بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لے پالک بیٹے کا میراث میں حصہ نہیں/ تقسیمِ میراث بطریق دو بطن کا مناسخہ


سوال

ہمارے والد کے پاس 120 گز کا رہائشی پلاٹ تھا، 1970 کی دہائی میں والد نے اس پر عارضی مکان بنایا، اور 1990 کی دہائی میں والد کی زندگی میں والد اور دو بڑے بیٹوں کے خرچ سے اس مکان پر مزید تعمیر کی گئی،( مذکورہ دو بھائیوں نے پیسہ مشترکہ گھر کے لیے  بطور ِ تعاون لگایا تھا،صرف اپنے لیے نہیں لیے لگایا تھا) پھر والد صاحب کا انتقال ہوگیا، ترکہ تقسیم نہیں ہوا ، والد  کے انتقال کے وقت ان کے ورثا میں ایک بیوہ،  ایک بیٹی اور چھ بیٹے تھے، اور یہ مکان ترکے میں شامل تھا۔اس کے چھ سال بعد والدہ کا انتقال ہوا، یہی ورثاء تھے، بعد میں  تقریبًا چھ سال بعد ہماری  بہن بھی انتقال کرگئیں۔ ان کے ورثا میں ان کا شوہر تھا، ان کی کوئی اپنی اولاد نہیں تھی، ایک لے پالک بچہ تھا جسے انہوں نے قومی شناختی کارڈ میں اپنا بیٹا لکھوایا ہوا تھا، اور ہم ان کے چھ بھائی تھے۔اب سوال یہ ہے:

1۔بہن کا حصہ ان کے شوہر اور لے پالک بیٹے کو ملے گا یا نہیں؟  جب کہ شوہر دوسری جگہ نکاح کر چکا ہے،اگر ملے گا تو ہر ایک کا کتنا حصہ ہوگا؟

2۔مذکورہ ہم چھ بھائیوں میں کس طرح تقسیم ہوگا؟

جواب

1۔ واضح رہے کہ  شریعتِ مطہرہ میں لے پالک اور منہ بولی اولادکی حیثیت حقیقی اولاد  کی طرح نہیں ہے اور کسی کو گود لینےیامنہ بولی اولاد بنانے سے وہ حقیقی اولاد نہیں بن جاتی اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد والے احکام جاری ہوتے ہیں ،اسی وجہ سےلے پالک اولاد کو گود لینے والے کی میراث میں سے بھی کوئی حصہ نہیں ملتا،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی مرحوم بہن کی میراث میں ان کے لے پالک بیٹے کو حصہ نہیں ملے گا۔ البتہ مرحومہ کے شوہر کو ان کی میراث میں حصہ ملے گا ، اگرچہ وہ کہیں اور نکاح کرچکا ہو،  حصہ  کی تفصیل دوسرے جزء میں آرہی ہے۔

2۔ صورتِ مسئولہ میں والدین مرحومین کی میراث تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے  مرحومین کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کےبعد اگر مرحومین  پرقرضہ ہے تو اس کو کل مال سے ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو  ایک تہائی ترکہ سے ادا کرنے کے بعد ما بقیہ کل ترکہ کو 312 حصوں میں تقسیم کر کے 50 حصے مرحومین کے ہر ایک بیٹے کو، اور 12 حصے مرحومہ بیٹی کے شوہر کے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت (والدین مرحومین) 13/ 312

بیٹیبیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹا
1222222
فوت شدہ484848484848

 

میت (مرحومہ بیٹی)2/ 24۔۔۔ مافی الید 1

شوہربھائیبھائیبھائیبھائیبھائیبھائی
11
12222222

یعنی فیصد کے اعتبار سےکل ترکہ کا  16.02فیصد مرحومین والدین کے ہر ایک بیٹے کو، اور3.84 فیصد مرحومہ بیٹی کے شوہر کو ملے گا۔

قرآن مجید میں ہے:

"وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ۔ (سورۃ الأحزاب آیة:4)."

"ترجمہ: اور تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا (سچ مچ کا) بیٹا نہیں بنادیا، یہ صرف تمہارے منہ سے کہنے کی بات ہے اور اللہ حق بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے۔"(بیان القرآن)

التفسیر المظہری میں مذکورہ بالا آیت کے تحت ہے:

"فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك."

(سورۃ الأحزاب، ج:7، ص:284، ط:المکتبة الرشیدیه باكستان)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101281

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں