
میری ایک بیٹی ہے جس کی عمر سولہ سال ہے، اور وہ اپنے ماموں یعنی میرے سالے کی لے پالک ہے۔
1-کیا حقیقی والدین بلا وجہ بچی کو واپس لینے کے مجاز ہیں یا صرف کسی خاص وجہ کی بنیاد پر؟ اور اگر وہ بلا وجہ واپس لے لیں تو کیا ان پر گناہ ہوگا؟
2-کیا حقیقی والدین کو بچی کے معاملات (مثلاً رشتہ وغیرہ) میں مداخلت کا کوئی حق حاصل ہے؟ اور اگر وہ لے پالک والدین کے فیصلے سے مطمئن نہ ہوں تو آخری شرعی فیصلہ کس کا معتبر ہوگا؟
3-اگر لے پالک بچی کے حقیقی والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کا انتقال ہو جائے، تو بچی سے متعلق ان کے شرعی حقوق — مثلاً واپس لینے کا حق — کس کو منتقل ہوں گے؟
4-اور اگر وہ اپنی زندگی میں یہ وصیت کر جائیں کہ ان کے بعد بچی کے معاملات لڑکی کے حقیقی بڑے بھائی دیکھیں گے، تو ایسی وصیت کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
1۔واضح رہے کہ کسی بچی کو گود لینے سے وہ گود لینے والے کی حقیقی بیٹی نہیں بن جا تی ہے، بلکہ وہ بدستور اپنے حقیقی والدین ہی کی بیٹی رہتی ہے، حقیقی والدین بھی چاہیں اپنی بچی کو گود لینے والے سے واپس لینے کا حق رکھتے ہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ لڑکی کی والدین کو اپنی بیٹی واپس مانگنے کا حق حاصل ہے،اور لینے کی صورت میں شرعاً کوئی گنا ہ نہیں ہوگا۔
2۔ بچی جب بالغ ہوجائے، تو اس کی نگرانی، تعلیم و تربیت، اخلاقی و معاشرتی رہنمائی، اور نکاح جیسے اہم امور کی اصل ذمہ داری اس کے حقیقی والد پر عائد ہوتی ہے۔اگر حقیقی والد لے پالک والد کے فیصلوں سے مطمئن ہو، تو درست ہے، ورنہ اصل فیصلے کا اختیار اور اعتبار حقیقی والد ہی کو ہی حاصل ہوتا ہے۔
3، 4۔ جب تک مذکورہ لڑکی کی شادی نہ ہو جائے، وہ اپنے والد کی نگرانی میں رہے گی۔اگر والد مناسب سمجھے تو بچی کو واپس لے سکتا ہے۔ اگر والد موجود نہ ہو تو اس کی نگرانی دادا کرے گا، اور دادا کے بعد بھائی کی ذمہ داری ہوگی۔
البتہ، اگر والد نے اپنی وفات سے قبل اپنے بیٹے (یعنی لڑکی کے بڑے بھائی) کو بیٹی کے معاملات کا ذمہ دار بنانے کے لیے وصیت کی ہو، تو وہ بھائی "وصی" بھی شمار ہوگا۔ اس صورت میں وہ ولی ہونے کے ساتھ ساتھ وصی بھی ہوگا، اور اسے اپنی بہن کی تربیت و نگہداشت کا حق حاصل ہوگا،اور منہ بولے والد سے وصی مقدم ہوگا۔
ارشاد باری تعالی ہے:
"مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمْ اللاَّئِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحِيماً"
(الاحزاب:4ـ تا5)
ترجمہ:"الله نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور تمہاری ان بیبیوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو تمہاری ماں نہیں بنا دیا اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنا دیا یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور الله حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے ۔ تم ان کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کیا کرو یہ الله کے نزدیک راستی کی بات ہے اور اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو تو وہ تمہارے دین کے بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں اور تم کو اس میں جو بھول چوک ہو جاوے تو اس سے تم پر کچھ گناہ نہ ہوگا لیکن ہاں دل سے ارادہ کر کے کرو اور الله تعالیٰ غفور رحیم ہے۔"(ازبیان القران)
تفسیر مظہری میں ہے:
"فلا يثبت بالتبني شيء من أحكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك- وفى الاية ردّ لما كانت العرب تقول من ان اللبيب الأريب له قلبان والزوجة المظاهر منها تبين من زوجها وتحرم عليه كالام ودعى الرجل ابنه يرثه ويحرّم بالتبني ما يحرم بالنسب."
(الأحزاب، ج : 7، ص : 284، ط : الرشدية)
النہایہ فی شرح الہدایہ میں ہے:
"(ثم صحة الإذن له من وليه ووليه أبوه، ثم وصي الأب، ثم الجد أب الأب، ثم وصيه، ثم القاضي أو وصي القاضي، فأما الأم، أو وصي الأم فلا يصح منهم الإذن له في التجارة(10)؛ لأنه غير ولي له في التصرفات مطلقا، فهو كالأجنبي إلا فيما يرجع إلى حفظه؛ ولهذا لا يملك بيع عقاره، والإذن في التجارة ليس من الحفظ؛ فلهذا لا يملكه)"
(کتاب الماذون، ترتیب الولی، ج:21، ص:95، ط:مركز الدراسات الإسلامية)
فتح القدير میں ہے:
"وأولاهم أقربهم تعصيبا لأن الولاية عليه بالقرب، ولذلك إذا استغنى عن الحضانة كان الأولى بحفظه أقربهم تعصيبا، وقد عرف في موضعه: أي في الفرائض، وأولى العصبات الأب ثم الجد أبو الأب وإن علا، ثم الأخ الشقيق، ثم الأب لأب، ثم ابن الأخ الشقيق، ثم ابن الأخ لأب، وكذا كل من سفل من أولادهم، ثم العم شقيق لأب، ثم الأب. فأما أولاد الأعمام فإنه يدفع إليهم الغلام فيبدأ بابن العم لأب وأم، ثم ابن العم لأب، ولا تدفع الصغيرة إليهم لأنهم غير محارم وإنما يدفع إليهم الغلام، وإذا لم يكن للصغيرة عصبة تدفع إلى الأخ لأم ثم إلى ولده ثم إلى العم لأم، ثم إلى الخال لأب وأم، ثم لأب ثم لأم، لأن لهؤلاء ولاية عند أبي حنيفة رحمه الله في النكاح."
(كتاب الطلاق، باب الولد من أحق به، ج : 4، ص : 367، ط : دار الفكر)
فتح باب العنايۃ بشرح النقايۃ میں ہے:
"(وله) أي للولي (الاعتراض هنا) أي فيما لو زوجت نفسها من غير كفوء، بأن يطلب من القاضي التفريق بينهما للحوق العار له بمصاهرة غير الكفء، وليس هذا التفريق طلاقا، بل هو فسخ لأصل النكاح، ولهذا لا يجب عليه شيء إذا لم يدخل، ولو سكت الولي لا يكون ذلك رضا، ولو خاصم لنفقتها أو لقبض مهرها كان ذلك رضا، ولو ولدت منه، فليس للولي حق الفسخ، لئلا يضيع الولد."
( کتاب النکاح، فصل في الأولياء والأكفاء، ج : 2، ص : 31، ط : دار الأرقم بن أبي الأرقم)
بدائع الصنائع میں ہے:
" وأما ولاية الندب والاستحباب فهي: الولاية على الحرة البالغة العاقلة بكرا كانت أو ثيبا في قول أبي حنيفة وزفر وقول أبي يوسف الأول، وفي قول محمد وأبي يوسف الآخر الولاية عليها ولاية مشتركة.
وعند الشافعي هي ولاية مشتركة أيضا لا في العبارة فإنها للمولى خاصة، وشرط ثبوت هذه الولاية على أصل أصحابنا هو رضا المولى عليه لا غير.
وعند الشافعي هذا وعبارة الولي أيضا، وعلى هذا يبنى الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض."
(کتاب النکاح، فصل ولایۃ الندب والاستحباب فی النکاح، ج : 2، ص : 247، ط : سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704100573
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن