مجھے شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ کیا میری بیوی  اپنی زندگی میں وصیت نامہ تحریر کرسکتی ہے؟اس فلیٹ کے بارے میں کہ میرے مرنے کے بعد فلیٹ میری بیٹی کا ہوگا؟میری بیوی کے والد اور والدہ کا انتقال ہوچکا ہے،میرے بھی والد اور والدہ کا انتقال ہوچکا ہے۔آپ سے گزارش ہے شریعت کی روشنی میں  رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ وصیت کرنا مستحب ہے ، اگر کسی  غیر وارث کےلیے وصیت کی جائے  تواگر تہائی مال یا اس سے کم کی وصیت کی ہے  تو ورثاء کی اجازت کے بغیر بھی وہ نافذ ہوگی،لیکن اگر غیر وارث کےلیے تہائی مال سے زیاد ہ کی وصیت کی ہے تواس کے نافذ ہونے کےلیے تمام ورثاء کی اجازت شرط ہے،اور اگر کسی وارث کےلیے وصیت کی ہے، تو وہ دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر نافذ نہیں ہوگی،اگر تمام ورثاء بالغ ہوں اور اجازت دیں تو پھر وصیت نافذ ہوجائے گی۔

لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیوی کےلیے جائز ہے کہ وہ مذکورہ فلیٹ کے بارے میں اپنی لے پالک بیٹی کےلیےوصیت نامہ تحریر کرے ،پھر اگر مذکورہ فلیٹ  سائل کی بیوی کےکل مال کا تہائی حصہ ہے تو ورثاء کی اجازت کے بغیر یہ وصیت نافذ ہوجائے گی ،لیکن اگر کل مال کے ایک تہائی حصہ سے زیادہ ہے، تو پھر تہائی مال سے زیادہ حصہ میں وصیت دیگر ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی ،اگر ورثاء اجازت دیں تو نافذ ہوگی ،لیکن اگر وہ سب بالغ ہوں اور اجازت نہ دیں تو پھر وصیت صرف ثلث (ایک تہائی )میں نافذ ہوگی اس سے زیادہ میں نہیں، بقیہ ترکہ ورثاء کا ہوگا۔

تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق میں ہے:

"(وهي مستحبة) أي الوصية مستحبة هذا إذا لم يكن عليه مستحق لله تعالى."

(كتاب الوصايا،ج:6،ص: 182،ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌ثم ‌تصح ‌الوصية ‌لأجنبي ‌من ‌غير ‌إجازة ‌الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية...«ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الوصايا،الباب الأول في تفسير الوصية،ج:6،ص: 90،دار الفكر بيروت)

البنایۃ شرح الھدایۃ میں ہے:

"ثم تصح للأجنبي في الثلث من غير إجازة الورثة لما روينا...قال: ولا تجوز بما زاد على الثلث لقول النبي عليه الصلاة والسلام في حديث سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه: «الثلث، والثلث كثير» ، بعدما نفى وصيته بالكل والنصف، ولأنه حق الورثة، وهذا لأنه انعقد سبب الزوال إليهم وهو استغناؤه عن المال فأوجب تعلق حقهم به، إلا أن الشرع لم يظهره في حق الأجانب بقدر الثلث ليتدارك تقصيره على ما بيناه وأظهره في حق الورثة؛ لأن الظاهر أنه لا يتصدق به عليهم تحرزا عما ينفق من الإيثار على ما نبينه. وقد جاء في الحديث: «الحيف في الوصية من أكبر الكبائر» وفسروه بالزيادة على الثلث وبالوصية للوارث. قال: إلا أن يجيزها الورثة بعد موته وهم كبار؛ لأن الامتناع لحقهم وهم أسقطوه. ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته؛ لأنها قبل ثبوت الحق إذ الحق يثبت عند الموت."

(كتاب الوصايا،قدر الوصية،ج:13،ص:393،ط:دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100345

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں