بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

لے پالک بچی کی شادی کے اخراجات اور وراثت کا مسئلہ


سوال

ہم نے ایک بچی کو اس وقت گود لیا تھا ،جب اس کی عمر تقریباً دو ماہ تھی، تب سے لے کر اب تک ہم نے اس کی پرورش، تعلیم و تربیت اور نگہداشت اپنی اولاد کی طرح کی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ:

1. اس بچی کی شادی کی شرعی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی ،اس کے اصل (حقیقی) والدین پر یا ہم پر جنہوں نے اسے پالا ہے؟

2.کیا یہ بچی اپنی حقیقی والدین کےترکہ  میں شرعاً وارث شمار ہوگی  یا نہیں؟

جواب

کسی کی اولاد کولےکر پالنا، اور اس کی شادی تک کے اخراجات برداشت کرنا، نہ صرف جائز بلکہ بڑے اجر کی بات ہے، مگر کسی کو گود دینے کی وجہ سے وہ حقیقی اولاد کی طرح نہیں بنتا، لہٰذا لے پالک اولاد شرعاً پرورش کرنے والے کی میراث میں حصہ دار نہ ہوگی، بلکہ اپنے حقیقی ماں باپ کی وارث ہوگی۔  
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں لے پالک بچی کی شادی کے اخراجات شرعاً اس کے حقیقی والدین کے ذمے ہیں، البتہ اگر پرورش کرنے والے حضرات محض احسان اور نیکی کے طور پر (بطورِ تبرع) اس کی شادی کے اخراجات برداشت کریں، تو یہ ان کے لیے باعثِ اجر و ثواب ہوگا۔

مزید یہ کہ اگر اس کے حقیقی والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں فوت ہوجائیں، تو شریعت کے مطابق اس بچی کو ان ہی کا مقرر کردہ شرعی حصہ ترکے میں سے ملے گا۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و نفقة الإناث واجبة مطلقًا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، كذا في الخلاصة.

و لايجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزًا عن الكسب لزمانة، أو مرض و من يقدر على العمل لكن لايحسن العمل فهو بمنزلة العاجز، كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ج:1،ص:562، ط: دار الفكر)

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحرمیں ہے:

"(و نفقة البنت بالغة) أو صغيرة و لم يذكرها لإغناء الطفل (والابن) البالغ (زمنًا) بفتح الزاي و كسر الميم أي الذي طال مرضه زمانًا كما في المغرب أو الذي لايمشي على رجليه كما في المذهب و كذا أعمى و أشل و غيرهما فقير تجب (على الأب خاصة و به يفتى) هذا ظاهر الرواية."

(باب النفقة، نفقة البنت بالغة أو صغيرة، ج:1، ص:498، ط: دار إحياء التراث العربي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا وزمن ومن يلحقه العار بالتكسب وطالب علم لا يتفرغ لذلك، كذا في الزيلعي والعيني الخ 
(قوله كأنثى مطلقا) أي ولو لم يكن بها زمانة ‌تمنعها ‌عن ‌الكسب فمجرد الأنوثة عجز إلا إذا كان لها زوج فنفقتها عليه ما دامت زوجة وهل إذا نشزت عن طاعته تجب لها النفقة على أبيها محل تردد فتأمل، وتقدم أنه ليس للأب أن يؤجرها في عمل أو خدمة، وأنه لو كان لها كسب لا تجب عليه الخ."

(‌‌‌‌كتاب الطلاق، باب النفقة، مطلب الصغير والمكتسب نفقة في كسبه لا على أبيه، ج:3، ص:614، ط:سعيد)

وفیه ایضاً:

"(ويستحق الإرث) ولو لمصحف به يفتى وقيل لا يورث وإنما هو للقارئ من ولديه صيرفية بأحد ثلاثة (برحم ونكاح) صحيح فلا توارث بفاسد ولا باطل إجماعا (وولاء)."

 (کتاب الفرائض، ج:6، ص:762، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء وهو على ضربين: ولاء عتاقة وولاء موالاة وفي كل منهما يرث الأعلى من الأسفل ولا يرث الأسفل من الأعلى إلا إذا شرط فقال: إن مت فمالي ميراث لك؛ فحينئذ يرث الأسفل من الأعلى، كذا في خزانة المفتين."

(کتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض، ج:6، ص:447، ط:دارالفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100444

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں