بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

لیڈو کھیلنے کا حکم


سوال

لیڈو کھیلنا جب کہ اس میں نمازوں کا خیال رکھا جائے اور شرط نہ لگائی جائے جائز ہے یا نہیں؟ اور لیڈو کا کاروبار کیسا ہے، جب کہ اس میں تصویر نہ ہو۔

جواب

لیڈو کھیلنا، چاہے شرط نہ بھی لگائی گئی ہو، درست نہیں ۔ اور اس کی خرید وفروخت ایک مکروہ کام میں تعاون ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143601200002

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے